لہریں لوہا ہے 28

 لہریں لوہا ہے

 لہریں لوہا ہے

 تحریر: عبدالوحید نظامی

انسان ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنے کے لیے زمین یا زمین کی کشش کا محتاج ہے اگر  اس کے پاؤں کے نیچے زمین نہ ہو تو وہ ایک قدم آگے یا پیچھے نہیں جا سکتا ہے ۔ پانی پر جسم کو مخصوص انداز پر رکھ کر ایک خاص طریقے سے ہاتھ پاؤں مارتا ہے تو پانی پر سفر کرتا ہے یا تیرتا ہے ۔ ہوا پر سفر کرنے کے لیے اس کا مادی جسم عاجز ہے لہٰذا لوہے کو مخصوص پرندے کی شکل دیکر زمین کی گریوٹی اور ہوا کے دباؤ کو استعمال کرتے ہوئے ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتا ہے ۔ ایک صوفی کا قول کہ اگر انسان لوہے پر محنت کر کے اسے ہوا میں اڑا سکتا ہے تو اگر اپنے جسم پر محنت کرے تو اسے بھی ہوا میں لہرا سکتا ہے ۔ تاریخ میں ہزاروں واقعات موجود ہیں کہ انسان بغیر مادی وسیلہ سے ہوا میں اڑا ہے ۔ جسم کو ہوا میں اڑانے کے لیے لہروں سے واقفیت ضروری ہے سائنس یہ بات ثابت کر چکی ہے کائنات کی ہر چیز لہروں پر مشتمل ہے ۔ الیکٹران ، پروٹان اور نیوٹران سوائے لہروں کے اور کچھ نہیں ۔ ہر چیز کے اندر ان لہروں کی تعداد سے اس چیز کے خدو خال اور نقش و نگار کا تعین کیا جاتا ہے ۔

زمینی اجزاء کی تعداد ۱۱۸ تک دریافت ہو چکی ۔ سب سے کم مادی کیمیت ہائیڈروجن کی اور سب سے زیادہ Ununoctium(UUO) کا ۱۱۸ ہے ۔ آئرن کا ایٹمی نمبر ۲۶ ہے اور ایٹمی وزن 55.840 ہے ۔

ایٹمی وزن لہروں کے دباؤ کے علاوہ کچھ نہیں فوٹان کے پیکٹ یا ان کی تعداد جتنی زیادہ ہو گی الیکٹران کی حرکات میں اضافہ بھی اسی تناسب سے ہوگا اور مٹریل کا ظاہر ہونا فوٹان اور الیکٹران کے آپس میں ٹکرانے اور ان کے اضافی دباؤ کی مرہون منت ہے ۔

روحانی سائنسدانوں نے بھی مادے کو لہروں کی بنیاد قرار دیا ہے ۔ مادے کو تخلیق کرنے والی لہریں چار ہیں ۔

(۱) ۔ لہر تسوید  (۲)۔ لہر تجرید   (۳) لہر تشہید     (۴)۔ لہر تظہیر

سائنسی علوم میں الیکٹران اور فوٹانوں سے اوپر لہروں کا لا متناہی جال ہے یہ لہروں کا جال روحانی علوم میں عالم تظہیر کہلاتا ہے۔ عالم تظہیر کی لہروں کا وہ حصہ جو مادے کے قریب ترین ہے نسمہ کہلاتا ہے ۔ یہی نسمہ انسان کے مادی جسم کی پرورش کرتا ہوا آگے بڑھتا ہے تو مادی جسم کے ساتھ جڑنے کی وجہ سے اسکی لطیف ترین شکل حواس ہیں ۔ عظیم روحانی سائنس دان قلندربابا اولیاء نے حواس کی بنا پر نسمہ کے نمبر ترتیب دیتے ہیں جس طرح مادی سائنس میں دوری جدول  (periodic table) موجود ہے اس طرح روحانی سائنس میںدوری جدول (periodic table)  تفصیل کے ساتھ موجود ہے ۔ جس طرح ایٹم کے نمبرز ہیں اس طرح حواس کے نمبر یاتعداد بھی موجود ہے ۔ انسانی حواس لوہے کی درج ذیل خصوصیات سے واقف ہیں ۔ ان خصوصیات کا تجزیہ ہمیں لہروں سے متعارف کرواتا ہے ۔

روحانی سائنس کے مطابق میں لوہے کے خواص کی لہریں اور ان کے نمبر درج ذیل ہیں ۔

لوہا : نسمہ نمبر 62+59+24+48+30+42+35+1

حواس = سیاہ رنگ + سخت + بھاری وزنی + کھردرا + چپک + کیسلا + پگھلنا + موٹا = لوہا کا وجود

حواس کی ہر تعداد لہروں کے علاوہ کچھ نہیں ان لہروں کی اجتماعیت لوہے کا روپ دھار لیتی ہے ۔ عظیم مجذوب سائنس دان بابا تاج الدین ناگپوری نے ان لہروں کو انا کی لہریں قرار دیا ہے ۔ یہ لہریں کائنات کے ایک سرے سے دوسرے تک ہمہ و        قت موجود ہیں اور ان کے ملنے سے کائنات وجود میں آ رہی ہے انا کی لہروں یا نسمہ کی تفصیل لوح و قلم میں موجود ہے ۔

الیکٹران فوٹان ، کاسمک ریز ، نسمہ ، انا کی لہریں ، جزو لا تجزاء یا حواس کی لہریں اصل میں ایک ہی چیز کے مختلف نام ہے ۔ قرآن فرماتا ہے کہ لوہا نازل ہوتا ہے اور اس میں فائدے ہیں ۔ لوہا کی اصل رو ح اسکی سختی ہے ، ٹھوس پن ہے جس کو توڑنے کے لیے بہت زیادہ انرجی کی ضرورت ہوتی ہے اور انرجی لہروں کے علاوہ کچھ نہیں گویا سائنسی اور روحانی قانون کے مطابق انرجی مادے کے اندر تبدیل ہو رہی ہے اور مادہ واپس توانائی میں بدل جاتا ہے ۔ انرجی کو انتہائی دباؤ یا طاقت دینے والی صلاحیت اور مادے کو توڑنے والی انرجی کا اصطلاحی نام لوہا ہے اور یہ لوہا مٹی کی اینٹ ، پلاسٹک کا کھلونا ، لکڑی کا دروازہ ، پانی کا جہاز اورخلائی راکٹ سے لیکر نظام شمسی کے اندر ہر مادی وجود کو فائدہ دیتا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں