سانس ، روحانیت اور سائنس 28

سانس ، روحانیت اور سائنس

تحریر: عبدالوحید نظامی العظیمی

مٹی کی لکریں ہیں جو لیتی ہیں سانس
جاگیر ہے ان کے پاس فقط اک قیاس
ٹکڑے جو قیاس کے ہیں مفروضہ ہیں
ان ٹکڑوں کا نام ہم نے رکھا ہے حواس

عظیم روحانی سائنس دان حضور قلندر بابا اولیاء رحمتہ اللہ علیہ نے اس رباعی کے اندر مادے کی چار حالتوں کا ذکر فرمایا ہے ۔ ٹھوس، مائع، گیس اور روشنی ۔
ٹھوس سے مراد مٹی اور مٹی کی اشیاء ۔
مائع سے مراد مادے کی وہ حالت جو ٹھوس ہونے سے پہلے تھی۔
گیس مائع میں تبدیل ہونے سے پہلے کی حالت جو سانس کے ذریعہ جسم کے اندر داخل اور خارج ہوتی ہے ۔
روشنی جو گیس میں منتقل ہونے کی پہلی شکل ہے۔
ماہرین سائنس نے اب یہ بات ثابت کر دی ہے کہ چیزیں چاہے جاندار ہوں یا بے جان ان کے اندر گیسز داخل اور خارج ہوتی رہتی ہیں ۔ گیسز کا اندر اور باہر کا عمل سانس کے علاوہ کچھ نہیں کہلاتا۔ ہر مخلوق کے اندر گیسز کا عمل دخل یا سانس ان کی کیمیائی ساخت اور جسمانی افعال کے مطابق ہوتا ہے ۔ مثلاً پتھروں اور پہاڑوں کے اندر گیسز کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے ۔ پتھر کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کو جذب کرتے ہیں اور ہیلیم اور ہائیڈروجن گیس کا مرکب (Mithene) خارج کرتے ہیں۔
درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس جذب کرتے ہیں اور آکسیجن گیس خارج کرتے ہیں ۔
انسان اور چوپائے آکسیجن گیس جذب کرتے ہیںاور کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں ۔
انسانی جسم کی ساخت کے حامل جانور اور انسان کے نچلے اعضائے اخراج سے نائٹروجن گیس اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار مرکب کی صورت میں پائی جاتی ہے ۔
پرندوں کے اندر سانس کا عمل دخل بھی کئی گیسز پر مشتمل ہے ۔ جب پرندے فضا کے اندر زمین کی کشش کو توڑ کر اڑتے ہیں تو آکسیجن گیس کے ساتھ فضا میں آبی بخارات نائٹروجن گیس کے ساتھ مل کر داخل ہوتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس اور آرگن گیس بن کر خارج ہوتی ہے ۔
ہر مخلوق کے اندر سانس کے ذریعے گیس کا تبادلہ بہت سارے سائنسی اور روحانی فارمولوں کا انکشاف کرتا ہے ۔
ہماری کرہ ارض کی فضا کے اندر ہوا، آکسیجن گیس، امونیا، نائٹروجن ، آرگن ، نیو آن گیس، ہیلیم ، متھین کرائی پوٹن، فیری آن ہائیڈروجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس ملکر مادے کی ٹھوس اور مائع حالت میں تبدیلی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔گیسز کی ابتدائی شکل روشنی ہے ۔ روشنی کے اوپر جب دباؤ پڑتا ہے ۔ تو وہ مختلف گیسز میں تبدیل ہوتی ہے ۔ جب گیسز میں مزید دباؤ بڑھ جاتا ہے تو گیسز مائع کے اندر تبدیل ہو جاتا ہے ۔ روشنی ، گیسز، مائع کے اندر دباؤ سے مراد ٹھنڈک Colling ہے جب مائع کو مزید ٹھنڈا کیا جائے تو وہ ٹھوس شکل اختیار کر لیتی ہے ۔ عرف عام میں 2 حصے ہائیڈروجن اورایک حصہ آکسیجن H2O ملکر پانی اور پانی ٹھوس برف کی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔ جب برف کو گرم کیا جاتا ہے تو وہ واپس پانی اور پانی مزید گرم کرنے سے آبی بخارات اور گیسز میں اور گیسز کو مزید گرم کرنے سے روشنی کی سپارکنگ رہ جاتی ہے ۔ روشنی اور تاریکی یعنی دن یا رات اس کائنات کا بنیادی جزو ہے ۔ روشنی اور تاریکی بھی سانس لیتی ہے۔
قرآن مجید کے اندر سورۃ تکویر آیت نمبر ۱۷۔۱۸پارہ نمبر ۳۰ میں ارشاد ہے۔
وَالَّیْلِ اِذَاعَسْعَسَo
ترجمہ:’’قسم ہے رات کی جب سانس خارج کرتی ہے ۔‘‘
وَالصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَo
ترجمہ:’’ قسم ہے صبح کی جب سانس لیتی ہے ‘‘
قرآن کی ان آیات کے اندر تفکر یہ بات واضح کر دیتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز سانس کے اوپر قائم ہے سانس کے ذریعے حواس بنتے ہیں اور حواس کا تعلق روشنی کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔ حواس اپنا وجود قیاس ، خیال ، فکر یا سوچ کی مدد سے برقرار رکھتے ہیں ۔ رات اور صبح روشنی کی ہی ایک شکل ہے ۔ قلندر بابا اولیاء نے مٹی سے مراد ہر قسم کا مٹریل لیا ہے اور مادے یا مٹریل کی ہر حالت سانس لیتی ہے۔ یعنی مٹی کی لکیریں سانس لیتی ہیں اور ہر مٹریل کی اکائی قیاس، فکر یاسوچ ہے چونکہ مٹریل کے اندرتغیر ہے۔ تو فکر یا سوچ بھی تبدیل ہوتی رہتی ہے جب فکر یا سوچ تبدیل ہوتی ہے تو وہ سوائے مفروضہ کے کچھ نہیں رہتی ہے ۔ تو ہمارے حواس ، دیکھنا ،سننا ، چکھنا ، سونگھنا اور محسوس کرنا بھی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ چونکہ سانس کے ذریعے خیالات بنتے ہیں اسلئے زندگی کا دارومدار بھی سانس کے اوپر قائم ہے ۔ اگر انسان سانس روک لے تو دماغ کے اندر خیالات بننا بند ہو جاتے ہیں۔ روحانیت میں غیب کی دنیا میں داخل ہونے کے لیے سانس کی مشقوں کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ اگر سانس روک کر ارتکاز کی مشقیں کرے تو شعوری سکت بڑھ کر غیب و شہود کے لاشعور میں بدل جاتی ہے۔ چونکہ سانس روکنے سے خیالات جسم کے اندر منتقل نہیں ہوتے تو حواس جسم کے اندر بننا یا کام کرنا بند کر دیتے ہیں اور جسم کے حواس روح کے حواس میں تبدیل ہو کر غیب کو سامنے لے آتے ہیں۔
سانس کی چار حالتیں ہیں:
۱۔سانس اندر داخل کرنا۔
۲۔داخل ہونے کے بعد ٹھہر جانا یا وقفہ پیدا ہونا۔
۳۔سانس کا خارج کرنا۔
۴۔خارج کرنے کے بعد وقفہ پیدا ہونا۔
سانس کے اس عمل میں ایک چیز مشترک ہے وہ ٹھہراؤ یا وقفہ ہے ۔ اگر ہم کسی طرح ٹھہراؤ یا وقفہ میں اس طرح اضافہ کر لیں نہ تو سانس اندر جائے اور نہ باہر آئے تو روحانی ترقی اور غیب کی دنیا کا مشاہدہ تیزی اختیار کر لیتا ہے ۔ موت کے دوران نہ سانس اندر آتا ہے اور نہ ہی خارج ہوتا ہے۔ بیداری کے اندر یہ کیفیت طاری کر لینا موت کے بعد کی زندگی کو بیداری میں منتقل کر دیتی ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ’’ موت سے پہلے مر جاؤ‘‘ میں اس حکمت کی طرف اشارہ ہے ۔
انسان ایک منٹ میں ۱۵ سے۱۸ مرتبہ سانس لیتا ہے ۔ اگر ایک منٹ سانس نہ لے تو پندرہ سے اٹھارہ سانس جمع (Store) ہو جاتے ہیں اور زندگی ایک منٹ بڑھ گئی۔ اگر ہر سانس میں ۲ منٹ کا اضافہ کرے تو زندگی کا دورانیہ آدھا گھنٹہ بڑھ گیا۔ اس طرح علم یوگ میں یوگی کئی کئی دن سانس روک کر اپنی عمر کو کئی سو سالوں میں تبدیل کر لیتے ہیں۔ سائنس کے اصول کے مطابق اشیاء جتنی زیادہ ٹھوس ہوں گی ان میں گیسز کا عمل دخل اتنا زیادہ کم (Slow) ہو گا۔ مائع یا ٹھوس مائع مرکب اجسام میں گیس کا تبادلہ یا سانس زیادہ ہو گا اور گیسز کے آنے جانے کی مقدار بھی زیادہ ہو گی۔ سول انجینئرنگ کے اصولوں کے مطابق پتھروں کی وزن برداشت (Bearing Capacity) زیادہ ہوتی ہے ۔ جیسے جیسے پتھروں میں نرمی ہو گی اس میں وزن برداشت (Loading Power) کم ہوتی ہے ۔ پتھروں میں نرمی سے مراد گیسز کے عمل دخل کا تیز ہونا ہے ۔ یعنی گیسز مائع میں تبدیل ہو کر پتھروں کے ٹھوس پن (Hardness) کم کرتی ہے ۔ مثلاً سول انجینرنگ کے مطابق پہاڑی پتھروں کی بیرنگ کپیسٹی 600کلو پاسکل (Killo Pascal) ہے ۔ ریتلے پتھروں کی 500 ، زمینی پتھروں کی 450، سخت زمین کی 400,نرم زمین کی 200اور دلدلی زمین کی 20کلو پاسکل ہے ۔ پاسکل سے مراد وزن دالنے کی اکائی ہے ۔ جو مخالف جسم کی مزاحمت کی قوت برداشت کے اصول پر مبنی ہے ۔ میڈیکل سائنس میں گیسز کے آنے جانے کے عمل کو سانس کی مقداروں سے منسوب کیا ہے ۔ روحانی سائنس دان اور مادی سائنس دان کی تحقیق کو اگر سامنے رکھ کر تفکر کیا جائے تو حیرت انگیز نتائج سامنے آتے ہیں۔ مثلاً روحانی علما ء کے مطابق پہاڑ 15منٹ سانس لیتا ہے ۔ تو سائنسی اصولوں کے مطابق اس کی وجہ پتھروں کی سختی ہے ۔ جس بنا پر ان کے اندر گیسز داخل ہونے کا عمل انتہائی سست ہے ۔ لہٰذا پتھروں کے اندر گیسز کا تبادلہ 15منٹ انسانی شعور میں آنا درست تسلیم کرتا ہے ۔ کسی چیز کے وزن کو برداشت کرنے کا یہی سائنسی اصول وضع کیا گیا ہے ۔ جتنا زیادہ اجسام یا اشیاء کے اندر گیسز کا تبادلہ ہو گا۔ اسی مناسبت سے وزن کی قوت برداشت کرنے کی صلاحیت ہو گی۔ درختوں کے اندر مٹی اور بیج مل کر فائبر ز کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ درختوں کے ریشوں میں جتنی زیادہ سختی ہو گی ۔ گیسز کا عمل دخل اسی مناسبت سے کم ہو گا۔ عام طور پر درختوں کی لکڑی میں سختی اور اس میں لچک اس کے ریشوں یعنی فائبرز کی مرہون منت ہے ۔ روحانی علماء اور سائنس کے اس اصول کے مطابق درختوں کے سانس لینے کا دورانیہ تقریباً 7 منٹ بنتا ہے ۔ جڑی بوٹیوں میں درختوں کے برعکس سختی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے ۔ یعنی ان کے فائبرز میں لچک زیادہ ہوتی ہے ۔ لہٰذا ان کے اندر سانس لینے کا دورانیہ ان کی ساخت کے مطابق 3 منٹ کے قریب ہوتا ہے ۔ جن اجسام میں مائع یا خون کا عمل زیادہ ہو گا اس میں اسی مناسبت سے گیسز کا تبادلہ تیز اور زیادہ ہو گا۔ سیال مائع یا خون پر مشتمل حشرات الارض یا چوپاؤں میں اس مناسبت سے سانس کا دورانیہ زیادہ ہوتا چلا جاتا ہے ۔ یہاں تک کے انسان کے اندر سانس لینے کا دورانیہ 1منٹ میں 15سے 18ہو جاتا ہے ۔ میڈیکل سائنس کے مطابق ایک نارمل انسان 6سے 7 لیٹر گیس اپنے اندر داخل کرتا ہے ۔ اور ایک دن میں اوسطاً 25سے 30ہزار تک سانس لیتا ہے ۔ ان سانسوں کی مقداروں میں گیس 390سے لے کر400مکعب فٹ تک ہوتی ہے ۔
روحانی علماء کے مطابق پہاڑ کا ایک سانس 15 منٹ میں پورا ہوتا ہے۔ یعنی 15 منٹ سانس اندر لے کر جانا اور 15 منٹ خارج کرنا۔ اگر کوئی انسان 15 منٹ تک سانس روک لے تو پہاڑ کے اوپر تصرف کر کے اسے ریزہ ریزہ کر سکتا ہے۔ ۔ ہماری کرہ ارض ۱۲ گھنٹے میں سانس لیتی ہے اور ۱۲ گھنٹے خارج کر تی ہے ۔ چاند کا سانس لینے کا دورانیہ ۱۴ دن اور خارج کرنے کا دورانیہ ۱۴ سے ۱۵ دن تک ہوتا ہے ۔ غار حرا میں حضور نبی کریم ﷺکی ریاضت اور مجاہدے پر عبور سے چاند کے دو ٹکڑے کرنے میں یہی حکمت موجود تھی۔ آپ ﷺ کو اپنے سانس پر مکمل عبور حاصل تھا۔وہ اجسام جو خلاء کے اندر قیام پذیر ہیں۔ مثلاً زمین ، سورج ، چاند ستارے وغیرہ ان میں سانس کی مقدار ان کے اجسام کی ساخت ، ہیئت ، ماہیت اور ان کی فضا میں موجود گیسوں کے مطابق ہوتی ہے ۔
سورج کا سانس لینے کا دورانیہ6 ماہ اور خارج کرنے سے دورانیہ بھی 6 ماہ ہے ۔ ہماری کہکشانی نظاموں میں سانسوں کا عمل دخل موجود ہے ابھی تک ان نظاموں کے اندر گیسز (Gases) کی ہزاروں قسمیں ہوشیدہ ہیں۔ چاند کے اندر ہیلیم، آرگن، متھین نیوآن گیس کی مقداریں موجود ہیں۔ ماورائی اجسام مثلاً جنات اور فرشتوں میں ان کے لطافت روشنی اور فضائی ماحول کے مطابق سانس لینے کا دورانیہ الگ الگ ہے ۔ قرہ ارض کے اندر انسان کی اوسطاً عمر 60سال ہے اور جنات کی اوسطاً عمر 900سال ہے ۔ اس مناسبت سے ایک جن کے سانس لینے کا دورانیہ تقریباً 90منٹ یا ڈیڑھ گھنٹہ بنتا ہے۔ زمین کے اوپر موجود ملائکہ ارضی کے اندر زمینی ساخت اور ان کے روشنی کے جسم کی بنا پر سانس لینے کا دورانیہ ۳ گھنٹے بنتا ہے ۔ ملائکہ سماوی ، ملائکہ حاملان عرش اور ملاء اعلیٰ الگ اقسا م اور الگ درجات کے فرشتے ہیں ۔
سورج کے اندر ہائیڈروجن ، ہیلیم ، ایٹمک گیسیں سامنے آ چکی ہے۔ اس طرح مریخ ، یورینس اور دیگر سیاروں میں گیسز دریافت ہو چکی ہیں۔ ہماری کرہ ارض ۱۰ گیسز والا سیارہ کہلاتی ہے ۔ کائنات کے اندر ہر چیز کی بنیاد روشنی کو قرار دیا جا رہا ہے ۔ اور روشنی گیسوں میں تبدیل ہو رہی ہے ۔ عظیم روحانی سائنسدان قلندر بابا اولیاء رحمتہ اللہ علیہ اس روشنی کو قرآن کے مطابق ماء یعنی پانی کے نام سے دیا ہے ۔ اس پانی کو موجودہ دور کی سائنس گیسز کا نام دیتی ہے اوریہی کائنات کی پہلی بساط ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق کرہ ارض کے اردگرد گیسوں کا ایک ہجوم ہے اور کئی قسم کی گیسز ہیں جو سامنے نہیں آسکی زمین سے لیکر چاند تک اور چاند سے لیکر دیگر ستاروں کے درمیان خلاء ہزاروں قسموں کی گیسز پر مشتمل ہے ۔ ان گیسز کے ملنے سے مختلف کہکشانی نظام وجود میں آ رہے ہیں اور ان نظامو میں زندگی کی بنیاد بھی یہی گیسز بن رہی ہے ۔ یہ گیسز کی بھی وجود کے اندر سانس کے ذریعے داخل ہوتی ہے اور اس وجود کی ہیئت اور کیمیائی ماہیت کی وجہ سے تبدیل ہو کر گیس کی تبدیل شدہ شکل خارج ہو جاتی ہے ۔
حضور قلندر بابا اولیاء کی تعلیمات میں پوری کائنات کی ظاہری ساخت کو مٹی سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ یعنی سورج ، چاند ستارے، زمین اور زمین پر موجود تمام مخلوقات نباتات ، جمع دات، حیوانات سب مٹی کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس مٹی کے اندر سانس یعنی گیسوں کی آمدرفت جاری ہے ۔ جس کے نتیجے میں مادہ موجود میں آکر حواس اور فکر کے ذریعے علم کی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔ زمین یا مٹی سے مراد جس جگہ پر ہمارے حواس نظاموں کو دیکھتے ہیں یہ نظام سکرینوں کا کردار ادا کرتے ہیں ۔ یعنی ہماری مظاہراتی کائنات سکرین کے علاوہ کچھ نہیں ۔ اسی سکرین کو مٹی، زمین یا ذرات کے علاوہ کوئی نام نہیں دیا جا سکتا ۔
حضور قلندر بابا اولیاء رحمتہ اللہ علیہ اس سائنسی فارمولے پر غور کریں جو انہوں نے اپنی رباعی میں بیان فرمایا ہے کائنات کی ساخت کو کھل کر سامنے لے آتا ہے ۔ ہمارا مادی جسم سانس کے اوپر کام کر رہے ۔ گیس جسم کے اندر داخل ہو کر کیمیائی تبدیلی سے خارج ہو رہی ہے ۔ ان کی بنیاد روشنی ہے ۔ روشنی گیسز کے اندر گیس مائع کے اندر مائع ٹھوس اشیاء کے اندر اورٹھوس اشیاء اپنے اندر مائع گیس اور روشنی کو جذب کیے ہوئے ہے ۔ گویا کسی طرح ہم اپنے سانس یعنی گیسز کے داخلے اور خارج ہونے کو روکنے پر عبور حاصل کر لیں تو کائنات کی بساط روشنی اور روشنی کا منبع اللہ کا نور مشاہدے میں آجاتا ہے ۔ جب ہمارے حواس نور سے منور ہو جاتے ہیں یہ نورانی حواس اپنے خالق کا عرفان حاصل کر لیتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں