Urdu Poetry 54

آسماں سے اُتر نہیں سکتا

اردو غزل

جعفر سلیم

آسماں سے اُتر نہیں سکتا
میں تو سورج ہوں مر نہیں سکتا
اپنی چاہت پہ اب بھی قائم ہوں
اُن کی نفرت سے ڈر نہیں سکتا
پھر اُسی ہاتھ میں ترازو ہے
وہ جو انصاف کر نہیں سکتا
میرے کردار پر تو دشمن بھی
کوئی الزام دھر نہیں سکتا
کوئی اشعار کی زمینوں سے
پیٹ بچوں کا بھر نہیں سکتا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں