انسان اور دوسری مخلوقات کی زندگی کے اندر فرق 28

انسان اور دوسری مخلوقات کی زندگی کے اندر فرق

تحریر: عبدالوحید نظامی العظیمی

کائنات کے اندر ہر چیز کا عمل ہی عمل ہے رد عمل کسی بھی چیز کے اندر نہیں ہے تمام مخلوقات فطرت سے منسلک ہیں فطرت سے ہٹ کر جو بھی کام ہو گا اس کو رد عمل کہیں گے اور اس کرہ ارض کے اندر انسان کی زندگی فطرت سے ہٹ کر گزررہی ہے ۔ اسلیے وہ تکالیف ، پریشانیوں ، بیماریوں اور مشکلات کا شکار ہے ۔ اگر انسان کی زندگی اور باقی مخلوقات کی زندگی کا تجزیہ کیا جائے تو فرق صاف نظر آتا ہے کہ انسان فطرت سے نہیں جڑا ہوا بلکہ اپنی جبلت سے منسلک ہے ۔ اور جبلت نسل در نسل منتقل ہو کر ترقی کے نام پر خود ساختہ اختراع اشرف المخلوقات کے مرتبے پر فائز ہو گئی ہے ۔ بلکہ باقی مخلوقات کی نظر میں پاگل پن ، جہالت اور بے وقوفی ہے ۔
کرہ ارض کے اوپر تقریباً تمام چوپاؤں کے خدوخال ، نقش و نگار اور جسمانی تقاضے ایک جیسے ہیں جو فطرت کی عکاسی کرتے ہیں ۔ لیکن سوائے انسان کے باقی تمام مخلوقات کی زندگی فطرت کے مطابق عمل کرتی ہے اور انسان فطرت کے مطابق رد عمل کی زندگی گزارتا ہے ۔ مثلا:بلی ، بکری ، گائے ، گھوڑی ، شیرنی ، اونٹنی بچہ پیدا کرتی ہے دودھ پلاتی ہے اور بچہ فطرت کے مطابق زندگی کے مراحل طے کرتا جوان ہوتا اپنا جوڑا بناتا ہے ۔نسل کشی کر کے زندگی مکمل کر لیتا ہے ۔
انسان کے ہاں بھی بچہ فطرت کے قوانین کے تحت پیدا ہوتا ہے لیکن انسان اس کو کپڑے پہناتا،ادویات دیتا ،ماں کو دوسری عورت دیکھتی ہے ۔ ڈاکٹر دونوں کی دیکھ بھال کرتی ہے ۔ ماں اپنا یا ڈبے کا دودھ پلاتی ہے ۔ بچہ بڑا ہونا شروع ہوتا ہے بولنا سکھایا جاتا ہے۔ سکول میں پڑھایا جاتا ہے ، کالج ، یونیورسٹی سے علم حاصل کر کے روز گارحاصل کرتا ہے بلڈنگیں بناتا ہے ، آسائش حاصل کرتا ہے ، پھر اپنا جوڑا بناتا ہے ، بچے پیدا کر کے وہ دنیا سے چلا جاتا ہے ۔
کرہ ارض کی کوئی بھی مخلوق بچوں کی پیدا ئش پر موسموں کی مناسبت سے کپڑوں کا اہتمام نہیں کرتی کیونکہ وہ فطرت سے منسلک ہیں اور فطرت ان کے مفادات کا خود تحفظ کرتی ہے ۔ کبھی بھی بکری کے بچے کو پولیو نہیں ہوتا ، نہ ہی بھینس کے بچوں کو حفاظتی ٹیکوں کی ضرورت پڑتی ہے نہ ہی بلی کے بچوں کو یرقان کی شکایت ہوتی ہے نہ کسی گینڈے کو پیچس لگے ہوں ، گدھے کو کالی کھانسی ہوتی ہو، طوطے نے عینک لگائی یا کبوتر کی آنکھ میں موتیا اتر آیا ہو ، کوّے کو قبض ہو گئی ہو، شیر کے گردوں میں پتھری آگئی ہو ، ہاتھی کے جوڑوں میں درد ہوتا ہو ، کتے کو برین ہیمرج ہو گیا ہو ، مرغی نے انڈہ آپریشن سے دیا ہو ، گھوڑے کو قوت باہ کی کمی ہو گئی ہو گدھی کو لیکوریا ہو گیا ، زرافے پر آسیب کا سایہ آگیا ہو ، ہرن پر جن عاشق ہو گیا ، چیونٹیوں پر چڑیلو ں نے حملہ کر دیا ہو انسانی زندگی اور دوسری نوع کی زندگی کا موازنہ کیا جائے تو انکشاف ہو گا انسان کا خود ساختہ اشرف المخلوقات کا نظریہ بالکل بے بنیاد اور فطرت کے مطابق نہیں ۔ کوئی مخلوق سکول ، کالج ، یونیورسٹی یا مدرسے نہیں جاتی ، تعلیم کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد نوکری کی تلاش میں نہیں پھرتی اور رزق کے لیے کسی کے ماتحت نہیں ہوتی مثلا مرغ کی سیکرٹری نہیں ہوتی ، بکرے کے ملازم نہیں ہوتے، بلی کی نوکرانی نہیں ہوتی دوسری مخلوقات میں کوئی چو ر، سپاہی وکیل جج نہیں ہوتا،لوہار ترکھان ، پلمبر ، مستری ، مزدور ، انجینئر ، ڈاکٹر ، پائلٹ ، ڈرائیور ، مالی ، جمادار کا دوسری مخلوقات کے اندر کوئی تصور نہیں ۔ نوع انسانی نے مادی اشیاء سے نئی نئی چیزیں ایجاد کر کے ترقی اور خوشحالی کا خود ساختہ دلفریب نظام کو تعلیم کا نام دیا ہے ۔ جبکہ کسی بھی نوع کو کسی علم کی ضرورت نہیں چونکہ ایجاد کو ضرورت قرار دیا گیا اور ضرور ت صرف نوع انسانی نے اپنے لیے قرار دی جبکہ فطرت کے نظام میں ان کا کوئی علم دخل نہیں اور بلکہ فطرت کے نظام میں خلل ڈال دیا گیا جو نوع انسانی اور باقی مخلوقات کے لیے تباہی کا سبب بن رہا ہے ۔
انسان کی زندگی اور اسکی ضروریات پوری کرنے کا طریقہ کسی بھی طرح فطرت سے ہم آہنگ نہیں ۔ جبکہ فطرت نے اس کو احسن تقویم پر تخلیق کیا ہے ۔ اگر فطرت کے مقاصد پورے کر دے تو وہ اپنی بہترین زندگی خلیفۃ الارض سے مستفید ہو سکتا ہے ۔ جس طرح پودے ، درخت جڑی بوٹیاں ، پھل ، پھول الگ مخلوق ہیں۔ شیر، چیتا ، ہاتھی ، کتا ، بھینس ، بکری ، بلی الگ مخلوق ہے ان انسانی زندگی میں کوئی عمل دخل نہیں ہے ۔ انسان نے یہ عمل دخل خود ہی دوسری مخلوقات کی زندگی کے اندر دے کر اپنی اور دوسری نوعوں کو اضطراب و پریشان میں مبتلا کیا ہوا ہے ۔ وائرس ، بیکٹریا ، جراثیم کیڑے مکوڑے انسانی زندگی پر اسلئے اثر انداز ہو تے ہیں ۔ انسان ادویات کیمیکل اور دوسرے مادی اجزاء سے ایسی اشیاء بنا رہا ہے جو کرہ ارض کی نظام حیا میں خلل اور مصیبت بنتا جا رہا ہے ۔ وجہ صرف یہی ہے کہ وہ جس فطرت پر تخلیق ہوا اس پر نہیں چل رہا جسکی وجہ سے وہ پریشانی ، اضطراب اضملال ، بیماریوں ، جسمانی ذہنی اور روحانی پیچیدگیوں کا شکار بلکہ دوسری انواع کے لیے بھی خطرہ بنتا جا رہا ہے ۔ احسن تقویم کیا ہے ۔
’’اگر انسان اللہ کے سکھائے ہوئے علم سے کائنات کو چلائے تو احسن تقویم کے مرتبہ اعلیٰ علین پر فائز ہے اور اگر وہ کائنات کو اپنی ضرورت کے لیے استعمال کرے تو وہ اسفل سافیلن میں گر جاتا ہے ۔ ‘‘
اس بات کو ذرا وضاحت سے سمجھیں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی صفات پر تخلیق کیا اور اسے اپنی صفات علم الاسماء کی صورت میں سکھائیں ان اسماء سے پوری کائنات کو تخلیق کیا جا سکتا ہے ، مسخر کیا جا سکتا ہے اور نئی نئی کائناتیں وجود میں لائی جا سکتی ہیں اور ان پر حکمرانی قائم کی جا سکتی ہے ۔ اسلیئے وہ اللہ کا نائب ہے ۔ اب اگر انسان علم کا استعمال نہ کرے اور پہلے سے موجود مادی کائنات کے اپنے استعمال مین لانے کی تراکیب کرنی شروع کر دے تو وہ نہ صرف ان اشیاء کا محتاج ہو جائے گا بلکہ مخلوقات کے پست ترین درجے پر جا گرے گا ۔
تمام الہامی کتب اور تمام انبیاء کرام ، مرسلین اور اولیاء انسان کو احسن تقویم کے مرتبے پر فائز کرنے کے لیے معبوث کیے گئے ہیں ۔ آخری الہامی کتاب کے اندر جگہ جگہ احسن تقویم کے علم کی نشاندہی کی گئی ہے جس پر عمل کر کے انسان اللہ کا خلیفہ بن سکتا ہے ۔ موجودہ دور میں اللہ کے برگزیدہ بندے نے نوع انسان کے شعور کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک فارمولہ بیان فرمایا ہے ۔ جس پر تفکر کر کے انسان اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز ہو سکتا ہے ۔ روحانی سائنس کے اس فارمولے کو یوں بیان کرتے ہیں ۔

“Nature mean motion of waves, a specfic ratio has between length of speed and motion , length of motion or waves create space long space have different speed and identify of creater”
’’فطرت سے مراد لہروں میں حرکت کی رفتار اور طوالت کا مخصوص تناسب ہے ، لہر ( حرکت) میں طوالت سے اسپیس تخلیق ہوتی ہے ۔ ہر اسپیس کی رفتار منفرد ہے اور یہ انفرادیت تخلیقات کی پہچان ہے ۔‘‘
سائنس نے اب تک حرکت کی مختلف حالتیں واضح کی ہیں ۔
(الف)۔فزکس میں ۴ بنیادی حرکات ہیں ۔
۱۔سیدھی لائن میں حرکت
۲۔دائروی لائن میں حرکت
۳۔کسی بھی سمت میں حرکت
۴۔جھنکار کی حرکت
۱۔سیدھی لائن میں حرکت(Translatory Liner Motion) کی حالتوں میں گاڑی کا سیدھا چلنا ، پستول کی گولی کا نکلنا ، جہاز کا چلنا وغیرہ شامل ہے ۔
۲۔کروی حرکت (Rotatory Motion) کی حالتوں میں پہیئے کا گھومنا ، سیٹلائیٹ کا زمین کے گرد گھومنا ، پنکھے کا گھومنا، لٹو کا گھومنا ، گولائی میں حرکت اور کسی جسم کا ایک جگہ فکس ہو کر گھومنا ایک ہی حرکت کی دو قسمیں ہیں ۔
۳۔ لرزش میں حرکت(Vibratory Motion) کی حالتوں میں موبائل کی وائبرئیشن ، گٹار کی تاروں میں لرزش یا وائبریشن ، چمٹے کی وائبریشن یا لرزش وغیرہ شامل ہیں ۔
۴۔ بغیر سمت کے حرکت (Random Motion) اس حرکت میں کسی چیز کی سمت کا تعین نہیں ہوتا مثلاً کمرے کے اندر بال کو اچھالا جائے تو وہ فرش اور دیوار وں سے ٹکڑا کر اِدھر اُدھر جاتا رہتا ہے ۔
حادثے میں گاڑی الٹتی ہے تو اس کے حرکت بھی بغیر سمت ہوتی ہے ۔
فزکس کے اندر نیوٹن کے حرکت کے قوانین ، آئن سٹائن کے فارمولے سٹیفن یاکنگ کے نظریات اور دوسرے سائنس دانوں کی تحقیق تفصیل سے موجود ہے ۔ اگر ہم سائنس کی بیان کردہ تمام حرکات کا تفصیلی مشاہدہ کریں تو ہمارے سامنے یہ بات آئے گی کہ مٹریل یا مادہ ایک ہی ہے جبکہ اسکے ماس(Mass)یا جسم کو سامنے رکھ کر سمتوں کا تعین کیا گیا ۔ جسم کا سمتوں کی طرف جانا حرکت کے زمرے میں آتا ہے ۔
سائنس میں بیان کردہ جتنی بھی حرکات ہیں ان میں دو چیزوں کا ہونا بہت ضروری ہے ۔
(۱)۔ توانائی ،طاقت یا قوت (۲) فاصلہ یا اسپیس
اگر ان میں کوئی بھی ایک چیز نہ ہو تو حرکت اپنا مظاہرہ نہیں کر سکتی یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی بڑے سے بڑا سائنسدان بھی انکار نہیں کر سکتا ۔ فزکس میں سپیڈ ، ولاسٹی ، اسراع اور حرکت کے بہت سے فارمولے موجود ہیں لیکن یہاں ہم نے ایک اللہ کے دوست روحانی سائنسدان کے فارمولے کو سمجھنے کی کوشش کرنی ہے ۔ جو دراصل فطرت سے ہم آہنگ کرتا ہے ۔
ہم پوری کائنات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ سورج ، چاند، ستارے، جمادات ، نباتات اور حیوانات سب کے سب حرکت کر رہے ہیں ۔ اور ان کی حرکت اسپیس کے اندر واقع ہو رہی ہے ۔
اسپیس یا خلاء کے اندر انرجی ، طاقت ، قوت جب بھی آپس میں ٹکرائے گی تو ہمیشہ تین چیزیں پیداہوں گی ۔ اس اسپیس یا خلاء کے اندر ان کا مظاہرہ بھی ہو گا ۔
۱۔ آواز
۲۔ روشنی
۳۔حرارت
یہ سب انرجی کی طوالت یا شدت پر منحصر ہوتی ہیں ۔
انرجی کی ایک طوالت کا نام سننا ہے ۔
دوسری طوالت کا نام دیکھنا ہے ۔
تیسری طوالت کا نام محسوس کرنا ہے ۔
مادے کی جتنی بھی حالتیں ہیں ان کی بھی تین طوالتیں ہیں ۔
ایک طوالت کا نام لمبائی
دوسری طوالت کا نام چوڑائی
تیسری طوالت کا نام موٹائی ہے ۔
یہ تینوں طوالتیں دراصل ایک ہی ہیں ۔ لیکن مادے کی شکل و صورت کو سمجھنے کے لیے واضح کی گئیں ہیں جو مادے کی مقداروں یا عددوں کا تعین کرتی ہیں ۔ پیمائش حجم کو ظاہر کرتی ہیں ۔ آواز ، روشنی حرارت اور لمبائی چوڑائی موٹائی ملکر مادی وجود کوہمارے حواس کی طوالتوں میں ظاہر ہوتی ہیں ۔
سائنس اب تک تمام مادی اشیاء کی لمبائی ، چوڑائی ، موٹائی اور ٹھوس مائس گیس روشنی کی اکائیاں سامنے لا چکے ہیں۔ یہاں تک انرجی حرارت ، قوت یا طاقت کی اکائیاں بھی وجود میں آ چکی ہیں ۔ ہمارے حواس اور مادے کی تمام اکائیاں فطرت کے مقاصد کو پورا کرتی ہیں ۔ فطرت جن اشیاء کر تخلیق کرتی ہے ۔ ان کے اندر کی قسم کی مزاحمت یا رد عمل نہیں ہوتا اور ہمارے حواس اس فطرت کے مطابق کے قبول کر لیں توجنت ، خوشی اور اطیمنان کی زندگی یا حرکت کہلائے گی ۔ اگر اس کے برعکس ہے تو جہنم اور طوف و غم کی یلغار مسلط ہو گی ۔
اب سوال یہ ہے کہ اسپیس کے اندر طاقت کہاں سے نمودار ہو رہی ہے ۔ اس کا منبع کیا ہے اور یہ کس طرح واقع ہو رہی ہے ۔ اس سوال کا جواب مادی سائنس کے پاس نہیں جبکہ روحانی سائنس اس کا باقاعدہ فارمولا بتاتی ہے ۔ خلاء ، اسپس ، یا فاصلے کے اندر یہ طاقت فطرت کی شکل میں کام کر رہی ہے ۔ اس طاقت سے نکلنے والی لہریں مادے کو تخلیق کرنے کا سبب بن رہی ہے ۔ لہروں کے اندر یہ خاصیت موجود ہے کہ اس کے اندر ہرچیز کی مقداریں مادے کو شکل و صورت دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں ۔
اللہ کے دوست فرماتے ہیں ۔
فطرت سے مراد لہروں میں حرکت کی رفتار اور طوالت کا مخصوص تناسب ہے ۔ اور (حرکت) میں طوالت اسپیس تخلیق ہوتی ہے ہر اسپیس کی رفتار منفرد ہے اور یہ انفرادیت تخلیقات کی پہچان ہے ۔
یکسو ہو کر دوبارہ پڑھیئے ۔۔۔ حرکت کی لاشمار طوالتوں سے لاشمار تخلیقات وجود میں آتی ہیں ۔ ان کا عدد مجموعہ مقداریں ہر نوع اور فرد کے لیے الگ الگ ہیں ۔ اگر ایک مخلوق سبز رنگ کی تین مقداروں سے بنی ہے تو اس فارمولے سے دوسری مخلوق وجود میں نہیں آتی ۔ اللہ نے تخلیقی فارمولے متعین کر دیئے ہیں ۔ جن میں تبدیلی نہیں ہے اس کو اللہ نے فرمایا کہ قائم ہو جاؤ اس فطرت پر جو تمہارے لیے متعین ہے ۔ اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جا سکتی ۔
اس بات کی وضات کے لیے ابدال حق حسن اخرمی حضور قلندر بابا اولیاء اپنی کاب لوح و قلم کا صفحہ ۱۷۵ پر فرماتے ہیں ۔
عالم رنگ سے مراد کائنات کے وہ تمام مادی اجسام ہیں جو رنگوں کی اجتماعیت پر مشتمل ہیں ۔ یہ اجسام لا شمار نگوں میں سے متعدد رنگوں کا مجموعہ ہوتے ہیں ۔ یہ رنگ نسمہ کی مخصوص حرکات سے وجود میں آتے ہیں نسمہ کی متعین طوالت حرکت سے ایک رنگ بنتا ہے ۔ دوسری طوالت حرکت سے دوسرا رنگ اس طرح نسمہ کی لاشمار طوالتوں سے لاشمار رنگ وجود میں آتے ہیں ۔ ان رنگوں کا الف عددی مجموعہ متعین ہے ۔ تو اس الف عددی مجموعہ سے ہمیشہ گلاب میں وجود میں آئے گا کوئی اور شے وجود میں نہیں آئے گی ، اگر آدمی کی تخلیق رنگوں کی جیم تعداد سے ہوتی ہے تو اس تعداد سے کوئی دوسرا حیوان نہیں بن سکتا ۔ صرف نوع انسانی ہی کے افراد وجود میں آ سکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اس قانون کو واضح طور پر بیان فرمایا ہے ۔ سورہ روم کی آیت نمبر ۳۰ میں ارشاد ہے ۔
’’ترجمہ : پس یکسو ہو کر اپنا رخ اس دین کی سمت میں مرکوز کر دو ، قائم ہو جاؤ اس فطرت پر جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جا سکتی یہی درست اور درست دین ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے ۔ ‘‘
اس آیت میں فطرت سے مراد نسمہ کی حرکت کا طول ، رفتار اور اس کا ہجوم ہے ۔ عالم رنگ میں جتنی اشیاء پائی جاتی ہیں وہ سب رنگین رشنیوں کا مجموعہ ہیں ان میں رنگوں کے ہجوم سے وہ شئے وجود میں آتی ہے جس کو عرف عام میں مادہ کہا جاتا ہے ۔
روحانیتکے اس قانون کی تصدیق سائنس بھی کرتی ہے ۔ چونکہ فطرت لہروں میں حرکت کرتی ہے اس لہر کو سائنس الیکٹرون ، پروٹان اور نیوٹران کی شکل میں دیکھتی ہے ۔
انہی اجزاء کی حرکات سے مادہ وجود میں آتا ہے سائنس کی اصطلاح میں ان اجزاء کو ایٹمی نمبر ، ایٹمی ماس اور ایٹمی وزن کا نام دیا جاتا ہے ۔
نیوکلیس میں موجود پروٹان کی تعداد ایٹمک نمبر(Atomic Number) کہلاتی ہے ۔ نیوکلیس میں موجود پروٹان اور نیوٹران کی تعداد ایٹمی ماس (Atomic Mass)کہلاتی ہے ۔ اگر کسی ایٹم کے اندر پروٹان کی تعداد تبدیل ہو جائے تو اس کی ہیئت اور ماس کے اندر تبدیلی آ جاتی ہے اور اس چیز کے خواص بھی تبدیل ہو جاتے ہیں ۔
مثلا ً اگر لیتھیم (Li) کے اندر پروٹان کی تعداد 3 ہے اگر اس کے 5 پروٹان اور بڑھ جائیں تو یہ آکسیجن (o) میںتبدیل ہو جائے گی ۔
اگر کیلیشم (Ca) میں پروٹان کی تعداد 20 ہے اور اس کے اندر سے 8پروٹان کم کر دیئے جائیں تو وہ میگنیشیم (Mg) میں بدل جائے گی ۔
فطرت نے جس چیز کو تخلیق کرنا ہے اسکی لہروں میں حرکت سے وہی چیز وجود میں آئے گی اگر لہروں میں 3 حرکت سے سبز رنگ وجود میں آتا ہے تو تین حرکت سے سرخ رنگ مظہر نہیں بنے گا ۔ گویا فطرت کے اندر تبدیلی نہیں ہوئی ۔
اگر گلاب کے اندر لہر ، نسمہ یا رنگ کا عددی مجموعہ الف ہے اور اسکی تعداد جیم کر دی جائے تو گلاب انسان میں تبدیل ہو جائے گا اور اگر انسان کے اندر عددی مجموعہ الف ہو جائے تو گلاب وجود میں آئے گا ۔
فطرت پر قائم ہونے سے مراد اسپیس اور خلاء میں موجود کائنات کو سنبھالنے اور چلانے والی طاقت کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنا ہے ۔ انبیاء کی سنت تفکر یا مراقبہ کے ذریعے فطرت کے اندرراسخ ہوا جا سکتا ہے ۔ حضور قلندر بابا اولیاء فرماتے ہیں ۔

کٹھ پتلی ہے یہ نوع ہماری ساقی
حرکت ہے اشارات پر ساری ساقی
اٹھتی ہے تحریک تو پیتے ہیں ہم
ور نہ کیا ہے بساط ہماری ساقی
اور دوسری روباعی میں فرماتے ہیں ۔
معلوم ہے تجھ کو زندگانی کا راز
مٹی سے یہاں بن کے اڑا ہے شہباز
اس کے پروپرزے تویہی ذرے ہیں
البتہ صناع ہے اس کا دم ساز
ان دونوں رعبایات کے اندر حرکت یا زندگی کو واضح کیا گیا ہے جوتخلیقات کو معرض وجود میں لیکر کرتی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں