حق مہر 33

بیٹی کے لیے حق مہر کیا لیا جائے ۔۔۔۔۔۔

اگر آپ اپنی بیٹی کے لیے خود اور آپکی بیٹی اپنی رضامندی سے  اپنی خوشیوں بھری زندگی کے لیے حق مہر میں بجاے پیسہ بنگلہ اور کار کے لیے سائن کروانے کے عزت محبت اور احترام کے لیے ساتھ مانگ لے تو وہ زیادہ خوش رہ سکتی ہے اس سے بہتر کہ اسکے پاس گھر گاڑی بنگلہ تو ہو پر اور کچھ بھی نہیں ہم نے آج ہر رشتے کو پیسے کا نام دے دیا ہوا یہی وجہ کے طلاق کھیل بنتی جا رہی ہے ہمارے معاشرے میں حق مہر لکھواتے ہوئے جب یہ زیادہ پیسے کا سودا کیا جائے گا۔۔۔ کل کیونکر  آپکی بیٹی کو زیادہ عزت ملے گی جبکہ اسکو طعنہ دیا جاے گا ک پیسے دے کہ لے آئے ہیں آپکو۔۔۔ اس لیے عزت محبت اور احترام کو حق مہر بنائیں گھر خوشیوں سے چلتے ہیں پھر رہنے کو ایک چادر کیوں نہ ہو یا ایک محل جتنی محنت ان محلوں کو بنانے میں لگتی ہے پھر اس محل میں رہنے والے انسان کا دل ایک پتھر سے کم نہیں ہوتا وہ جب جہاں جسکو چاہے توڑ دے۔۔۔ اپنی اولاد کو رسک مت سمجھیں کہ شائد اچھا ہو گا اس لیے خوب تحقیق کر لیا کریں بڑوں کی کہاوت مشہور ہے جو سچ پہ مبنی ہے ہر چمکتی چیز اندر سے بھی چمکدار ہو کچھ کہ نہیں سکتے ہزاروں واقعات آپ سب کے سامنے رونما ہو رہے یہ مت کہیں کہ بیٹے یا بیٹی کا قصور تبھی یہ سب ہوا کوئی بیٹی نہیں چاہتی گھر سے دہلیز پار کرنے کے بعد کہ اپنے والدین کے لیے بوجھ بنے جانئیےحق کو اور حقائق کا خوب اندازہ لگا لیا کریں کیونکہ طلاق اگر خوشی کا نام ہو تو کوئی بچی مریض نہ بنے ہمارے ملک پاکستان میں %60کے قریب مریض طلاق یافتہ بچیاں ہیں جو کہ بعد میں مینٹل کیس کا نام دے دیا جاتا ہے ڈپریشن سڑیس جیسی بیماریاں خود سے پیدا نہیں ہوتی انسانوں کی انسانوں کے لیے پیدا کردا ہیں بے شک ہر چیز کا حساب لیا جائے گا  ۔۔۔۔۔۔

جزاک اللہ

رائٹر ۔۔۔۔ماہر نفسیات و سپیچ تھراپسٹ شگفتہ اقبال

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں