رمضان ، لیل اور روحانی پرواز 31

رمضان ، لیل اور روحانی پرواز

                            تحریر :عبدالوحید نظامی العظیمی

دین اسلام کے پانچ ارکان میں صوم کا اہتمام عوام الناس میں بڑی خشوع اور خضوع کے ساتھ ہوتا ہے ۔
روزہ کے معنی عام زندگی میں ہم جو کام روزانہ کرتے ہیں اس کو روزہ کہتے ہیں مثلاً صبح کا ناشتہ کرنا ، دفتر جانا ، سکول جانا ، روزمرہ کا کام کرنا وغیرہ جب کہ صوم کا مطلب ترک کرنا ، رکنا ، ٹھہرنا ، آگے نہ بڑھنا ، چھوڑنا ہے ۔ اسلام کے اندر ترک ایک ایسا پروگرام ہے جو بندے کو غیب اور اللہ کی صفات کے قریب کرتاہے ۔
صوم کا تراجمہ روزہ کیوںکیا گیا اہل زبان بہتر جانتے ہیں لیکن صوم اپنے نتائج اور عمل کے حوالے سے جو افادیت دیتاہے اس کا تعلق روحانیت کے درجات میں اضافہ کرکے اللہ تعالیٰ کی ذات کا عرفان حاصل کرنا ہے ۔ اس لیے ان کی حکمتوں پر تفکر کرنا بہت ضروری ہے ۔صلوۃ اور صوم کی ادائیگی میں سورج کی حرکات یا روشنی کا بہت زیادہ عمل دخل ہے ۔ جب سورج کی روشنی اندھیرے کو ختم کرتی ہے یعنی پو پھوٹتی ہے تو فجر کا وقت ہوتا ہے سورج نصف النہار یا مکمل سر کے اوپر ہو تو ظہر کا وقت ، جب سورج کی روشنی قد کے برابرسایہ دراز کر دے تو عصر کا وقت اور سایہ ختم کر دے یعنی سورج غروب ہو جائے تو مغرب کی نماز اور جب مکمل اندھیرا چھا جائے تو عشاء کا وقت ہوتا ہے ۔
صوم میں جب فجر یعنی روشنی طلوع ہو جائے تو کھانا پینا ترک کر دیتے ہیں اور سورج کی روشن ختم ہو جائے تو کھانے پینے کی پابندی یا ترک ختم ہو جاتا ہے ۔
سورج کی روشنی میں کھانا پینا ترک کرنا ، چھوڑنا کا نام صوم ہے ۔
چونکہ سورج کی روشنی مادی جسم میں تبدیلی پیدا کرتی ہے خوراک کا استعمال مادی جسم میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ جب ہم فجر کی اذا ن پرکھانا پینا ترک کر دیتے ہیں تو سورج کی روشنی جسم کے اندر سیلز کے درمیان کشش اور گریز کی قوتوں کو زیادہ کر دیتی ہے جس سے جسم کے اندر سیلز کے درمیان خلاء یا اسپیس بڑھ جاتا ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سیلز کے درمیان یہ فاصلہ اتنا بڑھ جاتا ہے جسم تکلیف یا اذیت محسوس کرنا شروع کر دیتا ہے ۔ چونکہ سورج کی روشنی کی اور حدت مادے میں تبدیل نہیں ہوتی تو یہ توانائی خلاء یا اسپیس کی وجہ سے روح کے اندر منتقل ہو جاتی ہے سورج کی روشنی میں صلوٰۃ کی رکعات کی مدد سے ذہن اللہ کی طرف مرکوز رہنا اور کھانا پینا ترک کرنے سے جسم کی توڑ پھوڑ انسان کے اندر انوارات و تجلیات کا ذخیرہ بڑھانے کا سبب بن جاتی ہے ۔ جس سے بندہ اللہ کی تجلی کا دیدار کر لیتا ہے ۔

قرآن اور صوم کا پروگرام :
قرآن میں سورۃ بقرہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ۔
’’ اے ایمان والو! تم پر ترک فرض کیا گیا جیسا کہ ترک یا صیام کا پروگرام تم سے پہلے لوگوں پر نافذ کیا گیا تھا تاکہ تم اللہ کا مشاہدہ کر سکو ۔ ۔‘‘
قرآن میں سورۃ بقرہ کی آیت میں بتایا گیا کہ قرآں متقی یعنی مشاہدہ کرنے والے کو ہدایت دیتا ہے یعنی جو لوگ ترک کا پروگرام اپناتے ہیں ۔ وہی متقی یا صاحب مشاہدہ ہوتے ہیں ان کی نشانیاں یہ بتائی گئی ہیں کہ
۱۔ وہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں
۲۔ رزق کو خرچ کرتے ہیں ۔
۳۔ اللہ سے رابطے میں رہ کر صلوۃ قائم کرتے ہیں ۔
۴۔ اور یہ لوگ اللہ کی تجلیات جو نزول کرتی ہیں ان کا مشاہدہ کرتے ہیں ۔
۵۔ اور ان سے پہلے لوگوں پر جو تجلیات نزول ہوئی ان کے مشاہدے میں آ جاتی ہیں ۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہی لوگ ہدایت پر ہیں اور یہی کامیاب فلاح والے ہیں ۔ مسلسل قیام الصلوٰۃ اور صیام کی کیفیت کا نام رمضان ہے ۔ رمضان کے دورانیے میں رہنے سے قرآن کی نازل ہونے والی تجلیات بندے پر منکشف ہو جاتی ہیں ۔ کیونکہ صوم کا اجر اللہ تعالیٰ کی ذات خود ہے ۔
سلسلہ عظیمیہ کے خانوادہ شیخ خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے رمضان میں ترک کا پروگرام ترتیب دیا ہوا جس پر عمل کرنے سے انسان ایسے حواس میں داخل ہو جاتا ہے جہاں مادی گرفت ٹوٹ جاتی ہے اور ان حواس کے ذریعے اللہ کی تجلی کا دیدار کر لیتا ہے ۔
رنگ روشنی سے علاج کا قانون بتاتا ہے کہ سورج کی روشنی رنگوں کا مجموعہ ہے اور رنگوں کا مظاہرہ مادی اشیاء کی صورت میں نظر آتا ہے سورج کی روشنی جب زمین کی طرف سفر کرتی ہے تو اس کا پہلا رنگ نیلا ہوتا ہے پھر یہ نیلا رنگ فضا میں گیسز اور دوسرے اجزاء کی وجہ سے پیلے رنگ میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔ گیسز اجزاء اور پیلے رنگ کی کثرت فضا کے اندر سرخ اور نارنجی رنگ بنا دیتی ہیں سورج کے طلوع اور غروب ہونے میں سرخ اور نارنجی رنگ فضا میں غالب ہو جاتا ہے ۔ یہ تمام رنگ جب زمین کی طرف نزول کرتے ہیں تو یہ خاکی یا مٹی کے رنگ میں تبدیل ہو جاتے ہیں ۔ خاکی رنگ یا مٹی سے جوپہلا رنگ ظاہر ہوتا ہے وہ سبز(Green) ہوتا ہے باقی تمام رنگ سبز رنگ سے ظاہر ہو جاتے ہیں ۔ جو پھلوں ، سبزیوں اور پھولوں میں نظر آتے ہیں ۔ ۔رمضان کے پروگرام پر عمل کرتے ہوئے جب ہم ان رنگوں کا استعمال یعنی پھل فروٹ یا غذا کا استعمال کم کر دیتے ہیں تو یہ رنگ نور کے اندر تبدیل ہو جاتے ہیں ۔ مسلسل ترک اور صلوٰۃ کا عمل نور کو تجلّی میں تبدیل کر دیتا ہے ۔ تجلی اللہ کی صفات کا مظہر ہوتی ہے ۔اللہ کی صفات اور بندے کی روح کا تعلق رات کے حواس سے ہے رات کے حواس سے مراد خواب والا جسم ہے ۔یعنی خواب والا جسم بیداری والے جسم کا قائم مقام بن جائے تو وہ علوم جو غیب اور غیب کی دنیا سے متعلق ہیں مظہر بننا شروع ہو جاتے ہیں ۔ قرآن نے خواب والے جسم کو لیل کا نام دیا ہے اور لیل میں ہی غیبی علوم کا تذکرہ موجود ہے ۔ مثلاً
۱۔ موسیٰ علیہ السلام کو توریت ۴۰ راتوں میں نازل ہوئی ۔(سورۃ بقرہ :۵۱)
موسیٰ علیہ السلام سے ۳۰ راتوں کا وعدہ کیا اور ۱۰ راتیں اور بڑھا کر ۴۰ راتیں کر دی ۔(سورۃ اعراف :۱۴۲)
۲۔حضور نبی کریم ﷺ نے معراج کا سفر رات کو کیا ۔ (سورۃ اسراء:۱)
۳۔حضرت یوسف علیہ السلام نے خوابوں کی تعبیر کا علم ظاہر کیا اور خواب کا تعلق رات سے ہے ۔
۴۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے رات ، چاند ستاروں کی روشنی میں اللہ کی نشانی کو تلاش کیا ۔ (سورۃ انعام :۷۶)
۵۔اہل کتاب رات کو اللہ کی نشانیاں تلاش کر کے سجدے میں رہتے ہیں ۔ (آل عمران :۱۱۳)
۶۔رات کو روح کا نکلنا تفکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہے ۔ (سورۃ انعام :۶۰۔ سورۃ زمر)
۷۔حضرت لوط علیہ السلام کو رات کو اپنے اہل خانہ سے بستی سے نکلنے کا حکم صادر ہوا ۔ (سورۃ حجر :۶۵)
۸۔ رات کے اندر جہدو جہد سے بندہ مقام محمود پر فائز ہو جاتا ہے ۔ (سورۃ اسراء:۱۷)
۹۔ رات کو قیام کرنے کا حکم ہے۔(سورۃ مزمل : ۲)
۱۰۔ قرآن کو قدر والی رات میں نازل کیا ۔(سورۃ قدر)
۱۱۔قرآن کو مبارک رات میں نازل کیا (سورۃ دخان :۳)
ان آیات کے اندر تفکر کرنے سے خواب والے جسم یعنی رات میں پوشیدہ روحانی اور غیبی علوم کا انکشاف ہوتا ہے ۔ چونکہ قرآن رمضان میں نازل ہوا اور رمضان کے اندر طاق راتوں کی بڑی اہمیت ہے ان طاق راتوں میں جدو جہد سے بندہ پر اللہ کی صفات منکشف ہوتی ہیں ۔
سورۃ فجر میں اللہ فرماتا ہے کہ قسم فجر کی اور دس راتوں کی جوجفتبھی ہیں اور طاق بھی ۔جفت رات سے مراد مادی جسم اور خواب والا جسم یعنی دو جسم ہیں اور ۲ جفت کو کہتے ہیں ۔ طاق رات سے مراد روح والا جسم ہے اور روح کائنات کے اندر ہمیشہ ایک ہی ہے ایک کو طاق کہتے ہیں اگر بندہ رمضان کے مکمل تقاضے پورے کر دے تو رات قیام ہونے لیل میں اسکی روحانی پرواز ملائکہ اور ارواح کا مشاہدہ کر سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا امر جو تمام کائنات کے اندر کام کر رہا ہے اسکی معرفت حاصل ہو جاتی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں