میٹا فزکس 27

حضور بابا تاج الدین ناگپوری ؒاور میٹا فزکس

حضور بابا تاج الدین ناگپوری ؒاور میٹا فزکس

تحریر: عبدالوحید نظامی العظیمی

حضور نانا تاجد الدین ؒانسانی تاریخ گواہ ہے کہ روحانی علوم ہمیشہ سینہ بہ سینہ مخصوص لوگوں میں منتقل ہوتے رہے ہیں ۔ عوام الناس کے اندر روحانیت کو قصے کہانیوں تک محدود رکھا گیا ہے ۔ روحانی علوم کیا ہیں ان کو کیسے سیکھا جا سکتا ہے اور روحانی علوم کی ٹیکنیک اور طریقہ یا میکانزم کیا ہے ۔ پہلی مرتبہ ان عظیم ہستیوں نے عوام الناس میں پریکٹیکل کی شکل میں متعارف کرایا ہے ۔
نانا تاج الدین نے روحانی علوم کو سائنسی طریقے سے متعارف کرایا ۔ قلندر باب اولیاء نے روحانی علوم کے اسباق اور کلاسیں تیار کیں ۔ حضور خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے ان کو مشقوں اور فارمولوں سے عوام کے اندر راسخ کیا ۔
نوع انسانی کی تاریخ گواہ ہے کہ روحانی علوم کو پچھلے دس ہزار سال میں اس انداز میں نہیں سکھایا گیا ۔ سائنس یہ بات ژابت کر چکی ہے کہ کائنات کا جزو ایٹم تین بنیادی اجزاء پر مشتمل ہے ۔
(۱) ۔ الیکٹران ۔ منفی چارج
(۲) ۔ پروٹان ۔ مثبت چارج
(۳) ۔ نیوٹران دونوں کے درمیان غیر جانبدار چارج یا نیوٹرل چارج
سائنس کے اس فارمولے کو حضور نانا تاج الدین ناگپوری نے تین مخلوقات سے منسوب فرمایا ہے ۔
الیکٹران یعنی جنات ، منفی دخان ، منفی چارج یا نمک ہیں ۔
پروٹان یعنی انسان مثبت دخان ، مثبت چارج یا مٹھاس ہے ۔
نیوٹران فرشتہ نہ مثبت ہے اور نہ منفی بلکہ دونوں کے خواص کا حامل ہے
جنات انسان اور فرشتہ یہ تین اجزاء ، تین تفکر یا دخان کی تین حالتیں کائنات کو جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں ۔ کرہ ارض کے اندر تین ہی ذائقے ہیں (ا) ۔ نمک (۲) مٹھاس (۳) کھٹاس
نمک جنات کی صفات رکھتا ہے ۔
مٹھاس انسانوں یعنی مٹی کی صفات کا حامل ہے ۔
کھٹاس نمک اور مٹھاس کی ماہیت تبدیل کرتا ہے یعنی اگرکھٹاس کے اندر نمک ڈالا جائے تو ذائقہ میں مٹھاس کا اثر پیدا کرتا ہے اور اگر کھٹاس کے اندر میٹھا ڈالا جائے تو ذائقہ میں نمک کے اثرات آتے ہیں ۔ کھٹاس فرشتہ ہے یعنی دونوں کا ملخص ہے مطلب دونوں خواص تبدیل کر سکتا ہے ۔ انسان جو کچھ بھی کھاتا ہے اسکی خوراک کا 90% فی صد گلوکوز یا مٹھاس ہوتی ہے ۔ اس کے جسم سے خارج ہونے والی ہر چیز میں 90%نمک ہوتا ہے ۔ یعنی گلوکوز جسم کے اندر جا کر نمک میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔ جسم کے اندر گلوکوز کو نمک کے اندر تبدیل کرنے والی برقی روخیالات کے ذریعے جسم کے اندر داخل ہوتی ہے ۔ اگر دماغ کے اندر خیالات کے اندر بگاڑ نہیں ۔ تو گلوکوز جسم کے اندر مقداروں کے ساتھ نمک میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔ اگر خیالات کے اندر انتشار ہے تو جسم کے اندر بلڈ پریشر یا شوگر کے امراض پیدا ہو جاتے ہیں ۔ برقی رو کے ذریعے اگر گلوکوز کی مقدار کی تھوڑ پھوڑ کم ہو تو شوگر کا مرض پیدا ہوتا ہے اور اگر گلوکوز کی مقدار زیادہ ٹوٹ جائے تو جسم میں نمک کی زیادتی سے بلڈ پریشر کا مرض لاحق ہو جاتا ہے ۔ حضور نانا تاج الدین ناگپوری ؒ کے فارمولے کے مطابق اگر تفکر نیوٹرل ہو جاتے یعنی مسلسل تفکر بندے کو غیب یا کائناتی لاشعور میں داخل کر کے ہر طرح کے مصائب و آلائم اور بیماریوں سے نجات دے دیتا ہے ۔ حالانکہذہن کو آزاد رکھنے یا خیالات کم کرنے کے لیے دونوں امراض میں ڈاکٹر سیر تجویز کرتے ہیں ۔ سیر کا مطلب بندے کو زیادہ سے زیادہ خیالات سے آزاد کرنا ہے ۔
جسم کے اندر برقی رو کا نظام لہروں کی شکل میں کام کرتا ہے یہ لہریں جسم کے اندر ایٹم یا سیل کے بنیادی اجزاء کے طور پر کام کرتی ہیں ۔ ان لہروں سے کیمیکل تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں ۔ ان لہروں کو ہم الیکٹران ، پروٹان یا نیوٹران کے علاوہ کوئی نام نہیں دے سکتے ۔
الیکٹران ، پڑوٹان اور نیوٹران کی لہریں ایک دوسرے سے تبادلہ کرتی ہیں تو مادے کے اجزاء مالیکیول میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور یہ مالیکیول مختلف مقداروں کے ساتھ مادے کی مختلف حالتوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں ۔ گویا جنات ، فرشتہ اور انسان کی انا کی لہریں جب کائنات کے اندر آپس میں ٹکراتی ہیں تو ان لہروں سے مادے کی مختلف حالتیں وجود میں آتی ہیں ۔ اگر انسان اپنے اندر نمک اور مٹھاس ختم کر دے تو وہ فرشتہ کی صفت اختیار کر لیتا ہے ۔ اگر جن اپنے اندر نمک ختم کر لے تو وہ فرشتہ کا روپ اختیار کر لیتا ہے اور میٹھا کھانے سے اس کے اندر انسانوں کے خواص پیدا ہو جاتے ہیں ۔
اگر فرشتے کے اندر نمک آجائے تو وہ جن کا روپ اختیار کر لیتا اور اگر مٹھاس کے زیر اثر آجائے تو انسانی خدوخال اختیار کر لیتا ہے ۔
زمین کے اندر ایٹم کی یہ حیثیت مشاہدے میں آ چکی ہے ۔ جدید سائنس میں ایٹم کا عکس اینٹی ایٹم ( Anty Atom) کی دریافت سے کائنات کا نیا روپ سامنے آیا ہے ۔ اس کو (Anty universe ) نظریہ بھی کہا گیا ہے ۔اینٹی ایٹم کے اندر بیرون نمبر(Byron No.) اور اجزاء لپٹان Lapton کی اصلاح استعمال کی گئی ہے ۔
اینٹی میٹر یا اینٹی ایٹم کے اجزاء ایٹم یا میٹر کے الٹ کام کرتے ہیں ۔
اینٹی یونیورس یا اینٹی ایٹم میں الیکڑان کی حیثیت منفی ہی رہتی ہے لیکن پروٹان نیوٹران کے اندر تبدیل ہو جاتے ہیں اور نیوٹران پروٹان کا کردار ادا کرنا شروع کر دیتے ہیں یعنی اینٹی ورلڈ مادہ لہروں میں تبدیل ہو جاتا اور مادی دنیا میں لہریں مادہ میں تبدیل ہو جاتی ہیں ۔
سائنس کی اس دریافت اور حضور نانا تاج الدین ناگپوری کے فارمولے کو سامنے رکھے تو قرآن کی روشنی میں یہ بات حقیقت کا روپ اختیار کر لیتی ہے ۔
اینٹی ورلڈ یعنی آسمانی دنیا میں بھی تین ہی مخلوقات ہیں ۔ قرآں کی آیات کے مطابق جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو فرشتوں نے سجدہ کر دی ا لیکن ابلیس جو جنوں میں سے تھا سجدہ نہیں کیا ۔
اب حضور نان تاج الدین ناگپوری ؒ کے فارمولے کے مطابق اینٹی ورلڈ مین اینٹی ایٹم کی شکل پر بھی
جن یا ابلیس منفی دخان یا منفی چارج ۔ الیکٹران
فرشتہ مثبت دخان ۔ پروٹا ن
انسان غیر جانبدارانہ دخان یا نیوٹرل دخان ۔ نیوٹران آسمانی دنیا میں انسان کا کردار غیر جانبدار ہے یعنی اس کو کسی نے سجدہ کیا یا نہ کیا کوئی فرق نہیں پڑا ۔
فرشتوں کا اکردار مثبت تھا ۔
جن کا کردار منفی تھا ۔
اگر سائنسی تحقیق اور حضور نانا تاج الدین ناگپوری کی تعلیمات کے مطابق دیکھا جائے تو یہ بات شعور میں آسانی سے آجاتی ہے ۔ ایٹم یا اینٹی ورلڈ میں بنیادی عناصر تین ہی ہیں ۔ دونوں دنیاؤں کے اندر نیوکلیس جن کے گرد یہ اجزاء گھومتے ہیں وہ اللہ کی ذات ہے ۔ ایٹم کے اندر نیوٹران چاہے وہ مادی دنیا کا ہو یا غیر مادی دنیا کا ہمیشہ نیوکلیس کے گرد ہی رہتا ہے اگر انسان کسی طرح اپنے آپ کو اس دنیا کے اندر رہتے ہوئے نمک اور مٹھاس سے باہر آجائے یعنی وہ نیوٹرل ہو جائے تو وہ اینٹی ورلڈ یا اس دنیا میں اللہ کے ہمیشہ قریب رہے گا ۔ انسان کا منفی یا مثبت خیالات سے باہر ہو کر غیر جانبدار ہو کر سوچنے سے اس کا شعور اللہ کی ذات کے اندر جذب ہو نا شروع ہو جاتا ہے ۔ ذہن کی اس حالت سے بننے والے شعور کو عظیم روحانی اسکالر خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے قلندر شعور کا نا م دیا ہے ۔
نیوٹرل تھکنگ (Nutral Thinking)یا غیر جاندارانہ طرز فکر بندے کو فی الارض خلیفہ کے مرتبے پا فائز کرتی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں