روحانیت اورکائنات کی حرکت 31

روحانیت اورکائنات کی حرکت

روحانیت اورکائنات کی حرکت
الہامی کتابوں کے مطالعہ سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ ہر انسان کی زندگی کے تین مراحل ہیں ۔ (۱)۔ پیدا ہوتا ہے۔ (۲)۔علم سیکھتا ہے ۔ (۳)۔ اس علم کا استعمال کر کے وسائل استعمال کرتا ہے اور مر جاتا ہے ۔
اس دنیا میں جو پہلا انسان وجود میں آیا الہامی کتابیں اس کو آدم کا نام دیتی ہیں اور دنیا کے سات ارب انسان اسی آدم کی تکرار ہیں ۔ دنیا میں عام آدمی پیدا ہوتا ہے علم سیکھتا ہے اور علم کے ذریعے وسائل استعمال کرتا ہے اور مر جاتا ہے ۔ اس کی ہزاروں مثالیں ہیں ۔ ڈاکٹر ، انجینئر ، وکیل ، استاد ، ترکھان ، لوہار ، مصور ، مکینک ، مستری ، مزدور وغیرہ ۔
مثال کے طور پر ایک آدمی پیدا ہو کر ڈاکٹر ی کا علم سیکھتا ہے اور پھر اس ڈاکٹر کے علم کو بطور پیشہ اپنا کر ہسپتال ، کلینک میں مریضوں کا علاج کرتا ہے اور اپنی زندگی پوری کرتا ہے ۔
پوری کائنات کے بننے کے بعد آدم کا وجود تخلیق ہوا آدم کو علم الاسمائ سکھائے گئے اس علم کے استعمال کے لیے اس کو جو زون دیا گیا اس کو جنت کہتے ہیں ۔ ہم مادی دنیا کی مثال کو سامنے رکھتے ہیں ۔ ڈاکٹر مریض کے علاج کے لیے ہسپتال یا کلینک بناتا ہے اس علاج کے لیے مخصوص آواز ، آلات ہوتے ہیں جن کی مدد سے وہ اپنے علم کی صلاحیت کا اظہار کرتا ہے ۔
ایک سول انجینئر علم سیکھتا ہے وہ مخصوص مٹیریل کا استعمال کرتا ہے اور اسکی ترتیب سے بلڈنگ بناتا ہے ۔ بلڈنگ بنانے میں وہ اس علم کا استعمال کرتا ہے جو اس نے سیکھا ۔
ایک آدمی نے مصوری کا علم سیکھا اور اب اس کے اظہار کے لیے کینوس ، برش ، رنگوں کے استعمال سے اپنے مصوری کے علم کو ظاہر کرے گا ۔ بالکل اسی طرح آدم نے علم الاسمائ سیکھا یا سیکھایا گیا اس نے اس علم کے اظہار کے لیے جو مٹیریل استعمال کیا اس کو جنت کے علاوہ کوئی نام نہیں دیا جا سکتا ہے ۔ گویا جنت ایک مقام یا مٹیریل یا اسپیس ہے جسکے اندر کچھ بھی بنایا جا سکتا ہے بلکہ استعمال بھی کیا جا سکتا ہے ۔ بنانے میں ، استعمال کرنے میں کوئی پابندی نہیں نہ ہی ذہن میں دباؤ یا ہچکچاہٹ ہے نہ کسی قسم کی فکر یا پریشانی ہے ۔ یعنی وسائل بنانے میں اور استعمال میں لانے میں کوئی رکاوٹ یا مشکل نہیں اور ہر طرح کی بے فکری ہے ۔
اس علم کو سیکھانے والی ہستی نے آدم کو یہ وارننگ دی ۔ ہدایت دی خبردار کیا ۔ سلجھایا کہ تم نے اس علم کے ذریعے چیزوں کا مرکز بننا ہے ۔ چیزوں کو اپنا مرکز نہیں بنانا ۔ اس جملے ، ہدایات یا خبرروں کے اندر جو خطرناک چیز ہے وہ یہ ہے کہ اس علم کے ذریعے ہر طرح کی آسائش یا فوائد حاصل کریں ۔ اس علم کے ذریعے اپنا آپ مٹریل ، آسائش یا فوائد کے اندر منتقل نہیں کرتا ہے یا غلط طرز فکر یا اس ہدایت کو نظر انداز کر کے آدم نے اس علم سے توجہ ہٹا کر مادے ، خواہشات یا فوائد کی طرف مرکوز کر دی جس سے چیزوں کو بنانے کا علم پس پردہ چلا گیا اور صرف چیزیں رہ گئی ۔
اب اس بات کو مادی دنیا کی مثال سے سمجھئے ایک بندے کو ڈاکٹری کے اوزار یا آلات دے دیئے جائیں وہ ڈاکٹر کے علم سے واقفیت حاصل نہیں کر سکتا ہے ۔
ایک آدمی کو ریت ، سیمنٹ ، بجری ، سریا اور اینٹیں دے دی جائیں تو وہ سول انجینئرنگ کے علم سے آگاہ نہیں ہو سکتا ہے ۔
ایک آدمی کو لکڑی ، آری ، تھوڑی ، کیل ، کانٹے دے دیئے جائیں تو وہ ترکھان نہیں بن سکتا ہے ۔ بلکہ اس طرح آدمی نے اپنی توجہ علم سے ہٹائی اس کے اردگرد صرف میٹریل رہ گیا علم پس پردہ چلا گیا ۔ علم نہ ہونے سے وہ چیزوں کے استعمال سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا اور عذاب و تکلیف کا شکار ہو گیا ۔ اس وقت آدم اور اسکی نسل انسان یعنی ہم سب عذاب و تکلیف اور مصائب و آلام اور ناخوشی میں مبتلا ہیں اور زمین پر قیود بندکی زندگی گزار رہے ہیں ۔
آدم کو پیدا کرنے والی ہستی نے آدم کی نسل سے بندوں کو منتخب کیا اور ان کو اپنے علم نبوت و ولایت عطا کیا۔ جنہوں نے آدم کو اور اسکی نسل کو عذاب و تکلیف اور مصائب والائم سے نجات کے طریقے بتائے ۔
ان میں ایک طریقہ طولانی اور محوری گردش کا قانون ہے ۔ اس کائنات کے اندر کسی بھی قسم کا میٹریل حرکت میں رہتا ہے اور اسکی حرکت گولائی یا دائرے میں رہتی ہے ۔ مثلاً کہکشائی نظام ، سورج ، چاند ، ستارے ، ہماری زمین سب کی محوری اور طولانی حرکت گولائی میں ہو رہی ہے ۔
اس بات کو سمجھیں جس طرح پٹری کے اوپر ٹرین کے پہیئے گھومتے ہیں یا سڑک کے اوپر گاڑیوں کے ٹائر گھوم کر آگے بڑھتے ہیں ان کا ایک مرکز یا محور ضرور ہوتا ہے ۔ یہ کسی ٹائر کی محوری حرکت ہے ۔ ٹرین کے پہیئے اور گاڑی کے ٹائر کا سفر کرنا ان کی طولانی حرکت ہے ۔ ریل کی پٹری یا سڑک ایک ایسی بیلٹ ہے جو ساکن ہے ۔ ٹھہری ہوئی اس کے اندر کسی قسم کا تغیر نہیں وہ جیسی ہے ویسی ہی رہتی ہے ۔ گویا آپ کو گاڑی یا ٹرین کے پہیوں کی دو حرکتیں نطر آ رہی ہیں جو مٹیریل کے علاوہ کچھ نہیں سڑک یا بیٹری کی بیلٹ کو زمان یا غیب کے علاوہ کوئی نام نہیں دیا جا سکتا ۔ گویا اگر غیر یا زمان نہ ہو تو مکان یا پہیے کام نہیں کر سکتے ۔
جب ہم اس مثال کو کائنات کے اوپر لاگو کرتے ہیں تو طولانی حرکت کو اپنے حواس میں سیکنڈ ، منٹ ، گھنٹے ، دن ، ماہ و سال اور صدیوں کی شکل میں پہچانتے ہیں اور محوری حرکت کے سلسلے کو زمین ، چاند ، سورج ، اجرام فلکی اور نظام شمسی کی صورت جانتے ہیں ۔ (لوح و قلم ۲۰۴)
جس طرح ٹرین پہیئے یا گاڑی کے ٹائر محوری اور طولانی حرکت کرتے ہیں اس طرح ہماری زمین بھی محوری اور طولانی حرکت یا گردش کرتی ہے ۔ محوری حرکت سے دن رات وجو د میں آتے ہیں اور طولانی حرکت میں موسم وجود میں آتے ہیں موسم سے مراد سردی اور گرمی ہے دن اور رات یا سردی اور گرمی یہ انسانی حواس کے علاوہ کچھ نہیں اس کا مطلب یہ حواس کا ردو بدل ہے اگر ہم کسی طرح حواس کے اندر اس ردو بدل کو ختم کر دیں یا روک دیں یا ان کے اندر تغیر نہ ہو تو انسان جس زون کے اندر داخل ہو جاتا ہے اس کو بندے کی زندگی یا آسائشوں کی زندگی یا عالیشان زندگی کا نام دیں گے چونکہ تغیر تبدیلی مٹیریل کے اندر ہے اور جس بیلٹ پہ سڑک یا پٹری پر کائنات چل رہی ہے اس میں کوئی تغیر یا تبدیلی نہیں تو انسان مادی جسم سے باہر آکر وقت فاصلے یا زمان کے اندر داخل ہو کر اصل حقیقت سے واقف ہو جاتا ہے ۔ کیونکہ پوری کائنات اور بیلٹ پر رواں دواں سے اور کائناٹ پر اسکی تسخیر اور حکومت مسلم ہو جاتی ہے ۔ محوری اور طولانی گردش کے لیے ہم گھڑی کی سوئیاں دیکھتے ہیں ۔ ہمارا مشاہدہ ہے کہ گھڑی کی تینوں سوئیاں ایک مرکز سے بندھی ہوئی ہیں ۔تینوں سوئیوں کے سرے ایک جگہ جڑے ہوتے ہیں اور دوسری طرف کے سرے الگ الگ ہیں ۔ لیکن دونوں سرے حرکت کر رہے ہیں ۔سرے کی ایک حرکت نظر آ رہی ہے اور دوسری حرکت نظر نہیں آ رہی ۔ جس جگہ حرکت نظر نہیں آ رہی وہاں ٹائم اینڈ سپیس بھی زیر بحث نہیں آ رہا اس کو محوری حرکت کہیں گے ۔ دوسری طرف سوئیاں حرکت کر رہی اور ان کی حرکت نظر آ رہی ہے یہ طولانی حرکت ہے اور اس میں ٹائم اینڈ سپیس وجود میں آرہا ہے ۔ تینوں سوئیاں جس بیلٹ(ڈائل)پر سفر کر رہی ہیں یا گھوم رہی ہیںاس کے اوپر نقش و نگار بنے ہوتے ہیں اور وہ ہمیشہ اپنی جگہ پر ساکن یا ٹھہرے ہوئے ہیں اگر ہماری توجہ بیلٹ یا ڈائل پر ہے تو ہم ٹائم اینڈ سپیس سے آزاد زندگی گزارتے ہیں اگر ہمارے حواس سوئیوں پر ہے تو ہم قید و بند کی زندگی میں مبتلا ہیںاگر ہم اپنے حواس یا تو جہ کو ساکن کر لیں تو یہ زندگی جنت کی زندگی کہلائے گی ۔چونکہ انسان نے اپنے حواس کو مادی جسم کے اندر قیود کیا ہوا ہے ۔ اسلیئے حواس اپنے اندر پابندی کی وجہ سے تکلیف و آلائم میں مبتلا رہتا ہے جب اس کے حواس مادی جسم سے باہر چلے جاتے ہیں وہ شاداں و فرحاں اور ٹائم اینڈ اسپیس سے آزادی محسوس کرتا ہے ۔ مثال کے طور پر بیداری میں حواس مادی جسم کے اندر کام کرتے ہیں لیکن سونے کے دوران یہی حواس جسم سے باہر آ کر ٹائم اینڈ اسپیس سے آزاد ہو کر جاتے ہیں ۔
بیداری کے دوران اس کے حواس محوری اور طولانی طرز پر کام کرتے ہیں جب خواب یا نیند میں یہ حواس ایسی بیلٹ میں داخل ہوجاتے ہیں جہاں وہ ضرورت کے مطابق یہ چیز کو حاصل کر سکتے ہیں ۔
مادی جسم کے اندر حواس جب ایک جگہ پر ساکن ہو جاتے ، مرکوز ہو جاتے ہیں یا ان کے اندر تغیر رونما نہیں ہوتا تو یہ حواس خطرناک زون سے باہر نکل جاتے ہیں اور ایسے علاقے میں داخل ہو جاتے جہاں ہر چیز پر ان کا تصرف اور تسخیر ہوتی ہے اور وہ خوف اور غم سے آزاد ہوتا ہے ۔

بوں کے مطالعہ سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ ہر انسان کی زندگی کے تین مراحل ہیں ۔ (۱)۔ پیدا ہوتا ہے۔ (۲)۔علم سیکھتا ہے ۔ (۳)۔ اس علم کا استعمال کر کے وسائل استعمال کرتا ہے اور مر جاتا ہے ۔
اس دنیا میں جو پہلا انسان وجود میں آیا الہامی کتابیں اس کو آدم کا نام دیتی ہیں اور دنیا کے سات ارب انسان اسی آدم کی تکرار ہیں ۔ دنیا میں عام آدمی پیدا ہوتا ہے علم سیکھتا ہے اور علم کے ذریعے وسائل استعمال کرتا ہے اور مر جاتا ہے ۔ اس کی ہزاروں مثالیں ہیں ۔ ڈاکٹر ، انجینئر ، وکیل ، استاد ، ترکھان ، لوہار ، مصور ، مکینک ، مستری ، مزدور وغیرہ ۔
مثال کے طور پر ایک آدمی پیدا ہو کر ڈاکٹر ی کا علم سیکھتا ہے اور پھر اس ڈاکٹر کے علم کو بطور پیشہ اپنا کر ہسپتال ، کلینک میں مریضوں کا علاج کرتا ہے اور اپنی زندگی پوری کرتا ہے ۔
پوری کائنات کے بننے کے بعد آدم کا وجود تخلیق ہوا آدم کو علم الاسمائ سکھائے گئے اس علم کے استعمال کے لیے اس کو جو زون دیا گیا اس کو جنت کہتے ہیں ۔ ہم مادی دنیا کی مثال کو سامنے رکھتے ہیں ۔ ڈاکٹر مریض کے علاج کے لیے ہسپتال یا کلینک بناتا ہے اس علاج کے لیے مخصوص آواز ، آلات ہوتے ہیں جن کی مدد سے وہ اپنے علم کی صلاحیت کا اظہار کرتا ہے ۔
ایک سول انجینئر علم سیکھتا ہے وہ مخصوص مٹیریل کا استعمال کرتا ہے اور اسکی ترتیب سے بلڈنگ بناتا ہے ۔ بلڈنگ بنانے میں وہ اس علم کا استعمال کرتا ہے جو اس نے سیکھا ۔
ایک آدمی نے مصوری کا علم سیکھا اور اب اس کے اظہار کے لیے کینوس ، برش ، رنگوں کے استعمال سے اپنے مصوری کے علم کو ظاہر کرے گا ۔ بالکل اسی طرح آدم نے علم الاسمائ سیکھا یا سیکھایا گیا اس نے اس علم کے اظہار کے لیے جو مٹیریل استعمال کیا اس کو جنت کے علاوہ کوئی نام نہیں دیا جا سکتا ہے ۔ گویا جنت ایک مقام یا مٹیریل یا اسپیس ہے جسکے اندر کچھ بھی بنایا جا سکتا ہے بلکہ استعمال بھی کیا جا سکتا ہے ۔ بنانے میں ، استعمال کرنے میں کوئی پابندی نہیں نہ ہی ذہن میں دباؤ یا ہچکچاہٹ ہے نہ کسی قسم کی فکر یا پریشانی ہے ۔ یعنی وسائل بنانے میں اور استعمال میں لانے میں کوئی رکاوٹ یا مشکل نہیں اور ہر طرح کی بے فکری ہے ۔
اس علم کو سیکھانے والی ہستی نے آدم کو یہ وارننگ دی ۔ ہدایت دی خبردار کیا ۔ سلجھایا کہ تم نے اس علم کے ذریعے چیزوں کا مرکز بننا ہے ۔ چیزوں کو اپنا مرکز نہیں بنانا ۔ اس جملے ، ہدایات یا خبرروں کے اندر جو خطرناک چیز ہے وہ یہ ہے کہ اس علم کے ذریعے ہر طرح کی آسائش یا فوائد حاصل کریں ۔ اس علم کے ذریعے اپنا آپ مٹریل ، آسائش یا فوائد کے اندر منتقل نہیں کرتا ہے یا غلط طرز فکر یا اس ہدایت کو نظر انداز کر کے آدم نے اس علم سے توجہ ہٹا کر مادے ، خواہشات یا فوائد کی طرف مرکوز کر دی جس سے چیزوں کو بنانے کا علم پس پردہ چلا گیا اور صرف چیزیں رہ گئی ۔
اب اس بات کو مادی دنیا کی مثال سے سمجھئے ایک بندے کو ڈاکٹری کے اوزار یا آلات دے دیئے جائیں وہ ڈاکٹر کے علم سے واقفیت حاصل نہیں کر سکتا ہے ۔
ایک آدمی کو ریت ، سیمنٹ ، بجری ، سریا اور اینٹیں دے دی جائیں تو وہ سول انجینئرنگ کے علم سے آگاہ نہیں ہو سکتا ہے ۔
ایک آدمی کو لکڑی ، آری ، تھوڑی ، کیل ، کانٹے دے دیئے جائیں تو وہ ترکھان نہیں بن سکتا ہے ۔ بلکہ اس طرح آدمی نے اپنی توجہ علم سے ہٹائی اس کے اردگرد صرف میٹریل رہ گیا علم پس پردہ چلا گیا ۔ علم نہ ہونے سے وہ چیزوں کے استعمال سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا اور عذاب و تکلیف کا شکار ہو گیا ۔ اس وقت آدم اور اسکی نسل انسان یعنی ہم سب عذاب و تکلیف اور مصائب و آلام اور ناخوشی میں مبتلا ہیں اور زمین پر قیود بندکی زندگی گزار رہے ہیں ۔
آدم کو پیدا کرنے والی ہستی نے آدم کی نسل سے بندوں کو منتخب کیا اور ان کو اپنے علم نبوت و ولایت عطا کیا۔ جنہوں نے آدم کو اور اسکی نسل کو عذاب و تکلیف اور مصائب والائم سے نجات کے طریقے بتائے ۔
ان میں ایک طریقہ طولانی اور محوری گردش کا قانون ہے ۔ اس کائنات کے اندر کسی بھی قسم کا میٹریل حرکت میں رہتا ہے اور اسکی حرکت گولائی یا دائرے میں رہتی ہے ۔ مثلاً کہکشائی نظام ، سورج ، چاند ، ستارے ، ہماری زمین سب کی محوری اور طولانی حرکت گولائی میں ہو رہی ہے ۔
اس بات کو سمجھیں جس طرح پٹری کے اوپر ٹرین کے پہیئے گھومتے ہیں یا سڑک کے اوپر گاڑیوں کے ٹائر گھوم کر آگے بڑھتے ہیں ان کا ایک مرکز یا محور ضرور ہوتا ہے ۔ یہ کسی ٹائر کی محوری حرکت ہے ۔ ٹرین کے پہیئے اور گاڑی کے ٹائر کا سفر کرنا ان کی طولانی حرکت ہے ۔ ریل کی پٹری یا سڑک ایک ایسی بیلٹ ہے جو ساکن ہے ۔ ٹھہری ہوئی اس کے اندر کسی قسم کا تغیر نہیں وہ جیسی ہے ویسی ہی رہتی ہے ۔ گویا آپ کو گاڑی یا ٹرین کے پہیوں کی دو حرکتیں نطر آ رہی ہیں جو مٹیریل کے علاوہ کچھ نہیں سڑک یا بیٹری کی بیلٹ کو زمان یا غیب کے علاوہ کوئی نام نہیں دیا جا سکتا ۔ گویا اگر غیر یا زمان نہ ہو تو مکان یا پہیے کام نہیں کر سکتے ۔
جب ہم اس مثال کو کائنات کے اوپر لاگو کرتے ہیں تو طولانی حرکت کو اپنے حواس میں سیکنڈ ، منٹ ، گھنٹے ، دن ، ماہ و سال اور صدیوں کی شکل میں پہچانتے ہیں اور محوری حرکت کے سلسلے کو زمین ، چاند ، سورج ، اجرام فلکی اور نظام شمسی کی صورت جانتے ہیں ۔ (لوح و قلم ۲۰۴)
جس طرح ٹرین پہیئے یا گاڑی کے ٹائر محوری اور طولانی حرکت کرتے ہیں اس طرح ہماری زمین بھی محوری اور طولانی حرکت یا گردش کرتی ہے ۔ محوری حرکت سے دن رات وجو د میں آتے ہیں اور طولانی حرکت میں موسم وجود میں آتے ہیں موسم سے مراد سردی اور گرمی ہے دن اور رات یا سردی اور گرمی یہ انسانی حواس کے علاوہ کچھ نہیں اس کا مطلب یہ حواس کا ردو بدل ہے اگر ہم کسی طرح حواس کے اندر اس ردو بدل کو ختم کر دیں یا روک دیں یا ان کے اندر تغیر نہ ہو تو انسان جس زون کے اندر داخل ہو جاتا ہے اس کو بندے کی زندگی یا آسائشوں کی زندگی یا عالیشان زندگی کا نام دیں گے چونکہ تغیر تبدیلی مٹیریل کے اندر ہے اور جس بیلٹ پہ سڑک یا پٹری پر کائنات چل رہی ہے اس میں کوئی تغیر یا تبدیلی نہیں تو انسان مادی جسم سے باہر آکر وقت فاصلے یا زمان کے اندر داخل ہو کر اصل حقیقت سے واقف ہو جاتا ہے ۔ کیونکہ پوری کائنات اور بیلٹ پر رواں دواں سے اور کائناٹ پر اسکی تسخیر اور حکومت مسلم ہو جاتی ہے ۔ محوری اور طولانی گردش کے لیے ہم گھڑی کی سوئیاں دیکھتے ہیں ۔ ہمارا مشاہدہ ہے کہ گھڑی کی تینوں سوئیاں ایک مرکز سے بندھی ہوئی ہیں ۔تینوں سوئیوں کے سرے ایک جگہ جڑے ہوتے ہیں اور دوسری طرف کے سرے الگ الگ ہیں ۔ لیکن دونوں سرے حرکت کر رہے ہیں ۔سرے کی ایک حرکت نظر آ رہی ہے اور دوسری حرکت نظر نہیں آ رہی ۔ جس جگہ حرکت نظر نہیں آ رہی وہاں ٹائم اینڈ سپیس بھی زیر بحث نہیں آ رہا اس کو محوری حرکت کہیں گے ۔ دوسری طرف سوئیاں حرکت کر رہی اور ان کی حرکت نظر آ رہی ہے یہ طولانی حرکت ہے اور اس میں ٹائم اینڈ سپیس وجود میں آرہا ہے ۔ تینوں سوئیاں جس بیلٹ(ڈائل)پر سفر کر رہی ہیں یا گھوم رہی ہیںاس کے اوپر نقش و نگار بنے ہوتے ہیں اور وہ ہمیشہ اپنی جگہ پر ساکن یا ٹھہرے ہوئے ہیں اگر ہماری توجہ بیلٹ یا ڈائل پر ہے تو ہم ٹائم اینڈ سپیس سے آزاد زندگی گزارتے ہیں اگر ہمارے حواس سوئیوں پر ہے تو ہم قید و بند کی زندگی میں مبتلا ہیںاگر ہم اپنے حواس یا تو جہ کو ساکن کر لیں تو یہ زندگی جنت کی زندگی کہلائے گی ۔چونکہ انسان نے اپنے حواس کو مادی جسم کے اندر قیود کیا ہوا ہے ۔ اسلیئے حواس اپنے اندر پابندی کی وجہ سے تکلیف و آلائم میں مبتلا رہتا ہے جب اس کے حواس مادی جسم سے باہر چلے جاتے ہیں وہ شاداں و فرحاں اور ٹائم اینڈ اسپیس سے آزادی محسوس کرتا ہے ۔ مثال کے طور پر بیداری میں حواس مادی جسم کے اندر کام کرتے ہیں لیکن سونے کے دوران یہی حواس جسم سے باہر آ کر ٹائم اینڈ اسپیس سے آزاد ہو کر جاتے ہیں ۔
بیداری کے دوران اس کے حواس محوری اور طولانی طرز پر کام کرتے ہیں جب خواب یا نیند میں یہ حواس ایسی بیلٹ میں داخل ہوجاتے ہیں جہاں وہ ضرورت کے مطابق یہ چیز کو حاصل کر سکتے ہیں ۔
مادی جسم کے اندر حواس جب ایک جگہ پر ساکن ہو جاتے ، مرکوز ہو جاتے ہیں یا ان کے اندر تغیر رونما نہیں ہوتا تو یہ حواس خطرناک زون سے باہر نکل جاتے ہیں اور ایسے علاقے میں داخل ہو جاتے جہاں ہر چیز پر ان کا تصرف اور تسخیر ہوتی ہے اور وہ خوف اور غم سے آزاد ہوتا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں