علم الاسماء اور حقیقت محمدیﷺ 27

علم الاسماء اور حقیقت محمدیﷺ

تحریر :عبدالوحید نظامی العظیمی
قرآن مجید کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اللہ اور بندے کا آپس میں رشتہ تین طرح کا ہے ۔
(۱)۔ اللہ خالق ہے اور بندہ مخلوق ہے یعنی مخلوق اپنی تمام ضروریات کو پورا کرنے کے لیے خالق کی محتاج ہے اور اس کے ساتھ جڑی ہوئی ہے ۔
(۲) ۔ اللہ ایسے بندوں کا دوست ہے جو خوف اور غم سے آزاد ہیں ۔ یعنی اللہ اور بندے کے درمیان دوستی کا رشتہ ہے جو بندے کو اللہ کی صفات کے قریب کر دیتا ہے ۔ خوف ایک مستقبل کی کیفیت ہے ۔یعنی مستقبل میں کوئی حادثہ نہ ہو جائے ۔ نقصان نہ ہو جائے ۔ آفت نہ آجائے ۔ خوف کی علامات ہیں۔ غم ماضی کی کیفیت ہے جس میں افسوس یا افسردگی کی علامات پائی جاتی ہے ۔ مثلاً بیماری سے کوئی فوت ہو گیا، یا فیکٹری کو آگ لگ گئی ، کاروبار میں نقصان ہو گیا وغیرہ ۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ اللہ کے بندوں کو خوف اور غم نہیں ہوتا تو یہ مطلب نکلتا ہے کہ ان کا ماضی اور مستقبل نہیں ہوتا ۔ وہ حال میں اللہ کی صفات سے جڑے ہوتے ہیں اور دنیا کی کوئی کیفیت ان پر طاری نہیں ہوتی۔
(۳)۔ تیسرا رشتہ اللہ کا بندے کے ساتھ استاد اور شاگرد کا ہے ۔اللہ نے آدمؑ کو علم الاسماء سکھائے اور اپنی کائنات کے اندر اس کو نائب بنا دیا ہے ۔
جس طرح ڈاکٹر کا شاگرد ڈاکٹر کہلاتا ہے ۔ مصور کا شاگرد مصور ، ترکھان کا شاگرد ترکھان ، انجینئر کا شاگرد انجینئر ، وکیل کا شاگرد وکیل کہلاتا ہے ۔ اس طرح اللہ کا شاگرد صفی اللہ یعنی اللہ کی صفات کا حامل بندہ یا ولی اللہ کہلاتا ہے ۔ آدم علیہ السلام کو صفی اللہ کہا جاتا ہے ۔
قرآن مجید کا مطالعہ سے یہ بات مکمل طور پر واضح ہوتی ہے کہ اللہ نے اپنے بندے کو یہ رشتہ استوار کرنے پر زور دیا اور اس رشتے کو برقرار رکھنے کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار معلم پیغمبروں انبیاء اور رسولوں کی شکل میں معبوث فرماتے۔ آخری نبی آخر الزمان آقائے نامدار محمد مصطفیٰ ﷺ ، احمد مجتبیٰ ، رحمت اللعالمین نے فرمایا مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے ۔ اب نوع انسانی کے لیے ضروری ہو گیا وہ علم الاسماء کو سمجھیں اور اس کو حاصل کریں۔ اب علم الاسماء ہیں کیا اور اس کو کیسے سیکھا جا سکتا ہے ۔ اولیاء اللہ نے ہمارے لیے بہت آسان کر دیا ہے ۔ آئیے علم الاسماء کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
علم الاسماء دو حروف علم اور اسم پر مشتمل ہیں یعنی اسم کا علم گویا اسم الگ ہے اور علم الگ ہے ۔ لہٰذااسم اور علم کو الگ الگ سمجھتے ہیں ۔

اسم:
گرائمر کی رو سے وہ کلمہ جو کسی ، شخص ، جگہ، کیفیت ، صفت ، وقت ، صفات او رذات وغیرہ کے لیے ہو اسم کہلاتا ہے۔ گرائمر کے اندر اسم کی کئی اقسام ہیں ۔ مثلاً اسم ظرف زمان ، اسم ظرف مکان ، اسم ، مصدر ، اسم مشتق، اسم جامد ، اسم فاعل ، اسم صوت ، اسم مفعول ، اسم فعل وغیرہ ۔
علم:
اسم کی کوئی بھی قسم ہو جب وہ ہمارے حواس کے اندر دیکھنے ، سننے ، سونگھنے ، چکھنے اور محسوس کرنے کے عمل میں آ جائے تو وہ علم بن جاتا ہے ۔ علم جب ذہن کے اندر آجائے تو شعور کہلاتا ہے ۔ شعور کو استعمال کرنے والی صلاحیت کو عقل کہتے ہیں ۔ عقل اور شعور کے نتائج سمجھ، ذہانت اور فہم کہلاتے ہیں۔
عقل و شعور اور فہم کسی چیز کی کنہ یا حقیقت کو پانے کے لیے اورکسی چیز کی طرف متوجہ ہونے کی صلاحیت کو ادراک کہتے ہیں ۔ قرآ ن میں جگہ جگہ اس ادراک کے ذریعے حقیقت کو پانے کے لیے متوجہ کیا گیا ہے ۔مثلاً وما ادراک مالیلۃ القدر،وما ادراک مالقاریہ،وما ادراک ماسجین،وما ادراک ماعلین ،وغیرہ۔
ترجمہ:کیا تمہیں ادراک ہے رات کیا ہے ۔کیا تمہیں ادراک ہے کہ قاریہ کیا ہے ۔ کیا تمہیں ادراک ہے کہ سجین کیا ہے ۔ کیا تمہیں ادراک ہے کی علین کیا ہے ۔وغیرہ۔
اب اسم اور علم کا تجزیہ کریں تو کوئی بھی با شعور بندہ اپنی عقل کو استعمال کر کے یہ بات سمجھ جائے گا۔ جان لے گا کہ اسم ہمیشہ کسی ظاہری وجود کے لیے مخصوص ہے یعنی اسم ہمیشہ کسی جسم کا ہوتا ہے اور علم ذہن کے اندر جا کر باطن بن جاتا ہے ۔ یہ دونوں لفظ اکٹھے ادا کئے جائیں گے تو ان کو علم الاسماء بولا جائے گا یعنی باطن اور ظاہر ، غیب و شہود، روح اور مادہ ،اللہ اور بندہ وغیرہ ۔
جس طرح ماہرین لسانیات نے اسم کی بہت ساری اقسام بیان کیں ہیں ۔ اس طرح ماہرین باطن، ماہرین روح و غیب نے بھی علم کی کئی اقسام واضح کیں ہیں مثلاً علم لدنی ، علم الکتاب ، علم القلم ، علم لوح وغیرہ
تفکر بتاتا ہے لفظ اللہ ، روح ، غیب ، کتاب ، قلم ، لوح اسم ہیں ۔ اور جب یہ ہمارے حواس کے اندر داخل ہو جائیں تو علم بن جائیں گے ۔ گویا اسم یا علم کے درمیان کوئی چیز ہے تو وہ حواس ہیں۔ تفکر یہ بتاتا ہے کہ اگر حواس اسم یعنی ظاہر یا مادیت کی طرف متوجہ ہیں ۔ تو شعور ظاہری یا مادی کہلاتا ہے ۔ اگر حواس علم کی طرف متوجہ ہیں تو حواس اور شعور باطنی ، روحانی یا غیبی کہلاتے ہیں۔
قرآن میں متوجہ کرنے کے لیے ، افلاتعقلون ، افلا یعلمون ، افلا تفکرون ، افلا تبصرون ، افلا یشعرون ، تم عقل کیوں نہیں کرتے، تم جانتے کیوں نہیں ، تم تفکر کیوں نہیں کرتے، تم دیکھتے کیوں نہیں، تدبر کیوں نہیں کرتے وغیرہ ۔
اب یہ بات واضح ہو گئی کہ ہمارے حواس یا توجہ جس طرف مبذول ہوں گے فہم یا ادراک ویسا ہی وجود میں آئے گا۔ تمام ماہرین باطنیات یا روحانیت اس بات پر متفق ہیں ۔ اسم اللہ جو اسم ذات بھی کہلاتا ہے ۔ اگر حواس اس طرح مبذول ہو جائیں تو کوئی بندہ بیک وقت ، غیب و شہود، ظاہرو باطن ، اول و آخر ، خالق و مخلوق ، ٹائم اینڈ اسپیس ، حیات و ممات ، زمین و آسمان ، عرش تا فرش ، حجاب عظمت ، حجاب کبریا، حجاب محمود ، مقام محمود، مقام صفا ت اور مقام ذات کی فہم و ادراک کی صفت سے بہرہ ور ہو سکتا ہے ۔بالکل اسی طرح جس طرح مادی دنیا کے شعور میں انسان کسی چیز کی صفات کے ذریعے اس چیز کی ذات کا تعین کر لیتا ہے ۔
مثال کے طور پر اگر ہم صفات ، پیلا رنگ ، مٹھاس، خوشبو ، گھٹلی ، گودا مخصوص، گولائی کا اظہار کریں گے تو ہمارے سامنے یہ صفات پھل آم کی ذات کو لے آئیں گی۔
آسمان پر انتہائی چمکدار ، روشن ، گرمی یا حرارت دیتی، گول شکل ، وغیرہ یہ صفات سورج کی ذات کو سامنے لے آتی ہیں۔
دور جدید کے ماہرین باطنیات یا روحانیت بتاتے ہیں۔ کائنات کے اندر صرف انسان ایسی مخلوق ہیں جو علم اور اسم یعنی غیب و شہود ، ظاہرو باطن کا ادراک کر سکتا ہے ۔ کسی بھی مخلوق کے اندر یہ صلاحیت یا خوبی نہیں ہے ۔ حالانکہ حواس ہر مخلوق کے اندر ہیں ۔ دوسری مخلوقات جب اپنے حواس کا استعمال کرتی ہیں تو ان کے اندر بننے والا شعور جبلت کے تابع ہو تا ہے ۔ لہٰذا عقل کا استعمال ان کی ضروریات زندگی تک محدود ہو جاتا ہے ۔انسان کی ذہنی اور جسمانی ساخت ایسی ہے کہ وہ فطرت کے مقاصد کو اپنے حواس کے اندر جذب کر کے عقل و شعور کے ذریعے فہم و ادراک حاصل کر کے خالق کائنات کی ذات و صفات سے واقف ہو جاتا ہے۔ غیبی علوم کے ماہرین اس بات کا انکشاف کرتے ہیں۔ اسم ، علم اور حواس جس مقام پر اکٹھے ہوتے ہیں اس کو مقام محمود کہتے ہیں۔ اس مقام پر لیل یعنی رات کے حواس میں جدوجہد کرنے سے بندہ فائز ہو سکتا ہے ۔
قرآن مجید میں سورۃ نمبر 17بنی اسرائیل کی آیت نمبر 79 میں ارشاد ہے کہ رات کے اندر جدوجہد کرو، تو اس کا تم کو بہت نفع ہو گا جو تم کو مقام محمود پر فائز کر دے گا۔
دن کی روشنی میں ہزاروں رنگ ہوتے ہیں جبکہ رات یا تاریکی میں کوئی رنگ نہیں ہوتا رات یا تاریکی بذات خود ایک ہی رنگ کا مظاہرہ کرتی ہے ۔ دوسرے لفظوں میں دن سب رنگ ہے اور رات یک رنگ ہے ۔ رات کے اندر جدو جہد سے مراد بندہ بے رنگ ہو جائے یعنی اس کے حواس یک رنگی سے نکل کر بے رنگی میں داخل ہو جائیں۔ بے رنگی کے حواس جو کچھ جذب کریں گے وہ غیب کے تمثلات کے علاوہ کچھ نہیں ہو گا۔ مزید جدوجہد سے انسانی حواس و رائے بے رنگی میں داخل ہو جاتے ہیں ۔ ورائے بے رنگ اللہ کی ذات ہے ۔ حواس کا بے رنگی کے اندر اتر نے سے جو علم وجود میں آتا ہے ۔ اس کو علم لدنی، علم الکتاب یا علم القلم کہتے ہیں۔ قرآن مجید کی پہلی وحی میں ارشاد ہے کہ:
اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ oخَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍoاِقْرَاْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ oالَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِo
پہلی وحی میں یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ انسان کو قلم کے ذریعے علم دیا گیا ۔ سورۃ علق میں ارشاد ہے کہ پڑھو اپنے رب کے اسم سے جس نے تم کو تخلیق کیا انسان کو معلق تخلیق کیا گیا اور پڑھو اپنے رب کے کرم سے جس نے قلم کے ذریعے علم دیا۔
انسانی شعور اس بات کا مکمل ادراک رکھتا ہے کہ مادی علم کے اندر بچوں کو قلم کے ذریعے مشق کر کے حروف کی پہچان کرائی جاتی ہے ۔ قلم کی مشق سے لکھنے کی مہارت پیدا ہوتی ہے ۔ قلم نے جو کچھ ظاہر کیا وہ پہچان بن کر ذہن کے اندر اتر ا اور علم بن گیا۔ بالکل اسی طرح روحانی علوم میں حواس قلم کا کردار ادا کرتے ہیں حواس کسی چیز سے ٹکراتے ہیں۔ حواس کے چیزوں کے ساتھ ٹکرانے سے تصورات بنتے ہیں۔ تصورات جس بساط پر رونما ہوتے ہیں۔ اس کو روح یا خیال کہتے ہیں ۔ خیال یا لوح کی بساط واہمہ ہے ۔ پوری کائنات واہمہ کی بساط پر روا دواں ہیں۔
چونکہ حواس جب کسی چیز سے ٹکراتے ہیں تو شعور بنتا ہے ۔ لہٰذا ماہرین تصوف یا روحانیت مادی چیزوں سے ٹکرانے والے حواس کے ذریعے جو شعور بنتا ہے اس کو شعور چہارم کہتے ہیں۔ تصورات سے ٹکرانے والے حواس کے شعور کو شعور سوم، خیالات سے ٹکرانے والے حواس کے شعور کو شعور دوم اور واہمہ سے ٹکرانے والے حواس سے بننے والے شعور کو شعور اول کہتے ہیں ۔ احساس ، تصورات ، خیال اور واہمہ یہ چار بُعد یا دائرے یا چار درجے (Zone) ہیں جب حواس ان کے اندر کام کرتے ہیں تو یہ چھ دائروں یا چھ حصوں میں اپنا کام مکمل کرتے ہیں۔اس بات کی وضاحت عظیم روحانی سائنسدان کامل علم ذات و صفات ، حسن آخری ابدال حق قلندر بابا اولیاء رحمتہ اللہ علیہ نے روح و قلم کتاب کے صفحہ نمبر ۲۱۱ میں ان الفاظ میں کی ہے ۔
’’ جب گلاس پر ہماری نگاہ پڑتی ہے تو نزول اورصعود کے چھ دائرے طے کر جاتی ہے ۔ ہمارے حواس کے اندر پہلے گلاس واہمہ کی صورت میں داخل ہوتا ہے ۔ پھر یہ ہی واہمہ گلاس کا خیال بن جاتا ہے ۔ بعد میں یہی خیال تصور کی شکل اختیار کر کے احساس کا درجہ حاصل کر لیتا ہے ۔ پھر فوراً ہی احساس تصور میں ، تصور خیال میں اور خیال واہمہ کے اندر منتقل ہو جاتا ہے ۔ یہ سارا عمل تقریباً ایک سیکنڈ کے ہزاروں حصہ میں واقع ہوتا ہے اور بار بار دور کرتا رہتا ہے ۔ اس دور کی رفتار اتنی تیز ہوتی ہے کہ ہم ہر ایک چیز کو اپنی آنکھوں کے سامنے ساکت محسوس کرتے ہیں۔
واہمہ سے شروع ہو کر خیال ، تصور ، احساس پھر تصور، خیال اور واہمہ تک نزول اور صعود کے چھ قدم ہوتے ہیں ۔ ان ہی چھ مسافتوں کو لطائف ستہ کیا جاتا ہے ۔ لیکن واہمہ سے احساس تک بعد صرف چار ہوتے ہیں ۔ ان چار بعد یا چار شعوروں میں ایک شعور ہے اور تین لاشعور ہیں ۔ سب سے اول ہمیں واہمہ سے رابطہ قائم رکھنا پڑتا ہے ۔ پھر خیال اور تصور ہے ۔ البتہ یہ تینوں حالتیں ہمارے شعور سے بالاتر ہیں۔ فقط چوتھی حالت جس کو رویت کہا جاتا ہے ۔ ہم سے متعارف ہے ۔ رویت کا شعور باقی تین لا شعور کا مجموعہ ہے ۔ ہم اول و رائے کائناتی شعور سے جو غیر متغیر ہے اپنی حیات کی ابتداء کرتے ہیں۔ یعنی صفات الٰہیہ میں ایک فوراہ پھوٹتا ہے اور وہ فوراہ تیسرے قدم پر فرد بن جاتا ہے ۔ پہلے قدم پر فوارہ کاہیولیٰ کائنات کی شکل و صورت میں ہوتا ہے ۔ دوسرے قدم پر وہ کائنات کی کسی ایک نوع کا ہیولیٰ بنتا ہے تیسرے قدم پر وہ فرد بن کر رونما ہو جاتا ہے ۔ فرد کی حالت میں لا شمار رنگوں کا ایک فوارہ وجود میں آتا ہے ۔ ان لاشمار رنگوں کی ترتیب کو احساس میں قائم رکھنا تقریباً محال ہے ۔ اسلئے شعور چہارم کے حواس کبھی بہت غلطیاں کرتے ہیں اس ترتیب کو اکثر قیاس کے ذریعے قائم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ لیکن یہ کوشش قریب قریب ناکام رہتی ہے ۔ اس واسطے روحانی علوم میں شعور چہارم پر اعتماد نہیں کیا جاتا۔ شعور سوئم میں کائنات کے ہر ذرہ کا ربط فرد کے ذہن سے منسلک ہوتا ہے ۔ کائنات میں جو کچھ تغیرات ہو چکے ہیں یا ہونے والے ہیں وہ فرد کے شعور دوئم میں مجتمع ہوتے ہیں شعور دوئم کا ہیولیٰ ازل سے ابد تک کی کل کائنات کی فعالیت کا ریکارڈ ہوتا ہے ۔ اس شعور میں وہ تمام اجزاء پائے جاتے ہیں جو کل موجود ات کی اصل ہیں روحانیت میں سب سے اہم ذریعہ اعتماد شعور اول ہے کیوں کہ شعور اول میں مشیت الٰہی بے نقاب ہوتی ہے ۔ تصوف کی اصطلاح میںحقیقت الحائق اسی شعور کا نام ہے ۔ اسی حقیقت کو حقیقت محمدیہ ﷺ کہتے ہیں۔ حضور ﷺ سے پیش تر کسی نبی نے اس شعور کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ دورِ عیسوی کی ابتداء بھی شعور دوم سے ہوتی ہے ۔ سب سے پہلے اس شعور کی تحقیق حضورﷺ نے کی ہے ۔ اسی کے باعث قرآنی متصوفین اس کو حقیقت محمدیہ ﷺ کے نام سے پکارتے ہیں۔ انبیاء مرسلین کی وحی کا منتہا شعور دوم اور انبیاء کی وحی کا منتہا شعور سوم ہے صرف حضور ﷺ وہ نبی مرسل ہیں جن کی وحی کا منتہا شعور اول ہے ۔
’’ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اگر میں محمد ﷺ کو پیدا نہ کرتا تو کائنات کو نہ بناتا، اسی وجہ سے قرآن پاک میں شعور اول کو علم القلم کے نام سے متعارف کرایا گیا ہے ۔ حضور ﷺ نے ایک دعا کے ماثورہ میں فرمایا ہے ۔
اسئلک بکل اثھر ھولک سمیت بہ نفسک او انزلتہ فی کتابک او علمتہ احداً من خلقیک اواستاقدت بہ فی علم الغیب عندک ۔۔
ترجمہ: میں تیری جناب میں ہر ایک ایسے اسم کا واسطہ لاتا ہوں جو تیرے اسم مقدس میں اور اس کو تو نے اپنے لیے مقرر فرمایا ہے یا اس کو تو نے اپنی کتاب قرآن مجید میں نازل فرمایا ہے یا اپنی مخلوق میں کسی کو اس کا علم دیا ہے یا اپنے علم میں اس کا جاننا اپنے لیے مخصوص فرمایا ہے ۔
مندرجہ بالا تحریر پڑھنے سے یہ بات منکشف ہو جاتی ہے کہ حواس مرکوز کرنے سے شعور کے درجات حقیقت الحقائق یا حقیقت محمدیہ تک لے جاتے ہیں۔ حقیقت محمدیہ ہی اصل میں اسم اعظم یا اسم مقدس ہے اس اسم کے اندر توجہ مرکوز ہونے والے علم کو علم القلم کیا گیا ہے ۔ اسم اعظم اور علم القلم ہی دراصل علم الاسماء کہلاتے ہیں ۔ تمام اسماء الٰہیہ اور ان سے وجود میں آنے والی اشیاء اپنی ساخت کی بنا پر علوم کا انکشاف کر دیتی ہیں۔ کائنات کے کُل اسماء اور کُل علوم کا نزول مقام محمود پر ہر وقت رہتا ہے ۔ نبی کریم ﷺ کا ٹھہراؤ اس مقام پر ہے ۔ رات کے حواس جدوجہد کر کے بندے کو مقام محمود پر فائز کر دیتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں