روحانی اور سائنسی ڈائیمنشن میں کیا فرق ہے ؟ 29

روحانی اور سائنسی ڈائیمنشن میں کیا فرق ہے ؟

تحریر:عبدالوحید نظامی العظیمی

روحانیت کا شعبہ دو علوم پر مشتمل ہے ۔
۱۔ علم لوح
۲۔ علم قلم
یہ دونوں علوم کائنات کی رگ جان ہیں ۔ انہی علوم کی طرزیں سائینسی علوم کی بنیاد بنتی ہے ۔ نقطہ ، زاویہ ، مربعہ ، مستطیل ، مکعب ، دائرہ وغیرہ کا سبقلم اور لوح کے مظاہرات ہیں ۔ مطلب قلم جب بھی لوح سے ٹکرائے گا اس کی پہلی شکل ہمیشہ نقطہ بنے گی اور نقطے کی تکرار لکیر بن جائے گی جب دو لکیریں آپس میں ملیں گی تو زاویہ بن جائے گا جب زاویہ کی لکریں ایک دوسرے متوازی یعنی چاربن جائیں تو بننے والی شکل مربعہ یا مستطیل کہلاتی ہے جب یہی مربعہ یا مستطیل چھ زاویوں میں آپس میں مل جائیں تو یہ لکیریں ۱۲ عدد لکیریں بن جائیں گی ۔ ہر لکیر ایک پیمائش یا ڈائمنشن ہے ۔ سائنس کے مطابق کائنات ۱۲(بارہ ) ڈائیمنشن پر کام کر رہی ہے یہ بارہ ڈائمینشن دائرہ کی 360 ڈائمینشن میں بدل جاتی ہیں ۔

انجنیئرنگ میں پیمائش یا ڈائمنشن کے اصول کے مطابق سنگل یا اکیلی لکیر پہلی ڈائیمنشن یا 1-Dکہلاتی ہے۔جب چار لکیریں ایک دوسرے کے متوازی آجائیں تو اس کو 2Dیا دو پیمائشیںکہتے ہیں ۔ جس کو مربع یا مستطیل کہتے ہیں ۔

جب مربع کی چارسمتوں میں متوازی مربع بنائے جائیں تو یہ ۱۲ لکیریں بن جاتی ہیں ۔ جن کو 3Dبولتے ہیں ۔

انجنیئر نگ میں اگر پیمائش فٹ کے اندر ہے تو پہلی لائن کو رننگ فٹ چار لکیروں کو مربع فٹ اور بارہ لکیروں کو مکعب فٹ بولیں گے ۔ لڈو کی گیم کے اندر پھینکے جانے والے دانے پر چھ تک ہندسے لکھے ہوتے ہیں یہ چھ ہندسے اصل میں چھ سمتیں ہیں ۔ مشرق ، مغرب ، شمال ، جنوب، بلندی اور پستی۔ اگر لڈو کے دانے کی سمتوں میں بننے والے ہر کونے کو ختم کر دیا جائے تو یہ دانہ گولائی میں تبدیل ہو جائے گا اب گول چیز ، فٹ بال ، گیند، زمین ، سورج ، چاند کے جسم کی پیمائش ۳۶۰ زاویوں رکھی جاتی ہے ۔
اب علم چاہیے سائنس کا ہو یا روحانیت کا ایک جسم کا دوسرے جسم کے درمیان فاصلہ ، خلاء یا اسپیس ڈائیمنشن یا پیمائش کہلاتا ہے ۔

اگر یہ پیمائش انسان کے بنائے عدووں پر مشتمل ہے تو یہ انجنیئرنگ یا سائنس کہلائے گی ۔ مثلاً کلومیٹر ، میل ، میٹر ، فٹ یا انچ اگر دونوں اجسام نہ ہوں تو خلاء، فاصلہ، اسپیس روحانیت کہلائے گی۔ اس خلاء ، فاصلہ یا اسپیس میں کسی قسم کی کوئی دائمنشن یا پیمائش زیر بحث نہیں آئے گی ۔ کیونکہ ڈائمنشن ہمیشہ دو وجود کے درمیان ہی واقع ہو گی ۔ چونکہ انسانی جسم ڈائیمنشن پر مشتمل ہے ۔ مثلاً قد، وزن ، رنگ ، خدوخال ، نقش و نگار وغیرہ اسلیئے وہ فاصلہ ، خلاء، اسپیس کی لا محدود وسعتوں کو نہیں سمجھ سکتا۔ انسان کے جسم کے اندر خلاء اور اس کے جسم کے گرد باہر کا خلاء دراصل ایک ہی چیز ہے ۔ انسانی جسم خلاء یا فاصلے سے گزر کر ایک جگہ سے دوری جگہ جاتا ہے ۔ بالکل اسی طرح انسان کے ایک سوراخ سے غذا یا پانی داخل ہوتا ہے اور جسم کے اندر خلاء یا فاصلے سے گزر کر یہ دوسرے سوراخ سے خارج ہو جاتا ہے ۔ اگر جسم انسانی کے اندر خلاء نہ ہو ، سانس، ہوا، پانی ، خوراک داخل و خارج نہیں ہو سکتی ۔ انسانی جسم کے اندر ڈائیمنشن ، مقداریں ،وزن ، حجم ، خیالات کے ذریعے بنتے ہیں اگر خیالات جسم کے اندر شعوری طور پر بننا بند ہو جائے تو انسان غیب میں جو کچھ دیکھے گا وہی سچ ہو گا۔
مٹریل کی ہر قسم کی ڈائمنشن کے اندر یا پس پردہ لکیریں موجود ہیں ۔اصل میں نقطہ غیب و شہود کے درمیان واقع ہوتا ہے ۔ نقطے کی تعریف یہ ہے کہ جسکی لمبائی ، چوڑائی اور موٹائی نہ ہو۔ لمبائی ، چوڑائی ، موٹائی ، دائیمنشن یا پیمائش ہیں ۔ گویا نقطہ ایک ایسا ادراک ہے ۔ جو اپنے پس پردہ غیب کی نشاندہی کر رہا ہے ۔ نقطہ وجود میں آنے سے پہلے غیب ہے اور غیب اللہ کی ذات ہے اور غیب کے علم کا ایک رخ قلم کہلاتا ہے ۔ اور دوسرے رخ کو لوح کہتے ہیں لوح و قلم کا علم انسان کو اللہ نے اپنی نیابت کے لیے عطا کیے ہیں ۔ اور اسی لوح وقلم سے پوری کائنات وجود میں آئی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں