حسن اُخریٰ 32

حسن اُخریٰ“ کی روحانی تشریح”

٭حضور قلندر بابا اولیاء کے عرس مبارک کی مناسبت سے تحریر ٭

تحریر عبدالوحید نظامی العظیمی

حضور نبی کریم ﷺ کی دعائے ماثورہ ہے کہ ”اے اللہ تجھے ان اسماء کا واسطہ جو تو نے مجھ سے پہلے لوگوں پر ظاہر فرمائے، اے اللہ تجھے ان اسماء کا واسطہ جو تو نے مجھے پر ظاہر فرمائے، اے اللہ تجھے ان اسماء کا واسطہ جو تو میرے بعد لوگوں پر ظاہر فرمائے گا اے اللہ مجھے رفیق اعلیٰ سے ملا دے ۔ “اسم ہمیشہ کسی جسم کا ہوتا ہے یعنی کسی وجود یا چیز کی خوبی پر جو اسکی صفت ہوتی ہے نام رکھا جاتا ہے، پوری ائنات اللہ کے اسماء یعنی صفات پر کام کر رہی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی صفات لامتناہی ہے اس طرح کائنات بھی لا متناہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کی تلاش میں اللہ تعالیٰ کو عبادت میں دیکھنا ”مرتبہ احسان“ کہلاتا ہے ۔ یعنی مرتبہ احسان یہ ہے کہ آپ اللہ کو دیکھ رہے ہیں یا اللہ آپ کو دیکھ رہا ہے، دراصل یہ دونوں کیفیّات ایک ہی ہیں ۔ مرتبہ احسان کا حامل بندہ جب کسی کو اللہ کی صفات سے متعارف کرواتا ہے تو اس بندے  کو روحانیت میں ”محسن“  کہتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جن کے متعلق قرآن میں فرمایا گیا کہ” اللہ کی رحمت محسنوں کے قریب ہے“ اور وہ محسنین کو پسند کرتا ہے ۔ مرتبہ احسان میں رہتے ہوئے لاکھوں اولیاء کرام نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا اور کسی بھی اولیاء اللہ نے اللہ تعالیٰ کو ایک حالت میں یا ایک جیسا نہیں دیکھا یہ بات  اللہ تعالیٰ کی لامتناہی صفات  کو ظاہر کرتی ہے ۔ اس  بنا پر ہر بندے  کا مشاہدہ الگ الگ ہے ۔ مرتبہ احسان  میں رہتے ہوئے ہزاروں اولیاء اللہ نے نہ صرف اللہ کو دیکھا بلکہ اللہ کی آواز بھی سنی ایسے اولیاء  اعلیٰ درجے میں فائز ہوتے ہیں ۔ کچھ ایسے اولیاء اللہ بھی ہوئے ہیں  جنہوں نے نہ صرف اللہ تعالیٰ  کو دیکھا  بلکہ اللہ کی آواز بھی سنی اور اللہ تعالیٰ سے ہم کلام بھی ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہر وقت حاضر رہتے ہیں  انہیں ”مقربین“ کہتے ہیں ۔ تصوف اور روحانیت کی تاریخ  میں یہ بات کبھی سامنے نہیں آتی کہ کسی نے اللہ تعالیٰ کے لمس کو محسوس کیا ہو ۔  حضور قلندر  بابااولیاء رحمۃ اللہ علیہ  کو اللہ تعالیٰ نے اپنے سینے لگا کر فرمایا” میری جان  تو کدھر ہے “اللہ تعالیٰ کا لمس کیسا تھا اللہ تعالیٰ کے لمس کی کیفیّات کیا ہیں یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ یا قلندر بابا اولیاء  رحمۃ اللہ علیہ ہی جانتے ہیں ۔ حضور قلندر بابا اولیاءؒ کے اس مشاہدے ، مقامات   اور درجات کی بناء پر نبی کریم ﷺ نے ان کو” حسن اُخریٰ“ کا خطاب عطا فرمایا ۔ جس کا مطلب ہے کہ مرتبہ احسان کے اندر رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی ذات کو انتہائی اور آخری  حدوں میں دیکھنے والا اور محسوس کرنے والا ۔ حضور قلندر بابا اولیاء  رحمۃ اللہ علیہ حضور نبی کریم ﷺ کے تمام تکوینی امور کے نائب ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

حسن اُخریٰ“ کی روحانی تشریح”” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں