24

سلوک کا تعارف

سلوک کا تعارف

سلوک کا لغوی، اصطلاحی مفہوم:

سلوک عربی زبان کا لفظ ہے جو کہ سَالَک، یَسْلُکُ ، سَلْکاً وَ سَلُوْکاًسے مشتق ہے مختلف صلہ کے استعمال سے عربی زبان میں مختلف معنی اور مفاہیم میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اکثر کہا جاتا ہے سَالَکَ الطریق (وہ راستے پر چلا) یا سَالَکَ مَسْلُکاََ (اس نے کوئی روش اختیار کی) اسی طرح بعض معاجم میں بھی منقول ہے۔ سَالَکَ المَکانَ وَبَہِ و فَیْہِ (یعنی کسی جگہ داخل ہونا اور پار ہو جانا)۔ اس طرح سَلَّکَہُ وَ اَسْلَکَہُ سے مراد گرہ کھولنا سمجھانا اور دانتوں میں خلال کرنا(۱)۔
اور سلوک کا لغوی معنی طرز عمل، کردار، روش معاملہ، طور طریق، برتائو، اور علم تصوف میں تلاش حق بیان کیا جاتا ہے سالک سے مراد چلنے والا یا کوئی طرز عمل اپنانے والا یا کوئی روحانی منازل طے کرنے والا ہیں۔
سلوک کا اصطلاحی مفہوم:
ہرچیز سے اللہ تعالیٰ کی ذات کا مشاہدہ اور طلب کرنا سلوک کہلاتا ہے۔ جس کو سیر آفاقی کا نام بھی دیا جاتا ہے(۲)۔ طریق استدلال کی بجائے سیر کشفی عیانی کے طریق پر خدا تک پہنچنا سلوک کہلاتا ہے۔ صوفیاء کی اصطلاح میں سیرعاشق بجانب معشوق انتقال حسی و معنوی، جہاد بالنفس اور سیرالی اللہ بھی سلوک کے ہی مختلف نام ہیں کوئی مرشد کامل اتباع سنت و شریعت اور ریاضت و مجاہدہ کے ذریعے جو راستہ طے کروائے اس کو سلوک کہا جاتا ہے۔ اس علم کا مطلوب زبان کی بجائے دل ہے اور یہ راستہ پائوں کی بجائے دل سے طے کیا جاتا ہے اس علم کے مقامات کو شریعت ، طریقت، حقیقت اور معارفت کہا جاتا ہے۔ اس علم کے حاصل کرنے والے کو سالک، صوفی، فقیر، عارف اور انسان کامل کا نام دیا جاتا ہے۔ اس علم کا مقصود تزکیہ نفس، مکارم اخلاق اور اخلاص کی تکمیل ہے(۳)۔
حضرت خواجہ بہائو الدین محمدنقشبند ؒ سے سلوک کا مقصد دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ اجمالی معرفت تفصیلی اور استدلالی معرفت کشفی ہو جائے(۴)۔ حضرت خواجہ باقی باللہ ؒ فرماتے ہیں راہ سلوک سے مراد اسے طے کرنا ہے نہ کہ اس میں کھو جانا ۔ وہاں سے کچھ حاصل کرنا ہے نہ کہ ہر چیز کی نفی کر دینا(۵)۔
سلوک روحانی تربیت اور باطن کی اصلاح کا نام ہے کہ خالق کائنات کی محبت و معرفت حاصل ہو جائے۔ حضرت محمد ﷺ کی مکمل اتباع محبت اور اخلاص کے ساتھ نصیب ہو(۶)۔ سلوک میں درج ذیل دس مقامات کو طے کیا جاتا ہے جس میں توبہ، امانت، زہد، ریاضت، ورع، قناعت، توکل، تسلیم، صبر اور رضا شامل ہیں سلوک کی منازل اسی صورت میں طے ہو سکتی ہیں جب شیخ کامل اور مکمل ہو اور وہ خود بھی ظاہری طور پر حضور اکرم ﷺ کی مکمل اطاعت کرے اور سالک کو بھی اس کا پابند کرے تا کہ اس کے باطن کا رشتہ غیر اللہ سے توڑ کر اور بے تعلق کر کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ قائم کر دے(۷)۔ اولیاء کرام نے اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا جو طریقہ مرتب کیا ہے اس کو سلوک الی اللہ کہتے ہیں۔ اس طریقہ میں اسلام کی تمام عبادات یعنی نماز ، روزہ، زکوۃ، حج، تلاوت کے علاوہ کچھ زائد عبادات بھی کرنا ہوتی ہیں تاکہ روحانی سفر جلدی طے ہو جائے۔ ان عبادات میں اوراد،وظائف، اذکار، مشاغل اور مراقبات شامل ہیں۔جس سے تزکیہ نفس ہوتا ہے۔ جسمانی و نفسانی خواہشات کا زور کم ہوتا ہے اور روح میں طاقت پیدا ہوتی ہے کیونکہ انسان روح اور جسم کا مجموعہ ہے روح عالم قدس کی چیز ہے اور اس کا تقاضا اوپر کی طرف کشش کرنا ہے جبکہ اس کے برعکس جسم عالم ناسوت کی چیز ہے اور سفلی یعنی نیچے کی طرف کشش کرتی ہے۔ تمام اسلامی عبادات ، مجاہدات اور ریاضات کا مقصد نفس کی خواہشات کو کم کرنا اور روح کو اس کی حقیقی خوراک یعنی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے طاقت دے کر اس کے اندر قوت پرواز پیدا کرنا ہے انسانی جسم کے اندر چھ لطائف یا روحانی مراکز ہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی ضربیں لگا کر ان کو زندہ کیا جاتا ہے۔ زندہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ ان میں اللہ تعالیٰ کا ذکر جاری ہو جائے۔ یہی سلوک کا بنیادی مقصد ہے(۸)۔
سلوک طریقت کے ذریعے سے ہی بخل، حسد، ریا اور کبر و خود نمائی جیسے اخلاق ذمیمہ کو ختم کیا جاسکتا ہے اور اخوت و اخلاص و تواضع اور عاجزی جسے اخلاق حسنہ پیدا کئے جا سکتے ہیں۔ شریعت ہی معرفت کا دروازہ ہے شریعت کی پیروی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہنا اور پختگی اور استقامت کے ساتھ رضا الٰہی کی تلاش میں رہنے کا نام سلوک ہے(۹)۔
جس طرح سیر آفاقی کا نام سلوک ہے اسی طرح سیر انفسی کا نام جذبہ ہے اللہ تعالیٰ کے فضل اور مرشد کامل کی توجہات سے سیر انفسی میںعالم امر کے لطائف کا تزکیہ ہو جاتا ہے اور لطائف اپنی اصل میں فنا ہو جاتے ہیں۔ اس کیفیت کو جذب کہتے ہیں اور اس تربیت کوحاصل کرنے والے کو مجذوب سالک کہتے ہیں۔ اگر سلوک جذبے پر مقدم ہو تو ایسے مرید کو سالک مجذوب کہتے ہیں۔ اسی لئے اکثر نقشبندی صوفیاء مجذوب سالک ہوتے ہیں، دیگر سلاسل کے بزرگ سلوک کو جذبے پر مقدم کرتے ہیں۔ اسی لئے ان کے اکثر صوفیاء سالک مجذوب ہوتے ہیں۔
ایک سالک جب تزکیہ نفس کے بعد مقام معرفت پر فائض ہوتا ہے اور جذبہ وسلوک کی دونوں جہتوں سے حصہ پاتا ہے اور اجمالی و جلالی صفتوں کے ساتھ تربیت پاتا ہے تو اس کو ذات باری تعالیٰ کے ساتھ محبت ذاتی کا مقام حاصل ہوتا ہے۔ اس مقام میں اسے جمال اور جلال دونوں یکساںنظر آتے ہیں کیونکہ جمال اور جلال دونوں یہ اللہ تعالیٰ کے فعل ہیں۔ محبوب کے فعل بھی محبوب ہوتے ہیں اسی وجہ سے جمال و جلال کی خصوصیات سالک کی نظر سے اوجھل رہتی ہیں اور اس کی ساری توجہ صرف محبوب کی طرف رہتی ہے(۱۰)۔
سلوک کی منازل کو مختلف سلاسل مختلف انداز سے طے کرواتے ہیں مثلاََ سلسلہ عالیہ چشتیہ والے حضرات پہلے آفاق کے تعلق کو قطع کرتے ہیں ۔ پھرانفس کے تعلق کو قطع کرتے ہیں جبکہ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں مشائخ نقشبندپہلے اسم ذات کا ذکرکرواتے ہیں اور انفس کی گرفتاری سے نجات دلاتے ہیں۔ اور فرماتے ہیں سیر آفاقی سیر انفسی کے ضمن طے ہو جاتی ہے اور یہ بہت ہی اعلیٰ طریقہ ہے(۱۱)۔
جیسا کہ اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں فرمایا ہے:

{وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا} (۱۲)
ترجمہ: جو لوگ ہمارے راستے میں کوشش کرتے ہیں تو ہم اس کے لئے راستے کھول دیتے ہیں
مشائخ عظام سالک کو مجاہدہ کے ذریعے اس مقام تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حکم دیا ہے۔جب ایک سالک سلوک کی منازل طے کرتا ہے تو اس کا دل اللہ تعالیٰ کے نور سے منور ہو جاتا ہے اور اس کے دل سے ذلالت اور گمراہی ختم ہو جاتی ہے۔ اور وہ دنیا سے نفرت اور آخرت سے محبت شروع کر دیتا ہے۔ اپنے گناہوں سے معافی طلب کرتا ہے۔ سلوک کے ذریعے ہی سالک کی دل کی بیماریاں مثلاََ حسد، بخل، غرور، کینہ، ریا وغیرہ کو ختم کیا جاسکتا ہے اور ان کی جگہ اوصاف حمیدہ علم، حلم، سخاوت، خاکساری، تحقیر نفس ، کم خوری کم آرام طلبی اور کم گوئی پیدا کئے جا سکتے ہیں(۱۳)۔
حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی ؒ سے سلوک کا سب سے آخری مقام دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ جب سالک سلوک کی تمام منازل طے کر لے تو وہ شخص اگر مردے پر دم کرے اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے مردے کو اٹھنے کو کہے تو اگر وہ اٹھ جائے تو سمجھو کہ وہ شخص کمال کو پہنچ گیا ہے(۱۴)۔
سلوک کے طریقے:
سلوک کے طریقے لا تعداد ہیں مگر ان میں سب سے مشہور یہ تین طریقے ہیں؛
پہلا طریقہ صُلحا اور اخیار کا ہے جس میں تمام شرعی فرائض مثلاََ نماز، روزہ، تلاوت قرآن مجید، جہادا ور حج کو پورا کیا جاتا ہے اس طریقہ میںمنزل مقصود تک پہنچنے میں دیر لگتی ہے۔
دوسرا طریقہ مجاہدات و ریاضت کرنے والوں کا ہے اس میں تمام اخلاقی برائیوں کو اچھائیوں سے اور تمام اخلاق ذمیمہ کو اخلاق حمیدہ میں بدل دیتے ہیں۔ اس راہ میں اکثر فائز المرام ہوتے ہیں۔
تیسرے طریقے کے تحت تمام علائق دنیا سے قطع تعلق ہو جانا اور انسانی محبتوں سے جدا رہنا ہے اور ان تمام کا مقصد درد و اشتیاق اور ذکر و شکر کے علاوہ کچھ نہ ہو۔ ان سے مقصود کشف ، کرامات نہیں بلکہ مرنے سے پہلے موت کی تیاری ہو اس طریقہ میں پہلے دو طریقوں سے جلد منزل مقصود حاصل ہو جاتی ہے۔ اس طریقہ میں کامیابی کے دس ذریعے ہیں جس میں مقصود صرف خدا تعالیٰ کی ذات ، زہد، صبر، توکل، لوگوں سے کنارہ کشی، توجہ، قناعت، رضا الٰہی، ذکر الٰہی اور مراقبہ شامل ہیں(۱۵)۔
سالکین کی اقسام:
منازل سلوک طے کرنے والوں کی تین اقسام ہیں:
۱۔ واقفیں:
اثنائے سلوک میں کسی مقام پر تھوڑی دیر کے لئے رک جانے والوں کو واقفین کہتے ہیں۔
۲۔ راجعیں:
وہ سالک جو کسی مقام سلوک پر زیادہ دیر تک رکیں اور اگلے مقام میں ترقی نہ کریں ان کو راجعین کہتے ہیں۔ اس مقام میں بہت خطرہ ہوتا ہے کیونکہ زیادہ دیر تک ایک ہی مقام پر رہنے سے رجعت ہو جاتی ہے اور سالک مقام ِتنزلی کا شکار ہو جاتا ہے۔
۳۔ سابقین:
وہ خوش قسمت سالکین جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہرآن ترقی پذیر ہوتے ہیں اور قرب و وصل کے مقام تک پہنچتے ہیں وہ سابقین کہلاتے ہیں۔
قرآن مجید کی آیت
{وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ أُوْلَئِکَ الْمُقَرَّبُونَ} (۱۶)
اس مقام پر فائز ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہے(۱۷)۔
وصول الی اللہ کے طریقے:
وصول الی اللہ کا مفہوم:
وصول الی اللہ کا مفہوم بہت وسیع ہے جس کو مختلف انداز سے بیان کیا جاتا ہے۔ وصول الی اللہ سے مراد اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے کے دل پر نور سے نظر فرمانا ہے اور جب یہ نور بندہ پر غلبہ پا لیتا ہے تو پھر جدا نہیں ہوتا کیونکہ یہ نور بھی ایک صفت ہے بندہ اس کو نور الٰہی کی طاقت سے دیکھتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی صفات سے متصف ہونا بشر کی طاقت سے باہر ہے لہٰذا وصال کے معنی دنیا میں سِر اور قلب سے مشاہدہ کرنے اور آخرت میں آنکھ سے مشاہدہ کرے(۱۸)۔ وصول الی اللہ ایک شعور خاص اور یقین مختص کے آ جانے کا نام ہے کہ بندہ اپنی ہستی کو کچھ نہ سمجھے اور اللہ تعالیٰ کی محبت میں گم ہو جائے۔(۱۹)
ابو نصر سراجؒ فرماتے ہیں وصل غائب سے لاحق ہو جانے کا نام ہے ۔ یحیٰ بن مفاز ؒ فرماتے ہیں جس نے جب تک عرش کے نیچے کی اشیاء سے آنکھیں بند نہیں کیں وہ عرش کے اوپر جو کچھ ہے اس تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔ یعنی اس نے خالق عرش کے وصل تک رسائی حاصل نہیں کی۔ ابو بکر شبلی ؒ فرماتے ہیں جس نے یہ خیال کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ تک پہنچا ہوا ہے اس کو کچھ حاصل نہیں ہوا(۲۰)۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ فرماتے ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کے قرب اور وصال سے دور ہو تو قربت حاصل کرنے میں سستی اور کاہلی میں رہنا دین و دنیا کی نعمت اور دائمی عزت و سلامتی اور تونگری، کفایت و تواضع اور محبوبیت کا وافر حصہ حاصل کرنے میں دیر نہ کرو اور اپنے دونوں بازوئوں کے ساتھ قرب خداوندی کی منزل کو پانے کے لئے تیزی کرے۔ تمہارا ایک بازو حرام و مباح، تمام لذات و شہوات اور ہر طرح کی آسائشوں کو ختم کرے اور دوسرا بازو اذیتوں، مکروہات، اور تکالیف کو برداشت کرے۔ فرائض کی ادائیگی میں مصیبتوں کو برداشت کرنے ، مخلوق اور خواہشات نفس اور دنیا و آخرت کے ارادہ اور آرزو سے نکل جانے کا نام ہے۔ اس صورت میں تم قرابت اور وصال حاصل کر سکتے ہو اور اعلیٰ مقام پر فائز ہو سکتے ہو۔ اور تمہارا شمار ان مقربین اور واصلین میں ہو گا جس پر اللہ تعالیٰ نے عنایات کیں اور مراعات جن کے شامل حال ہیں اور جن کومحبت خداوندی نے اپنی رحمت میں چھپا لیا ہو(۲۱)۔ ایک سالک کے لئے سب سے ضروری چیزعلم ہے تاکہ اپنے عقائد اور اعمال کو درست کرلے اور طریقت و سلوک کی ابتدائٹھیک طرح سے کر سکے اور وصول الی اللہ کے قابل ہو جائے وصول الی اللہ اتصال ماسوائے اللہ سے منقطع ہو جانے کا نام ہے اور وصال کا سب سے کم ترین مرتبہ یہ ہے کہ دل کا حجاب اٹھا دینے کے بعد محبوب حقیقی کا جمال دل کی آنکھوں سے دیکھنے لگے ۔ اگرچہ یہ جمال دور سے ہو اس کے بعد سلوک کی منازل طے کرتے ہوئے ہمت کے مطابق مشاہدہ کے دوام کی بدولت ترقی ہوتی رہے گی اور وصال کے بعد اعلیٰ مقامات پر فائز ہو جائے گا(۲۲)۔
واصلین میں کچھ مشائخ ایسے ہوتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی کمال مطابقت کی وجہ سے مرتبہ وصول تک پہنچ جاتے ہیں اور اس کے بعد مخلوق کی ہدایت پر مقرر ہو جاتے ہیں ان کو کاملان مکمل کہتے ہیں کیونکہ وہ خلق کی ہدایت و تکمیل پر مقرر ہوتے ہیں اور بعض واصلین وصول الی اللہ کے بعد مخلوق کی طرف رجوع نہیں کرتے کیونکہ یہ اس مقام پر فائز نہیں ہوتے(۲۳)۔
وصول الی اللہ کے ارکان:
وصول الی اللہ کے چار ارکان ہیں، پہلا رکن دین حق میں عبرت یعنی نیک لوگوں کی اچھی حالت دیکھ کر ان کی طرح ہونے کی حرص کرنا اور برے لوگوں کو دیکھ کر اپنے حال پر شکر گزاری کرنا۔ دوسرا رکن مکاشفات و تجلیات کے مشاہدوں کے وقت اپنے حوصلہ کو بلند رکھنا یعنی اگر صفائے قلب اورذکر و شغل کے اثر سے مختلف واقعات یا کسی مقام کے حالات منکشف ہوں یا کوئی نورانی ۔صورتیں نظر آئیں تو ان کو مقصود نہ سمجھے اور اپنی طلب حقیقی نہ جانے اور مزید کوشش کرے۔ تیسرا رکن ہمت کی حفاظت ہے کہ مقصود کو حاصل کرنے میں ہمت نہ ہارے اور وصول میں دیر لگنے پر تنگ آ کر ریاضت چھوڑ نہ دے۔ چوتھا رکن شیخ کا احترام اور دوسرے برادران طریقت پر شفقت ہے یعنی بڑوں کی عزت اور چھوٹوں پر مہربانی کرے۔ اگر ان باتوں پر عمل کرے گا تو سالک وصول الی اللہ کے مقصد میں کامیاب ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ سالک اپنے افعال و اقوال اور حرکات و سکنات پر غور کرے کہ اس کی ہر سانس اور ہر قدم رضا الٰہی کے لئے ہو اور صدق و اخلاص سے کوشش جاری رکھے(۲۴)۔
وصول الی اللہ کے مقام:
سالک کا پہلا مقام یہ ہے کہ وہ اپنے آپ میںنقص دیکھے اور اپنے آپ کو قصور وار جانے اور تمام نیک کاموں میں قدرت و جذب کے باوجود اپنی نیتوں کو قاصر و تہمت زدہ خیال کرے اور عاجزی و انکساری اختیار کرے تاکہ وصول الی اللہ کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو سکے۔ دوسرا مقام شیخ کامل کی محبت حاصل کرنا جو سلوک کی منازل سے اچھی طرح واقف ہو تاکہ وہ سالک کو سلوک کی منازل طے کروائے(۲۵)۔

وصول الی اللہ کے طریقے:
وصول الی اللہ کے درج ذیل تین طریقے ہیں؛
۱۔ مجذوب سالک:
مجذوب سالک اس کو کہتے ہیں جس کے سلوک کی ابتداء جذبہ سے ہو۔ سالکین کو بعض دفعہ وصول الی اللہ پہلے حاصل ہو جاتا ہے۔ پھر شوق عبادت اور ذوق ریاضت اس کے بعد پیدا ہوتا ہے اس کو طریق جذب کہتے ہیںاور بعض دفعہ مجاہدہ و ریاضت کا شوق پہلے پیدا ہو جاتا ہے اور وصول الی اللہ بعد میں میسر ہوتا ہے اس کو طریق سلوک کہتے ہیں۔
اولیاء کرام کے نزدیک قرآن مجید کی آیت
{ اللَّہُ یَجْتَبِیْ إِلَیْْہِ مَن یَشَاء ُ وَیَہْدِیْ إِلَیْْہِ مَن یُنِیْبُ} (۲۶)
میں اجتباء سے مراد جذبہ اور اھتدا سے مراد سلوک ہے چنانچہ جذبہ سلوک پر مقدم ہے(۲۷)۔
اس طریقہ کے ذریعے اولیاء کرام رحمتہ اللہ علیھم غلبہ ، محبت اور جذبہ کے ذریعے سلوک کی منازل طے کرواتے ہیں اس میں عالم امر کے لطائف سے سلوک شروع کرتے ہیں سنت و شریعت کا پابند بنا کر توجہات قدسیہ اور تصرفات باطینہ کے ذریعے واصل باللہ کر دیتے ہیں(۲۸)۔ جذبہ سے تصفیہ حاصل ہوتا ہے اور سلوک سے تزکیہ حاصل ہوتا ہے تصفیہ عالم امر سے عالم وجوب کی طرف توجہ کا نام ہے اور تزکیہ عالم خلق سے عالم وجوب کی طرف توجہ اور عالم وجوب کی تجلیات سے مزین ہونے اور دلائل سے پاک ہونے کا نام ہے(۲۹)۔ سیر آفاقی سلوک سے طے ہوتی ہے یعنی ایک خاص طریقے سے آہستہ آہستہ تعلقات کو ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور یہ سیر جذبہ سے شروع ہوتی ہے اور یہ جذبہ اللہ تعالیٰ کی محبت کی طرف بہت زیادہ رغبت پیدا کر دیتا ہے اور دونوں سیریں مکمل ہو جاتی ہیں۔ یعنی سیر آفاقی سیر انفسی کے ضمن میں طے ہو جاتی ہے(۳۰)۔
سالک مجذوب:
اس طریقہ میں سلوک کو جذبہ پر مقدم سمجھا جاتا ہے اور سلوک کی انتہاء میں جذبہ نصیب ہوتا ہے۔ سلوک کی ابتداء عالم خلق کی سیر سے ہوتی ہے اور انتہا عالم امر کی سیر پر ہوتی ہے(۳۱)۔ اکثر متقدمین اولیاء کرام ؒ نے راہ دل کے ذریعے سلوک کی منازل طے کروائی ہیں۔ اس راستہ میں عالم خلق کے لطائف سے سلوک شروع کرواتے ہیں۔ سب سے پہلے نفس کا تزکیہ مکمل کرواتے ہیں اور آخر میں تصفیہ قلب کی دولت عطا فرما دیتے ہیں۔ ریاضات شاقہ، مجاہدات شدیدہ اور ترک حیوانات وغیرہ کی بنیاد پر اس کے سلوک کی منازل کا عرصہ دوسرے سلوک کی نسبت طویل ہوتا ہے(۳۲)۔
اس طریقہ میں سلوک کی ابتداء سیر آفاقی سے شروع کی جاتی ہے۔

جذبہ کا مفہوم:
جذب کا معنی کشش یعنی اللہ تعالیٰ کا بندے کو اپنی طرف کھینچ لینا اور بندے پر ایسی حالت طاری ہونا کہ وہ بلا کسی کسب و مجاہدہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے باطنی مقامات طے کرے اور واصل باللہ ہو جائے۔ جذبہ سے سلوک کی منازل آسانی کے ساتھ طے ہو جاتی ہیں(۳۳)۔ جذبہ سیر انفسی کا نام ہے اللہ تعالیٰ کے فضل اور مرشد کامل کی توجہات سے سیر انفسی میں عالم امر کے لطائف کا تزکیہ ہو جاتا ہے اور وہ اپنی اصل میں فنا ہو جاتے ہیں ایسی کیفیت کا نام جذب ہے اور اس قسم کی تربیت حاصل کرنے والے کو مجذوب کہتے ہیں(۳۴)۔
اسی وجہ سے اگر جذبہ سلوک پر مقدم ہو تو ایسے مرید کو مجذوب سالک کہتے ہیں اور اگر سلوک جذبے پر مقدم ہو تو ایسے مرید کوسالک مجذوب کہتے ہیں جس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔
جذبہ کی اقسامـ:
جذبے کی دو اقسام ہیں؛
ٍ۱۔ جذبہ صوریـ:
جذبہ صوری کو جذبہ بدایت بھی کہتے ہیں وہ جذبہ جو سیر فی اللہ سے قبل ابتدائے سلوک میں تصفیہ لطائف سے پہلے حاصل ہوتا ہے اور حرف تسہل منازل سلوک کے لئے عطا کیا جاتا ہے اور اس کو جذبہ صوری کہتے ہیں، اس کا ایک اور نام جذبہ اولیٰ بھی ہے اس جذبہ میں تکرار اسم ذات و نفی اثبات ، حبس دم اور رعایت وقوف عددی ہے(۳۵)۔
۲۔ جذبہ حقیقی:
اس جذبہ کو جذبہ نہایت یا جذبہ ثانیہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ وہ جذبہ ہے جو سیر فی اللہ کے دوران انتہائے سلوک میں حاصل ہوتا ہے۔ یہ جذبہ اللہ تعالیٰ کے جذبات سے ساری کائنات کے جنوں اور انسانوں کے اعمال کے برابر ہے اور اس کے فضل و کرم پر موقوف ہے(۳۶)۔
صحبت شیخ:
وصول الی اللہ کا تیسرا طریقہ صحبت مرشد ہے جو کہ سالک کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ صحبت کسی بھی شخص کے لئے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اگر کسی انسان کی صحبت اچھی ہو تو اس میں عادات بھی اچھی پیدا ہوں گی اور اگر صحبت بری ہو تو اس میں عادات بھی بری ہوں گی۔
قرآن مجید میں بھی اللہ تعالیٰ نے سچے لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کا حکم فرمایا ہے اور ارشاد فرمایا ہے ؛
{وَکُونُواْ مَعَ الصَّادِقِیْن} (۳۷)
ترجمہ:اور سچے لوگوں کے ساتھ ہو جائو۔
صحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین نے بھی رسول اکرمﷺ کی صحبت سے فیض حاصل کیا تھا۔ یہ آپ کی صحبت کا ہی اثر تھا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے بعد اگر کوئی جتنی بھی عبادت کر لے اور زہد و ریاضت میں مصروف ہو جائے ولایت کے جس بھی مقام پر فائز ہو جائے وہ کسی بھی صحابی کے مقام کو نہیں پہنچ سکتا۔ جس نے رسول اکرم ﷺ کی صحبت سے ایک گھڑی کے لئے بھی فائدہ اٹھایا ہو جیسا کہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ فنا فی الشیخ کے مرتبے میں اس قدر مغلوب ہو چکے تھے کہ صورت و سیرت کے اعتبار سے جمال نبوت کے آئینہ دار تھے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے رسول اکرم ﷺ کی صحبت سے بہت اعلیٰ مقام حاصل کئے۔ شیخ اکمل کی صحبت مرید کے لئے اکسیر کا حکم رکھتی ہے۔ شیخ کامل کی صحبت کے بغیر سلوک کی منازل طے ہونا نا ممکن ہے۔ اولیاء کرام نے بہت سے اعلیٰ مقام اپنے شیخ کی صحبت سے حاصل کئے۔ اور عمل کرنے کا شوق پیدا ہوتا ہے۔ محبت اور عقیدت کے تمام رابطے صحبت سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ مرید کو محبت اور صحبت کے اندازے کے مطابق مرشد سے فیض حاصل ہوتا ہے۔ صحبت سے ہی تصور شیخ پختہ ہوتا ہے اور فنا فی الشیخ کی منزل نصیب ہوتی ہے۔ لیکن یہ بات نہایت ضروری ہے کہ شیخ کم از کم ایسا ہونا چاہیے جس نے سلوک کی منازل طے کرتے ہوئے اعلیٰ مقام حاصل کیا ہو۔اگر ایسا نہ ہو تو وہ شیخ ناقص ہے اور اس کی صحبت فائدہ کی بجائے نقصان کا باعث ہو گی(۳۸)۔
شیخ ناقص کی صحبت زہر قاتل ہے، اس کی مثال ناقص طبیب کی سی ہے جس کی دوا سے شروع میں تو فائدہ ہو گا مگر حقیقت میں نقصان کا باعث ہے(۳۹)۔
یہی وجہ ہے کہ بہت سے اولیاء کرام نے اپنی شیخ کی صحبت اس وقت تک اختیار کی ہے جب تک سلوک کی تمام منازل کو طے نہ کر لیا ہو مثلاََ حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ نے خواجہ عثمان ہارونی ؒ کی صحبت لمبے عرصے تک اختیار کی۔
سلوک کے مقاـصد:
حضرت عبدالقدوس گنگوہی ؒ فرماتے ہیں تصوف کا علم ظاہر و باطن، علم دین اور قوت یقین کا نام ہے اور یہی اعلیٰ علم ہے، صوفیاء کی حالت اخلاق کو سنوارنا اور ہمیشہ خدا کی طرف لو لگائے رکھنا ہے۔ تصوف کی حقیقت اعلیٰ اخلاق سے مزین ہونا اور اپنے ارادہ کو چھوڑنا اور بندہ کا اللہ تعالیٰ کی رضا میں مکمل مصروف ہو جانا ہے ۔ صوفیاء کے اخلاق وہی ہیں جو رسول اکرم ﷺ کے اخلاق ہیں ۔
جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ:
{وَإِنَّکَ لَعَلی خُلُقٍ عَظِیْمٍ} (۴۰)
ترجمہ: اور بے شک آپ اعلیٰ اخلاق پر پیدا کئے گئے ہیں
اور جو کچھ رسول اکرم ﷺ کے ارشادات ہیں ان پر عمل کرنا صوفیاء کا اخلاق ہے۔ صوفیاء کے اخلاق کی تفصیل اس طرح ہے کہ اپنے آپ کو کمتر جاننا جس کی ضد تکبر ہے۔ مخلوق کے ساتھ نرمی سے پیش آنا اور غصہ و غضب کو چھوڑ دینا ہمدردی کرنا اور تمام لوگوں کی عزت کرنا۔ خلق کے ساتھ فرط شفقت کے ساتھ جس کا مطلب ہے کہ مخلوق کے حقوق کو اپنے خط نفسانی پر مقدم رکھا جائے۔ سخاوت کرنا درگزر کرنا اور خطا کا معاف کرنا خندہ روئی ،لوگوں سے خوش اخلاقی سے پیش آنا اور نرم لہجے میں بات کرنا بناوٹ اور تکلف کو چھوڑ دینا، لوگوں پر خرچ کرنا ، خدا پر بھروسہ رکھنا، تھوڑی دنیا پر بھی قناعت کرنا ، پرہیز گاری اختیار کرنا، جنگ و جدل اور عتاب نہ کرنا، مگر حق کے ساتھ، بغض حسد اور کینہ نہ رکھنا عزت وجاء کا خواہش مند نہ ہونا، وعدہ پورا کرنا، بردباری، دور اندیشی، بھائیوں کے ساتھ موافقت و محبت کرنا اور اغیار سے علیحدہ رہنا، محسن کی شکر گزاری اور مال کا مسلمانوں کے لیے خرچ کرنا، صوفی اخلاق میں اپنا ظاہر و باطن مہذب بنا لیتا ہے۔ اور تصوف سارا ادب کا نام ہے۔ بارگاہ احدیت کا ادب یہ ہے کہ ماسوا اللہ سے منہ پھیر لینا شرم کے مارے حق تعالیٰ کی جلال و ہیبت کے سبب بدترین معصیت ہے اور خوہشات نفس کی مخالفت کرنا ہے۔(۴۱)
اوپر دی گئی صفات پر اگر نظر ڈالی جائے تو کسی بھی صوفی کی حقیقت ظاہر ہوتی ہے، یہ وہ ساری شریعت ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمائی ہے اور آپ ﷺ نے اس کو لوگوں تک پہنچایا ہے تاکہ کوئی بھی شخص ان صفات کو اپناتے ہوئے دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو۔ اوپر بیان کیا ہوا سلوک کا وہ نصاب ہے جو کسی بھی سالک کا پہلا سبق ہوتا ہے۔ اور سالک ان باتوں پر عمل کرتا ہوا ہی سلوک کی منازل طے کرتا ہے۔
رضائے الٰہی:
سالک کا سب سے پہلا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہی وہ کسی ایسے شیخ کامل کی بیعت کرتا ہے جو اس کو رضا الٰہی کا صحیح راستہ بتائے۔ سالک کا اٹھنا بیٹھنا،سونا جاگنا، اور چلنا پھرنا صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی رضا رسول اکرم ﷺ کی اطاعت میں ہے۔ کیونکہ ولایت کے درجوں کو پانا، اطاعت پر مداومت کرنا، دوزخ کی آگ سے چھٹکارا حاصل کرنا اور بہشت کی نعمتوں میں داخل ہونا، تہذیب و اخلاق، اللہ تعالیٰ کا قرب وصال، معنوں کے بھیدوں کا ظہور، نفسانی حرص کی مخالفت ،ذات باری تعالیٰ کی رضا مندی ،نہایت صدق و صفائی سے خدا تعالیٰ کی عبادت کرنا، سب کے سب اعلیٰ مرتبوں کا حصول، دین و دنیا کی سعادت، دونوں جہان کے سرور حضرت محمد ﷺ کی متابعت کرنے سے ہے۔ سعادت کی روشنی اس کی پیشانی سے ظاہر ہو گی، مگر وہ بدبخت کہ متابعت کی اس دولت سے محروم رہا، شقاوت کا داغ اس کے چہرہ پر عیاں ہو گا، بہت خوش نصیب شخص ہے وہ جس کو رسول اکرم ﷺ کے اخلاق حمیدہ پر عمل کرنے کی توفیق نصیب ہوئی۔ کیونکہ رسول اکرم ﷺ کی مکمل اتباع ہی سالک کا اصل مقصد ہے اور اس کے سلوک کی معراج ہے(۴۲)۔
اصلاح نفس:
ایک سالک جب سلوک کی منازل طے کرتا ہے تو سب سے پہلے نفس کی خواہشات کی نفی کرتا ہے اور نفس عمارہ کو نفس مطمئنہ کی صفت پر لانے کی کوشش کرتا ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی ؒ فرماتے ہیں؛
“منازل سلوک کے طے کرنے سے مقصود ایمان حقیقی کا حاصل ہونا ہے جو نفس کے مطمئنہ ہونے پر وابستہ ہے، جب تک نفس مطمئنہ نہ ہو جائے نجات ناممکن ہے اور نفس اطمینان کے مرتبہ تک نہیں پہنچتا جب تک اس پر قلبی سیاست نہ ڈالیں اور سیاست قلبی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب کہ دل اس کام سے جو اس کے سامنے ہے فارغ ہو جائے اور ماسوا حق کی گرفتاری سے سلامتی حاصل کر لے اور ماسوائے اللہ کی گرفتاری سے دل کے سلامت ہونے کی علامت ماسوائے حق کا نسیان ہے اور جب تک شخص جس کا دل اللہ تعالیٰ کے لئے سلامت ہو گیا کوشش کرنا ضروری ہے تاکہ سلامتی قلب سے مشرف ہوں اور اطمینان نفس تک پہنچیں(۴۳)۔”
صوفیاء کرام ؒ کی زندگیوں کا اگر مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضع ہوتی ہے کہ سلوک کے سفر میں انہوں نے کس قدر زہد اختیار کیا ہے اور کس قدر مجاہدے کئے ہیں۔ نفی اثبات کی ضربوں سے نفس کی نفی کی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیزسے منہ موڑا جاتا ہے۔
شریعت سے حقیقت کا سفر
ایک سالک جب شریعت پر عمل کرتے ہوئے سلوک کی منازل طے کرتا ہے تو معرفت کا دروازہ اس پر کھل جاتا ہے کیونکہ شریعت ہی معرفت کا دروازہ ہے۔
حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء ؒ اپنی بیعت ہونے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں جب مجھ کو طاقیہ جو ایک قسم کی کلا ہے عطاء کی گئی تو شیخ نے فرمایا اس کے چار خانے ہیں، پہلا شریعت کا دوسرا طریقت کا، تیسرا معرفت کا اور چوتھا حقیقت کا۔ پس جو ان میں استقامت سے کام لے گا اس کے لئے سر پر طاقیہ رکھنا واجب ہے(۴۴)۔
حضرت خواجہ نصیر الدین محمود چراغ ؒ فرماتے ہیں کہ حقیقی مرید کی یہ شرط کہ تین غسل ہر وقت کرتا رہے تاکہ حقیقی مرید کہلانے کا حق دار ہو سکے۔ اول شریعت کا غسل، دوم طریقت کا اور تیسرا حقیقت کا۔ شریعت کا غسل یہ ہے کہ اپنے بدن کو جنابت وغیرہ سے پاک کرے۔ طریقت کا غسل یہ ہے کہ تجرد اختیار کرے اور حقیقت کا غسل یہ ہے کہ باطنی توبہ کرے(۴۵)۔ حضرت خواجہ فرید الدین مسعود گنج شکر ؒ فرماتے ہیں کہ جب تک وہ تزکیہ، تصفیہ، اور تجلیہ نہیں کرے گا وہ کسی بھی مقام پر نہیں پہنچے گا۔ اس واسطے کہ یہ تزکیہ، تصفیہ اور تجلیہ شریعت طریقت اور حقیقت کے لئے ہوتا ہے۔ تزکیہ نفس سے شریعت حاصل ہوتی ہے جو نماز ادا کرنے روزہ رکھنے اور دم بدم ذکر خفی کرنے پر ہے اور جب تجلیہ روح حاصل ہوتی ہے تو سات جوہر جو دلی خزانے میں ہیں روشن ہوتے ہیں۔ پہلا گوہر ذکر روشن ہوتا ہے جس سے سالک موجودات کے کل وجود سے نفرت کرنے لگتا ہے۔ اس کے بعد گوہر عشق ظاہر ہوتا ہے جس سے شوق، اشتیاق، درد اور بے خودی پیدا ہوتی ہے۔ پھر گوہر محبت ظاہر ہوتا ہے جس سے دل محبت غیر سے خالی اور ہر حالت میں رضائے حق پر راضی ہوتا ہے۔ پھر گوہر سر جس سے واردات ہوتے ہیں۔ پھر گوہر روح جس سے سالک پر تمام چیزیں بے پردہ ہوجاتی ہیں اور جب سالک اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو حقیقت سے انجام پر پہنچ جاتا ہے۔ اور انوار تجلی سے متصف ہوتا ہے۔ اور اٹھارہ ہزار عالم کو انگلیوں میں دیکھتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس دولت کے لئے کوشش کرے اور اپنے آپ کو محروم نہ رکھے(۴۶)۔

سلوک کا لغوی معنی طرز عمل، کردار، روش معاملہ، طور طریق، برتائو، اور علم تصوف میں تلاش حق بیان کیا جاتا ہے سالک سے مراد چلنے والا یا کوئی طرز عمل اپنانے والا یا کوئی روحانی منازل طے کرنے والا ہیں۔
سلوک روحانی تربیت اور باطن کی اصلاح کا نام ہے کہ خالق کائنات کی محبت و معرفت حاصل ہو جائے۔ حضرت محمد ﷺ کی مکمل اتباع محبت اور اخلاص کے ساتھ نصیب ہو۔ سلوک میں درج ذیل دس مقامات کو طے کیا جاتا ہے جس میں توبہ، امانت، زہد، ریاضت، ورع، قناعت، توکل، تسلیم، صبر اور رضا شامل ہیں سلوک کی منازل اسی صورت میں طے ہو سکتی ہیں جب شیخ کامل اور مکمل ہو اور وہ خود بھی ظاہری طور پر حضور اکرم ﷺ کی مکمل اطاعت کرے اور سالک کو بھی اس کا پابند کرے تا کہ اس کے باطن کا رشتہ غیر اللہ سے توڑ کر اور بے تعلق کر کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ قائم کر دے۔
مشائخ عظام سالک کو مجاہدہ کے ذریعے اس مقام تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حکم دیا ہے۔جب ایک سالک سلوک کی منازل طے کرتا ہے تو اس کا دل اللہ تعالیٰ کے نور سے منور ہو جاتا ہے اور اس کے دل سے ذلالت اور گمراہی ختم ہو جاتی ہے۔ اور وہ دنیا سے نفرت اور آخرت سے محبت شروع کر دیتا ہے۔ اپنے گناہوں سے معافی طلب کرتا ہے۔ سلوک کے ذریعے ہی سالک کی دل کی بیماریاں مثلاََ حسد، بخل، غرور، کینہ، ریا وغیرہ کو ختم کیا جاسکتا ہے اور ان کی جگہ اوصاف حمیدہ علم، حلم، سخاوت، خاکساری، تحقیر نفس ، کم خوری کم آرام طلبی اور کم گوئی پیدا کئے جا سکتے ہیں

حوالہ جات
۱۔ وحید الزماں، کیرانوی، القاموس الوحید ، ادارہ اسلامیات، لاہور، ۱۴۲۲ھ
۲۔ مکان شریفی ، شاہ حسینؒ ، مرآۃ المحققین، مطبع کریمی میر امیر بخش لاہور، صفحہ نمبر ۸۳۔
۳۔ محمد سعید احمد،مجددی، البینات فی شرح مکتوبات،تنظیم الاسلام پبلشرز، گوجرانوالہ، ۲۰۰۲ء جلد اول ، صفحہ نمبر ۴۱۶۔
۴۔ مجدد الف ثانی، احمدبن عبد الاحد، سرہندی،مکتوبات امام ربانی،(مترجم اردو: قاضی عالم دین نقشبندی )،ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۰۰ء مکتوب نمبر ۱۸ دفتر اول۔
۵۔ زید،فاروقی،ابوالحسن ، مقدمہ کلیات باقی بااللہ، ملک دین محمد اینڈ سنز، لاہور،س۔نؒ ، ص ۱۹۔
۶۔ مقدر، شاہ , اسباق سلوک ,طور ضلع مردان,۲۰۰۰ء، ص ۵۔
۷۔ زکی القدر، ابو سعید،دہلویـ، ہدایت الطالبین،(مترجم اردو : مولانا نور احمد)، مکتبہ مجددیہ ،حیدر آباد، ۲۰۱۳ء، ص۲۰۔
۸۔ عبدالرحمن، چشتی، مرآۃ الاسرار، ص ۳۷۔
۹۔ قطب الدین ،دمشقی، امداد سلوک،(مترجم اردو: محمد عاشق الٰہی )، دار الکتاب، دیوبند، ۲۰۰۵ھ، ص۵۳۔
۱۰۔ محمد سعید احمد،مجددی،شرح مکتوبات جلد اول ص ۲۵۸۔
۱۱۔ مسعود الرحمٰن ,منہاج سلوک , مطبوعات ابتہاج ,حیدر آباد , ۲۰۱۲ء، ص ۹۔
۱۲۔ “سورۃ العنکبوت، ۲۹:۶۹”
۱۳۔ مہاجرمکی، امداد اللہ، کلیات امدادیہ، ص ۹۔
۱۴۔ گنج شکر،فرید الدین،اسرارالاولیاء،مرتب : حضرت خوا جہ بدر الدین عینی ؒ (مشمول: ہشت بہشت ، علامہ شکیل مصطفٰی اعوان، ، ص ۹۵۔
۱۵۔ مہاجرمکی، امداد اللہ ، کلیات امدادیہ، ص ۱۱۔
۱۶۔ “سورۃالواقعہ ۵۶:۱۰تا۱۱”
۱۷۔ محمد سعید احمد،مجددی،شرح مکتوبات جلد ص ۱۶۹۔
۱۸۔ قطب الدین، دمشقی ، امداد سلوک، ص ۱۷۵۔
۱۹۔ گیسو دراز،محمد حسینی،بندہ نواز، یازدہ رسائل ،(مترجم اردو: قاضی احمد عبدالصمد چشتی)، ص ۸۴۔
۲۰۔ ابو نصرسراج ، عبداللہ بن محمد بن یحییٰ، کتاب اللمع ،(مترجم اردو: سیداسرار بخاری)، تصوف فاؤنڈیشن، لاہور، ۲۰۰۰ء ، ص ۵۷۵۔
ٍ۲۱۔ جیلانی ،عبدالقادر ، فتوح الغیب،(مترجم اردو: راجہ رشید محمود ) فرید بک سٹال ،لاہور، س۔ن، ص ۹۸
۲۲۔ قطب الدین،دمشقی، امداد سلوک، ص ۵۹
۲۳۔ عبدالرحمن ، چشتی،مرآۃ الاسرار، ص ۱۱۸
۲۴۔ قطب الدین ،دمشقی، امداد سلوک، ص ۶۶
۲۵۔ مجدد الف ثانی، احمدبن عبد الاحد، سرہندی،مکتوبات امام ربانی،(مترجم اردو: قاضی عالم دین نقشبندی )،دفتر اول ، مکتوب نمبر ۱۱۔
۲۶۔ ـ”سورۃ الشوری ۴۲:۱۳‘‘
۲۷۔ محمد سعید احمد،مجددی،شرح مکتوبات ، جلد اول ص ۱۶۱۔
۲۸۔ ایضاً، جلد چہارم، ص۲،۵۔
۲۹۔ ایضاً، جلددوم، ص ۳۵۰
۳۰۔ مسعود الرحمن ، نقشبندی،منہاج السلوک، ص۹
۳۱۔ محمد سعید احمد،مجددی،شرح مکتوبات ، جلد اول، ص ۱۶۲
۳۲۔ ایضاً، ص ۱۶۰
۳۳۔ ایضاً، ص ۲۵۸
۳۴۔ ایضاً، ص ۱۶۲
۳۵۔ ایضاً، ص ۱۶۲
۳۶۔ جامی،عبدالرحمن ،(مترجم اردو:سید احمد علی چشتی) ، نفخات الانس، ص ۳۸۶۔
۳۷۔ “سورۃ التوبہ ۹:۱۱۹”
۳۸۔ ایضاً، ص ۳۷۰
۳۹۔ مجدد الف ثانی، احمدبن عبد الاحد، سرہندی،مکتوبات امام ربانی،(مترجم اردو: قاضی عالم دین نقشبندی )،جلد اول، ص ۲۱۲۔
۴۰۔ ـ”سورۃ القلم ۶۸: ۴”
۴۱۔ قطب الدین ،دمشقی،امداد سلوک، ص ۴۸۔
۴۲۔ ضیاء اللہ، نقشبندی، مقاصد السالکین،ص۴۵
۴۳۔ مجدد الف ثانی، احمدبن عبد الاحد، سرہندی،مکتوبات امام ربانی،(مترجم اردو: قاضی عالم دین نقشبندی )، دفتر اول مکتوب نمبر ۱۶۱۔
۴۴۔ نظام الدین اولیاءؒ ،محمد بن احمد،راحت المحبین،مرتب :حضرت خوا جہ امیر خسرو ؒ(مشمول: ہشت بہشت ، علامہ شکیل مصطفٰی اعوان، ص ۷
۴۵۔ چراغ دہلی، نصیر الدین محمود ،مفتاح العاشقین،مرتب :حضرت خوا جہ محب اللہ ؒ(مشمول: ہشت بہشت ، علامہ شکیل مصطفٰی اعوان، ص ۶
۴۶۔ ایضاً، ص ۱۲

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں