Urdu Poetry 28

ملال دل میں تھا، چہرے پہ خوف طاری تھا

اردو غزل
جعفر سلیم

ملال دل میں تھا، چہرے پہ خوف طاری تھا
وہ ایک لمحہ جدائی کا کتنا بھاری تھا
یتیم بچوں کو تن کا لباس تک نہ ملا
تمام شہر مروت سے کتنا عاری تھا
بنا رہا تھا وہ خوش رنگ پھول کاغذ کے
ریئسِ شہر بھی جیسے کوئی مداری تھا
ہمیں تو قرض چکانا تھا جاتے موسم کا
ہمارا کام تو پودوں کی آبیاری تھا
پرانے پیڑ کی آخر کمر بھی ٹوٹ گئی
خدا سے مانگا ہوا پھل بھی کتنا بھاری تھا
کہیں ہمیں کوئی شیریں کلام کیا ملتا
تمہارے شہر کا پانی جو اتنا کھاری تھا
وہ آج زخم لگائے بغیر لوٹ گیا
پرانے زخم سے اب تک جو خون جاری تھا
یہ دور اب تو مسلسل غموں میں بیت گیا
ہمارا کام تو پہلے بھی غم شماری تھا
سوال میں نے کیا جب بھی زندگی کا سلیمؔ
سکوت مرگ مرے دوستوں پہ طاری تھا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں