خواب مستقبل ہیں 26

خواب مستقبل ہیں

خواب مستقبل ہیں

تحریر: عبدالوحید نظامی

  ٭     خواب علم نبوت کا چھیالیسواں باب ہے ( نبی کریم ﷺ)

٭     اللہ تعالیٰ کے عجائبات میں ایک تخلیق خواب بھی ہیں ۔(حضرت علی کرم اللہ وجہہ)

٭     جس کو ہم خواب دیکھنا کہتے ہیں ہمیں روح اور روح کی صلاحیتوں کا سراغ دیتا ہے ۔ (حضور  قلندر بابا اولیاء ؒ )

                                                                                                لوح و قلم ،ص۱۱

کائنات کی کوئی بھی ایسی مخلوق نہیں جو خواب نہ دیکھتی ہو ۔ بشمول انسان تمام حیوانات ، نباتا ت اور جمادات گیسز اور روشنی دو رخوں پر مشتمل ہے ایک رخ مادی جسم ہے اور دوسرا خواب والا جسم ہے ۔ خواب والے جسم کا تعلق غیب ، روحانیت اور علم نبوت کے ساتھ ہے ۔ ہر خواب میں مستقل کے متعلق کوئی نہ کوئی بات لازماً ہوتی ہے ۔ قرآن میں چھ خوابوں کا تذکرہ موجود ہے ۔ جن کا تعلق مستقبل کے ساتھ جڑا ہوا ۔

۱۔      حضور نبی کریم ﷺ کا خواب (سورۃ فتح ۲۷)

۲۔     حضرت ابراہیم علیہ السلام کا خواب (سورہ صفت ۱۰۳ تا ۱۰۷)

۳۔     یوسف  علیہ السلام کا خواب

۴۔     شاہ مصر کا خواب

۵۔     ساقی کا خواب

۶۔     باورچی کا خواب

حضور نبی کریم ﷺ کا خواب :

          یقینا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کا خواب سچا کر دکھایا اور تم پورے امن و امان کے ساتھ مسجد حرام میں داخل ہوئے ، سر منڈاتے ہوئے اور کتراتے ہوئے ، بہادری کے ساتھ عزت کے ساتھ اس نے تم کو فتح مبین کے قریب کیا ۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا خواب :

’’ پس جب ان دونوں نے رضا و تسلیم کو اختیار کر لیا اور پیشانی کے بل اس کو پچھاڑ دیا ہم نے اس کو پکارا یوں کہ اے ابراہیم تو نے سچ کر دکھایا اپنے خواب کو ہم یوں دیتے ہیں بدلہ نیکی کرنے والوں کو ۔۔‘ ‘ (سورۃ صفت: آیت نمبر ۱۰۳تا ۱۰۷)

حضرت  یوسف علیہ السلام کا خواب :

’’اے میرے باپ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ گیارہ ستارے اور سورج چاند مجھے سجدہ کر رہے ہیں ۔ ‘‘( سورہ یوسف ،آیت نمبر ۴)

 شاہ مصر کا خواب :

          بادشاہ نے کہا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات موٹی تازہ فربہ گائیں ہیں جن کو سات لاغر دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات ہری بالیاں ہیں اور سات خشک بالیاں ہیں اے میرے درباریوں تم مجھے اس خواب کی تعبیر بتاؤ کہ تم بتانے والے ہو ۔

ساقی+ دروغہ کا خواب :

’’اس کے ساتھ دو اور جوان بھی جیل خانے میں داخل ہوئے ۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ میں نے خواب میں اپنے آپ کو شراب نچوڑتے دیکھا ہے اور دوسرے نے کہا میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں اپنے سر پر روٹی اٹھائے ہوئے ہوں جسے پرندے کھا رہے ہیں ہمیں آپ اسکی تعبیر بتا ئیے اور آپ ان خوبیوں کے مالک ہیں ۔ ‘‘ (یوسف آیت نمبر ۳۶)

  قرآن میں بیان کردہ تین انبیاء کے خواب ہیں جو نوع انسانی کی عظمتوں کے اعلیٰ ترین روحانی مراتب پر فائز ہیں ایک مادی دنیا میں اعلیٰ عہدے یعنی بادشاہت کہ تخت پر بیٹھا ہوا ہے ایک بادشاہ کا خاص مقرب درباری ہے اور دوسرا بادشاہ کا باورچی ہے یہ بات ثابت کر تی ہے کہ خواب دیکھنے کا تعلق ہر مکتبہ فکر کے ساتھ ہے اس میں عہد و ں کی کوئی تخصیص نہیں ہوتی۔

          قرآن میں بیان کردہ خوابوں کا مستقبل کے ساتھ گہرا تعلق ثابت ہوتا ہے اس کا تجزیہ کرتے ہیں ۔

(۱)۔  حضور نبی کریم ﷺ نے خواب دیکھا کہ وہ صحابہ کے ساتھ مکہ میں عمرہ کر رہے ہیں جس وقت یہ خواب دیکھا وہ اس وقت مدینہ میں تشریف فرما تھے مکہ میں کفار کی دشمنی عروج پر تھی ابھی وہ مکے میں نہیں تھے انہوںنے عمرے کے لیے جانا تھا لیکن خواب میں مستقبل میں اس کے واقع ہونے کی نشاندہی فرما دی گئی ۔ خواب کے دو سال بعد مکہ فتح ہو گیا او ر حضور نبی کریم ﷺ نے صحابہ کے ساتھ شان و شوکت اور امن و امان کے ساتھ فاتح کی حیثیت سے عمرہ کیا اور قرآن میں فرمایا گیا یقینا اللہ نے اپنے رسول کا خواب سچا کر دکھایا حضور نبی کریم ﷺ کے خواب میں ۲ سال کے مستقبل کی نشاندہی ہوتی ہے ۔

(۲)۔  حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی راہ میں ذبح کر رہے ہیں ۔ یعنی مستقبل میں ایسا کرنے کا حکم سمجھ رہے ہیں ۔ انہوں نے اس خواب کا تذکرہ اپنی زوجہ حضرت ہاجرہ سے اور اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے کیا تو دونوں نے اللہ کا حکم سمجھتے ہوئے تسلیم و رضا سے عمل کرنے کا ارادہ کر لیا ۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لٹا کر چُھری پھیرنے لگے تو اللہ کی طرف سے آواز آئی اے ابراہیم علیہ السلام تو نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا ۔

(۳)۔ حضرت یوسف علیہ السلام حضرت یعقوب علیہ السلام کے لاڈلے بیٹے تھے انہوں نے اپنے والد سے عرض کیا کہ ابا جان میں نے خواب میں دیکھا مجھے ۱۱ ستارے اور سورج چاند سجدہ کر رہے ہیں ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اس کی تعبیر یہ بتائی کہ مستقبل میں اللہ تعالیٰ تمہیں بزرگی اور بلند مرتبہ عطا فرمائیں گے لیکن تم اس کاتذکرہ کسی سے نہ کرنا ۔ تقریباً ۴۰ سال کے عرصہ کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام کو نبوت اور مصر کی بادشاہت عطا ہوئی ۔ اس خواب میں۰ ۴ سال کے مستقبل کا دورانیہ سامنے آتا ہے ۔

(۴)۔ شاہ مصر خواب دیکھتا ہے کہ سات موٹی گائیں ان کو دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات ہری بالیاں ہیں اور سات خشک بالیاں ۔ اس خواب کی تعبیر حضرت یوسف علیہ السلام نے یہ بتائی کہ سات سال میں ملک میں غلہ کی فراوانی ہو گی اور سات سال قحط رہے گا  شاہ مصر کے خواب میں ۱۴ سال کے وقفہ کا مستقبل سامنے آتا ہے ۔

(۵)۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ قید خانے میں دو قیدیوں نے جو خواب دیکھے اسکی تعبیر حضرت یوسف علیہ السلام نے بتائی کہ انگور نچوڑ نے والا واپس اپنے عہدے پر فائز ہو جائے گا اور سر کے اوپر رکھی ہوئی روٹی کو پرندے کھانے والے کو پھانسی ہو جائے گی دونون ملزمان کی تفتیش۱ سال چلتی رہی ایک سال کے مستقبل کے بعد ایک کو بری کر کے واپس عہدہ سے دیا گیا ۔

(۶)۔  ایک سال کے وقفے کے بعد دوسرے قیدی کو پھانسی دے دی گئی ۔ قرآنی تعلیمات و واقعات ، احادیث مبارکہ اور اولیاء اللہ کے فرمودات اس بات کی واشگاف نشاندہی کرتے ہیں کہ خوابوں کا انسان کی زندگی کے ساتھ انتہائی گہرا تعلق ہے خواب کی زندگی او ر مادی زندگی کے اندر کوئی فرق نہیں اس بات کی تفصیل حضور قلندر بابا اولیاء رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب لوح و قلم میں ان الفاظ کو بیان فرماتے ہیں ۔

’’جس کو ہم خواب دیکھنا کہتے ہیں ہمیں روح اور روح کی صلاحیتوں کا سراغ دیتا ہے وہ اس طرح کہ ہم سوئے ہوئے ہیں تمام اعضاء بالکل معطل ہیں صرف سانس کی آمد و شد جاری ہے لیکن خواب دیکھنے کی حالت میں ہم چل پھر رہے ہیں باتیں کر رہے ہیں ، سوچ رہے ہیں ، غم زدہ اور خوش ہو رہے ہیں کوئی کام ایسا نہیں جو کہ بیداری کی حالت میں کرتے ہیں اور خواب کی حالت میں نہیں کرتے ۔ اب ہم ان صلاحیتوں کا تذکرہ کر دینا ضروری سمجھتے ہیں جو خواب یعنی رویاء کے نام سے روشناس ہیں چنانچہ عالم خواب میں انسان کھاتا پیتا اور چلتا پھرتا ہے اس کے معنی یہ ہوئے کہ روح گوشت پوشت کے جسم کے بغیر بھی حرکت کرتی اور چلتی پھرتی ہے روح کی یہ صلاحیت جو صرف رویاء میں کام کرتی ہے ہم خاص طریقے سے اس کا سراغ لگا سکتے ہیں اور اس صلاحیت کو بیداری میں استعمال کر سکتے ہیں۔ انبیاء علیھم السلام کا علم یہیں سے شروع ہوتا ہے اور یہی وہ علم ہے جس کے ذریعے انبیائے کرام نے اپنے شاگردوں کو یہ بتایا ہے کہ پہلے انسان کہاں تھا اور اس عالم ناسوت کی زندگی پوری کرنے کے بعد کہاں چلا جاتا ہے ۔ ‘‘

   ان الفاظ پر تفکر یہ بات سامنے لاتا ہے کہ خواب انبیاء کے علم نبوت کا آغاز ہے اور روحانی صلاحیتوں کو سامنے لاتا ہے ۔

          ہر انسان کی زندگی میں ایسے خواب ضرور ہوتے ہیں جن کی وجہ سے اس پر غسل فرض ہو جاتا ہے اور جو خواب آج دیکھا من و عن وہ کچھ دیر بعد ویسا ہی پورا ہو گیا جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مادی جسم خواب والے جسم سے منسلک رہتا ہے اور خواب والے جسم کی تحریکات سے متاثر ہوتا ہے اور اسکے علم اور رہنمائی سے اپنی مادی زندگی کو بہتر اور خوشگوار بنا سکتے ہیں۔

          عظیم روحانی اسکالر خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب اپنی کتاب خواب اور تعبیر کے صفحہ ۴۲ پر فرماتے ہیں ۔

’ ’ انسان خواب او ر بیداری کے حواس کا مجموعہ ہے اگر انسان کے اندر خواب کے حواس نہ ہوتے تو انسان کبھی بھی مستقبل میں قدم نہیں رکھ سکتا تھا جنت جہاں ماضی ہے وہاں مستقبل بھی ہے جو انسان کا اصل مقام اور وطن ہے اگر بیداری کے حواس جو اس کو خواب کے حواس پر غلبہ ہو جاتا تو اس غیب کی دنیا میں اپنے لیے کوئی مقام منتخب نہیں کر سکتا تھا۔‘‘

           حضور نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے النوم اخت الموت نیند موت کی بہن ہے ۔جس کو ہمارے ہاں سویا اور مویا برابر کہتے ہیں یعنی حواس کا مادی زندگی سے خواب والی زندگی میں منتقل ہونا موت یا نیند ہے ۔ اگر تھوڑا سا تفکر کریں تو بات سامنے آئے گی خواب کی زندگی اور بیداری کی زندگی میں مشترک چیز حواس ہیں اگر حواس کی طرف توجہ مرکوز کی جائے تو سوائے برقی رو یا کرنٹ کے کوئی چیز سامنے نہیں آتی اور اس کا تعلق آسمانی دنیا کے ساتھ ہے برقی رو لہر وں کی شکل میں کائنات کے اندر کام کر رہی ہے ۔ عظیم مجذوب بزرگ حضور بابا تاج الدین ناگپوری رحمۃ اللہ علیہ نے ان لہروں کوانا کی لہریں کہا ہے ۔ یہ لہریں کائنات کے اندر اس طرح کام کرتی ہے کہ ان کے اندر ٹائم اینڈ سپیس نہیں ہوتایہ لہریں مادے کے اندر منتقل ہو کر تخلیق کا ذریعہ ہیں ۔ اگر اس برقی رو یا لہروں کو جوانسان کے اندر حواس کی شکل میں کا م کر رہی ہیں واقفیت حاصل کر لے تو انسان کے اندر غیب اور اللہ کی صفات کا ادراک آ جاتا ہے ۔ مولا نے کائنات حضرت علی کرم وجہہ کا ارشاد ہے اللہ تعالیٰ کے عجائبات خلق میں سے ایک خواب بھی ہے ۔ جس طرح مادی جسم پر تجربات کر کے میڈیکل سائنس حیرت انگیز دریافتیں کر رہی ہے اسی طرح روحانی سائنس دان بھی خواب والے جسم کے اسرارو رموز کو سامنے لا رہے ہیں ۔ خواب والے جسم سے روشناسی کے بعد ہی علم نبوت، علم رسالت ، علم الاسماء، علم لدنی ، علم الکتاب اور دوسرے غیبی علوم پر دسترس حاصل ہوتی ہے ۔

          سیدنا حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد ہے کہ ’’خواب علم نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے ۔‘‘

          ماہرین طب کے مرد اور عورت کے اندر کروموسومز کی دریافت نے حیرت انگیز انکشافات کے سلسلہ شروع کیا ہواہے کہ انسان رنگوں کا بنا ہوا اور رنگوں سے بننے سے والا جسم خواب والا جسم ہی کہلاتا ہے ۔ ۲۳ کروموسومز مرد کے اور ۲۳ کروموسومز عورت کے ملکر چالیس کروموسومز سے جس جسم کی ابتداء ہوتی ہے ۔ اسکی ابتدائی شکل کو رنگوں اور روشنی کے علاوہ کوئی نام نہیں دیا جا سکتا اس کے اندر انسان کا مکمل ریکارڈ ہونا جو وقت کے ساتھ جسم کے اندر منتقل ہوتا رہتا ہے ۔ DNA کے اندر موجود ریکارڈ کی شکل و صورت کو خواب والے جسم کے علاوہ اور کوئی نام نہیں دیا جا سکتا ہے کیونکہ انسانی جسم کے اندر ایسے جینز دریافت ہو چکے جن کا تعلق براہ راست خوابوں کے ساتھ ہے خواب کے اندر ہونے والی تحریکات اور جسم کے اوپر اس کے اثرات کو کنٹرول کرنے کے لیے یہ جینز جن کو خواب والے جینز Dream Jeans کہتے ہیں اہم کردار ادا کرتے ہیں یہ تحقیق اولیاء اللہ کی بات کی تصدیق کرتی ہے کہ خواب والا جسم یعنی لاشعور مادی جسم یعنی شعور کے اندر منتقل ہوتا ہے ۔ لاشعوری تحریکات سے ہی شعور زندگی کی حرکات کا مظہر بنتا ہے ۔ گویا لا شعور کا علم بندے کے اوپر علم و آگاہی اور تخلیقی فارمولوں کا انکشاف کرتا ہے ۔ انرجی مادے کے اندر اور مادہ انرجی کے اندر منتقل ہو رہا ہے انرجی اور مادے کے درمیان وقت کار فرما ہے ۔

          موجودہ دور کی سائنس یہ بات تسلیم کر چکی ہے کہ الیکٹرک امپلس (Electric Impuls) یا برقی رو ہی کیمیکل امپلس(Chemical Impuls) میں تبدیل ہوتی ہے اور کیمیا کی تعملات سے مٹریل یا مادہ وجود میں آنا شروع ہو جاتا ہے ۔ الیکٹرک امپلس کے اندر جب تمام مٹریل موجود ہے تو مادہ وجود میں آتے ہوئے وقت کیوں لیتا ہے اس سوال کا جواب درکار ہے ۔

     سائنس کی ترقی میں جو عمل کار فرما ہے وہ یہ ہے کہ وقت Time پر کسی طرح گرفت حاصل کر کے اس کو کم سے کم کیا جائے ۔ جس میں رفتا ر Speed کا عمل دخل ہے اور رفتار حرکت پر قائم ہے حرکت نہیں ہو گی تو رفتار کا تذکرہ زیر بحث نہیں آئے گا رفتا ریا Speed کی تیزی ٹائم کو کم کرتی ہے ۔ اللہ کے دوست عظیم روحانی اسکالر خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب فرماتے ہیں ۔ اگر انسان کو روح کا سراغ مل جاتے تو خواب کی زندگی بیداری کی طرح سامنے آ جاتی ہے ۔ انسانی زندگی میں خواب ایک ایسا عمل ہے جس میں بلا تخصیص ہر انسان ٹائم کو ختم (Less ness) کر دیتا ہے ۔ یعنی خواب میں انسان پلک جھپکتے ہزاروں لاکھوں میل کا سفر کر لیتا ہے ۔ مذہب کے پیروکار آسمانی کتابوں اور آخری کتاب قرآن سے استفادہ کر سکتے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں