27

سنگھاڑا(Water Chestnut)

سنگھاڑا پانی میں کیچڑ کے نیچے اُگنے والا مخروطی شکل کا پھل ہے اور اپنی اس شکل کی وجہ سے ناپسندیدہ لفظ کے طور پر بولا جاتا ہے۔اس پھل کو اردو میں سنگھاڑا اور انگریزی میں Water Chestnut کہتے ہیں۔سردیاں شروع ہوتے ہی منڈیوں اور بازار میں دکانوں پر گاہکوں کی نظر میں آنا شروع ہو جاتا ہے۔جنوبی ایشیا میں عام طور پر اس میوے یا پھل کو سنگھاڑا کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ پانی پھل سمیت اس کے متعدد نام ہیں۔سنگھاڑا پودے کی جڑوں میں اُگتا ہے (آلو کی فصل کی طرح) اس کی سبز رنگ کی ٹہنیوں پر پتے نہیں اُگتے اور یہ ٹہنیاں ایک سے پانچ میٹر اونچائی تک جاتی ہیں۔اس کے اندر کا گودا سفید رنگ کا ہوتا ہے جسے عام طور پر کچا یا اُبال کر کھایا جاتا ہے اور پیس کر آٹا بنا کر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔چائنیز کھانوں میں سنگھاڑا کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے۔سنگھاڑے سردیوں میں منہ چلانے کے لئے بہترین چیز ہے۔چونکہ یہ ہلکے بہتے پانیوں پر اُگتا ہے اس لئے پھل میں اس وقت کچھ نقصان دہ مواد ہو سکتا ہے جب اسے تازہ تازہ فروخت کیا جائے مگر مناسب طریقے سے دھونے کے بعد اس کا توازن بحال ہو جاتا ہے۔اس کے چھلکے اُتارنے یا کسی مشروب میں ٹکڑے کرکے ڈالنے،سلاد میں اضافے،سوپ،سالن یا کری میں ڈالنے سے قبل سات منٹ تک اُبالا،بھونا یا بھاپ میں رکھا جائے تو بہتر ہے۔

اسے پیزا کی اوپری سجاوٹ کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جبکہ پورے چکن میں بھرا جا سکتا ہے، اسے پاؤڈر بنا کر کیک اور پڈنگز بنانے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے جبکہ اچار کے طور پر ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔
سنگھاڑے میں کاربوہائیڈریٹس بہت زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں،پروٹین،وٹامن بی،پوٹاشیم اور کاپر بھی کافی مقدار میں ہوتے ہیں۔

کچا سنگھاڑا ہلکا میٹھا اور خستہ ہوتا ہے جب کہ اُبلا ہوا سنگھاڑا اور بھی زیادہ مزیدار اور ذائقہ دار ہو جاتا ہے۔سنگھاڑے کا ذائقہ (Taste) بالکل منفرد ہوتا ہے اور اس کے کھانے سے بھوک میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔اگرچہ سنگھاڑے میں موجود کیلوریز دوسری سبز پتوں والی سبزیوں کی نسبت کم ہوتی ہیں تاہم اس میں موجود آئرن،پوٹاشیم،کیلشیم،زنک اور فائبر کی مقدار اس کے استعمال میں اضافہ کا باعث بنتی ہے۔

سنگھاڑے کے استعمال سے تھکاوٹ دور ہوتی اور جسم میں خون کی ترسیل بہتر ہوتی ہے۔سنگھاڑے کے گودے سے بنایا ہوا سفوف کھانسی سے نجات دلاتا ہے۔پانی میں اُبال کر پینے سے قبض کی شکایت دور ہوتی ہے۔معدے اور انتڑیوں کے زخم کے لئے مقوی ہے۔سنگھاڑے کے استعمال سے بڑھاپے میں یادداشت کم ہونے کے امکانات گھٹ جاتے ہیں۔سنگھاڑے کے سفوف میں دودھ یا دہی ملا کر استعمال کرنے سے پیچش سے آرام آتا ہے۔ان کے استعمال سے دانت چمکدار اور مسوڑھے صحت مند ہوتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں