35

“زندگی میں کامیابی کب ملتی ہے”

کیا کامیابی پیسوں کا نام ہے؟

کیا کامیابی اچھے رتبے کا نام ہے؟

کامیابی ہے تو سکون کیوں نہیں ہے؟

جب بھی دوست احباب اکھٹے ہوجائیں یا کام کے سلسلے میں میٹنگ ہو یا گھر میں بیٹھے ہوئے ہوں اس موزوں پر بات ضرور ہوتی ہے اور ہم ہر بار کامیابی کے لیے مسلسل پریشان رہتے ہیں کیوں؟؟؟ کیونکہ کامیابی کا ہونا کبھی ہم تسلیم نہیں کرتے اور کامیاب ہونے پہ کام کرتے رہتے ہیں۔

 جگ میں کتنا پانی ڈال سکتے ہیں ہم ایک بار بھر جائے تو ہم رک جاتے ہیں۔اس کے ساتھ خوشی محسوس کرتے ہوئے اسکا استعمال کرتے ہیں یہ تو نہیں ہوتا کہ اسکو بھر کے بنا پیئے چلے جاتے ہیں۔ اسلیے جو ہے اسکا ہونا محسوس کریں اس میں خوش ہونا سیکھیں اور تسلیم کریں کہ آپ کامیاب ہو گئے ہیں اب پانی کتنا بھرنا ہے کب رکنا کب چلنا یہ آپ پر ہے پر یہ مطلب نہیں کہ آپ نے کچھ کیا نہیں۔ خدارا جو کیا ہے اسکو خوشی سمجھیں اس میں خود کو وقت دیں رشتوں کو سمجھیں، سنے انکو وہ پیسوں سے نہیں چلتے ۔کیونکہ اگر بس پیسہ حاصل کیا تو باقی سب کھو دیا وہی انسان اپنے گھر والوں کو اس معاشرے کو خوش کر سکتا جو کامیابی کو تسلیم کر لے گا کیونکہ مسلسل بھاگنے والے کو تو اکثر اسکا اپنا سایہ بھی ایک دن چھوڑ کے چلا جاتا ہے اور اس وقت بس وہ کہتا ہائے بس ایک بارلوٹ آئے یہ وقت جو کہ بے بس ہوتا۔ تب وہ اور پھر اجا کر یا تو تنہا ہو جاتا ہے اور یا بیمار، اور تب اسکو لگتا ہے کہ کچھ تو غلط ہوا ہے اور پھر وہ لوگوں کو سمجھاتا ہے کہ خود کا ہونا کبھی مت بھولنا۔ پر لوگ کیسے اثر کریں گے پھر جبکہ اسکی جوانی انکو پتہ ہی نہیں۔ اس لیے اپنی جوانی کو ایسا بنائیں کہ آنے والی نسلیں بڑھاپے میں نہیں وقت کے ساتھ ہی خود کو کامیاب اور خوش پائیں۔۔۔۔

مُصَنِّفہ،

ماہر نفسیات و سپیچ تھراپسٹ شگفتہ اقبال۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں