31

وصول الی اللہ کے چشتی طریقے

وصول الی اللہ کے چشتی طریقے
صحبت شیخ
اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے؛
{یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّہَ وَابْتَغُواْ إِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ} (۴۷)
ترجمہ: اے ایمان والو اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اللہ کی طرف وسیلہ ڈھونڈو
وصول الی اللہ کا سب سے پہلا طریقہ اپنے شیخ کی صحبت اختیار کرنا ہے جس کے بغیر سلوک الی اللہ کا سفر شروع کرنا بھی نا ممکن ہے۔ صحبت کے اثر کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کی آمد سے پہلے عرب کے لوگ جانوروں سے بھی بد تر زندگی بسر کر رہے تھے اور چوری، ڈاکہ زنی، شراب نوشی، دختر کشی، قتل و غارت اور لہود لعب میں مشغول تھے مگر رسول اکرم ﷺ کی آمد سے جن لوگوں نے آپ کی صحبت اختیار کی وہ بلال سے سیدنا بلال ؓ پکارے جانے لگے، اور دنیا پر حکومت کے قابل ہو گئے۔ صحبت کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ کوئی بھی شخص ولایت کے جتنے بھی اعلیٰ مقام پر فائز ہو جائے اور کمال حاصل کر لے اور ترقی کی منازل طے کرتا ہوا کون و مکان سے تجاوز کر کے ذات باری تعالیٰ میں ہی کیوں نہ پہنچ جائے اور اس کی کرامات اس قدر زیادہ ہوں کہ ساری دنیا اس کی معترف ہو، مگر وہ کسی ایسے صحابی رسول کے مقام کو بھی نہیں پہنچ سکتا جس نے اپنی زندگی میں صرف ایک بار بھی رسول اکرم ﷺ کی زیارت کا شرف حاصل کیا ہو۔
سلوک کی تمام منازل کی ابتداء شیخ کے بتائے ہوئے اذکار اور اوراد سے ہی کی جاتی ہے۔ شیخ بھی ایسا ہو جو سلوک کی منازل سے واقف ہو اور سیدھا راستہ جانتا ہو ہلاکت اور خطرے کے تمام موقعوں سے واقف ہوتا کہ مریدوں کو ہدایت اور مفید و مضر سے واقف کر سکے۔ سالک کے لئے شیخ کی صحبت اس کی ترقی کا باعث بنے اوراس کا فیض اس قدر ہو کہ جس طرح عطر خریدنے والے سے اگر عطر نہ بھی خریدا جائے مگر صرف کچھ دیر اس عطر والے کی ہم نشینی اختیار کر لی جائے تو اس کی خوشبو ضرور اثر چھوڑ جاتی ہے(۴۸)۔
مثل مشہور ہے کہ جس کا کوئی پیر نہ ہو اس کا پیر شیطان ہوتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس علم بھی ہو تو اس کو کسی ایسے رہبر کی ضرورت ہوتی ہے، جو اس کو شیطان کے وسوسوں سے نجات دلا کر کامیابی کا راستہ دکھائے۔
جس کی قسمت اچھی ہو اس کے دل کو اللہ تعالیٰ بے شمار راہوں سے جذب عطا فرماتے ہیں اور اپنے ملنے کا راستہ وہ خود ہی بتاتے ہیں ، اس کے دل میں درست اور غلط کا فرق معلوم کرنے کا جذبہ پیدا کرتے ہیں اور اس کی کسی اولیاء اللہ کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے جذب کی یہ سب سے پہلی علامت ہے کہ سالک کو کسی رہبر کی تلاش شروع ہو جاتی ہے۔ جو منزل کا عاشق ہوتا ہے اور جو شخص رہبر منزل کی تلاش سے محروم ہے وہ منزل کے عاشق سے غافل ہے اور وہ منزل کی طلب سے محروم ہے(۴۹)۔
مشائخ کی صحبت اختیار کرنے سے سالک گناہوں سے بھی دور رہتا ہے اور سلوک کی منازل بھی طے کرتا ہے۔ حضرت ابو سعید خراز ؒ فرماتے ہیں کہ میں پچاس سال تک صوفیاء کرام ؒ کے ساتھ رہا اور کوئی گناہ نہ کیا تو کسی نے سوال کیا کہ یہ کیسے ہوا، تو آپ نے فرمایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان صوفیاء کرام ؒ کی صحبت کی بدولت اپنے نفس پر غالب رہا(۵۰)۔
سلسلہ عالیہ چشتیہ میں سلوک کی منازل شیخ کے ساتھ سفر و خضر میں رہتے ہوئے طے کی جاتی ہیں۔ حضرت قطب الدین بختیار کاکی اوشی ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ نے مجھے جس دن بیعت سے مشرف کیا اور خرقہ عطا فرمایا اس روز ارشاد فرمایا کہ میں جب خواجہ عثمان ہارونی ؒ کا مرید ہوا تو آٹھ سال تک آپ کی خدمت میںایک دم بھی آرام نہ کیا دن رات آپ کی خدمت میںگزارتا۔ جب آپ سفر کے لئے جاتے تو میں سونے کے کپڑے اور کھانا ساتھ اٹھا کر جاتا۔ جب میں نے آپ کی اس قدر خدمت کی تو مجھے ایسی نعمت عطا فرمائی جس کو بیاں نہیں کیا جاسکتا(۵۱)۔
حضرت خواجہ محب اللہ ؒ فرماتے ہیں کہ خواجہ نصیر الدین محمود دچراغ ؒ نے فرمایا راہ سلوک میں پیر وہ ہوتا ہے جس کو مرید کے باطن پر تصرف حاصل ہو، ہر وقت مرید کی ظاہری و باطنی مشکلات کو معلوم کر کے حل کر سکے۔ اگر اس طرح کی خصوصیت اس میں ہو تو وہ پیر طریقت کہلانے کا حق دار ہے نہیں تو ہیچ ہے۔ اور فرمایا صادق مرید وہ ہے جو پیر کے ہر حکم کی پیروی کرے، پیر اس کو جو دکھائے وہ اس کو توجہ سے دیکھے اور ہر وقت پیر کو حاضر ناظر سمجھے، اس کے دل میں جس طرح کے بھی خیالات گزریں اپنے پیر سے اس کا اظہار کرے تاکہ پیر اس کی تربیت کر سکے، اگر مرید کے دل میں تھوڑا سابھی خیال پیر کے خلاف آجائے تو وہ صادق مرید نہیں ہو سکتا۔
اور خواجہ نظام الدین اولیاء ؒ فرماتے ہیں کہ درویشوں اور عزیزوں میںمرید کو مولانا نصیر الدین محمود ؒ کی طرح عمدہ صلاحیت و قابلیت رکھنی چاہیے (۵۲)۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ فرماتے ہیں کہ سلسلہ عالیہ چشتیہ کے مشائخ فرماتے ہیں کہ مرشد کے ساتھ محبت و تعظیم کی صفت پر دل کو لگانا اور جوڑنا اور اس کی صورت کا دیدار کرنا رکن اعظم ہے(۵۳)۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ جو کہ برصغیر میں سلسلہ عالیہ چشتیہ کے بانی ہیں اور ولایت کے بہت ہی اعلیٰ درجے پر فائز ہیں، انہوں نے بہت سے مشائخ کی صحبت اختیار کی اور یہ اعلیٰ مقام حاصل کیا۔
ظاہری علوم حاصل کر لینے کے بعد آپ عراق کی طرف روانہ ہوئے اور قصبہ ہارون میں گئے۔ یہ قصبہ نشاپور کے قریب تھا وہاں آپ نے خواجہ عثمان ہارونی ؒ کے ہاتھ پر بیعت کی اور کئی سال تک ان کی خدمت میں رہتے ہوئے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کا سفر بھی کیا اور خدمت روحانی سر انجام دیتے رہے۔ خواجہ عثمان ہارونی ؒ سے روحانی تربیت مکمل کرتے ہوئے ان سے خرقہ خلافت حاصل کیا اور بغداد کی طرف سفر شروع کر لیا ۔ راستہ میں قصبہ سبحان میں شیخ نجم الدین کبرٰی ؒ کی صحبت سے فیض حاصل کرتے ہوئے کوہ جودی پر گئے اور کوہ جودی سے بغداد جاتے ہوئے جیلان میں حضرت سید شیخ عبدلقادر جیلانی ؒ کی صحبت میں رہتے ہوئے ان کی مجالس سے فیض حاصل کیا اور بغداد پہنچے۔ بغداد میںشیخ شہاب الدین سہروردی ؒ کے پیر و مرشد شیخ ضیاء الدین ؒ کی مجلس میں سلوک کی منازل طے کرتے رہے اور اسی مقام پر شیخ شہاب الدین سہروردی ؒ سے بھی صحبت اختیار کی ۔ اسی سفر کے دوران آپ نے خواجہ احدالدین کرمانیؒ کی مجلس میں رہتے ہوئے فیض حاصل کیا اور ان سے خرقہ خلافت بھی حاصل کیا۔ اس کے بعد ہمدان میں حضرت خواجہ ابو یوسف ہمدانیؒ سے بھی فائدہ حاصل کیا۔ پھر سفر کرتے ہوئے تبریز میں حضرت ابو سعید تبریزی ؒ جو کہ شیخ جلال الدین تبریزیؒ کے پیر ومرشد تھے ان کی صحبت سے بھی فائدہ حاصل کیا اور اصفہان میں حضرت محمود اصفہانیؒ کی مجالس سے بھی افادہ حاصل کیا، ان تمام بزرگان دین کی صحبت سے آپ ولایت کے انتہائی درجہ تک پہنچ چکے تھے۔ اور ہندوستان جانے کا حکم ملا اور راستہ میں آپ خواجہ ابو سعید مہمندی ؒ اور حضرت خواجہ ناصرالدین استراآبادی کی صحبت سے بھی فیض یاب ہوئے۔آخر میں آپ شیخ عبدالواحد غزنویؒ کی مجلس میں بھی رہے(۵۴)۔
ان تمام بزرگوں کی صحبت کا ہی اثر تھا کہ آپ نے ہندوستان میںآکرہندو مذہب کے زوال کا سبب بنے اور اسلام کی روشنی پھیلائی۔ اور ہندوستان کے لوگوں کو اسلام کی تعلیمات سے آگاہ کیا۔
حضرت گیسو دراز بندہ نوازؒ فرماتے ہیں؛ جو کوئی بھی تنہائی میں زندگی گزارے اور زہد اختیار کرے اس میں نور اور صفائی قلب پیدا ہو جائے گا اس کے خواب سچے ہوں گے جو بات اس کے دل میں آئے گی تقدیر کے موافق ہو گی، اس سے لوگ محبت کریں گے، مگر اہل طریقت کے نزدیک یہ کوئی بڑی کامیابی نہیں ہے، اس کا مقصود ابھی اس سے بہت دور ہے۔ وہ مقصد پیر کامل کی صحبت سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔ سلوک کی منازل کو طے کرنے کے لئے ایک پیر کامل کے ارشاد کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر اس مقصد تک جو سب سے اہم اور ضروری ہے پہنچنا مشکل ہے۔ پس پیر کی صحبت اور اطاعت اختیار کرو، وقت بہت قیمتی ہے اور عمر بہت تھوڑی ہے غفلت جو طاری ہے بہت جنونی کیفیت رکھتی ہے۔ سالک کو اگر آخیر عمر میں بھی سلوک کی منازل طے کرنے کا جنون پیدا ہو جائے تو یہ بھی ایک نعمت سے کم نہیں ہے(۵۵)۔
سلسلہ عالیہ چشتیہ کے تمام مشائخ سلوک کی منازل اس طرح طے کرتے ہیں کہ سالک جب بیعت کرتا ہے تو اس کی تربیت شروع ہو جاتی ہے۔اور جب اس کا سلوک مکمل ہو جاتا ہے تو شیخ اس کو خرقہ عطا فرماتا ہے سلوک کی منازل طے ہونے کے دوران وہ شیخ کی صحبت میں ہی رہتا ہے اور تزکیہ نفس کرتا ہے۔
حضرت عبدالقدوس گنگوہی ؒ فرماتے ہیں سالک صحبت شیخ کے بغیر سلوک کی منازل طے کرنے سے قاصر ہے۔ اور سالک کا کام صرف صحبت شیخ سے ہی بن پائے گا۔ اگر اس کو کسی پیر کامل کی صحبت مل گئی تو وہ کامیاب ہو جائے گا اور بہت سے راز اس پر ظاہر ہو جائیں گے۔ آپ فرماتے ہیں کہ اس معاملے میں احتیاط سے کام لو اور اپنے مرشد کا دامن نہ چھوڑو، شیخ کی صحبت سے ہی تمہارا کام مکمل ہو گا اور آپ فرماتے ہیں پیر طریقت کبریت احمر یعنی سرخ گندھک یا کیمیا ہے۔ پیر کا سینہ چشمہ آب حیات ہے، کبریب احمر ایک اکسیر کا نام ہے جس کا ایک زرہ بھی اگرتانبے میں ڈالا جائے تو زر خالص بن جائے۔ اور پیر چشمہ آب حیات ہے کہ جس سے ایک گھونٹ پی کر آدمی زندہ و جاوید بن جاتا ہے۔ سالک جو واصل باللہ ہوتا ہے اس کا یہی حال ہوتا ہے جو بھی شخص اس کی صحبت اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس جیسا بن جاتا ہے اور اولیاء کرام ؒ کی صحبت اللہ تعالیٰ کا فضل ہے(۵۶)۔
اس کے علاوہ آپ فرماتے ہیں کہ آپ کو مردان حق کی طرح کا کمال حاصل کرنا ہے تو آپ کو ایک مرشد کامل کی صحبت اختیار کرنا ہو گی۔ اپنے آپ کو اس کے سپرد کرنا ہو گا۔ اگر تم کو مرشد کامل مل گیا اور اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دیا تو تم فرشی سے عرشی ہو جائو گے، بلکہ عرش سے گزر کر رب العرش تک پہنچ جائو گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نفس اور شیطان یہ دونوں انسان کے دشمن ہیں جو انسان کو ایسے مقام تک پہنچنے سے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، ان کی چالوں کو ختم کرنے کے لے شیخ کامل کی صحبت اختیار کرنا ضروری ہے(۵۷)۔
حضرت داتا گنج بخش ؒ فرماتے ہیں کہ مرید کے لئے سب سے ضروری چیز ہم نشینی ہے اور ہم نشینی کے حقوق کی پاسداری ہر حالت میں ضروری ہے۔ اور مرید کے لئے تنہائی سے بڑھ کر کوئی فتنہ نہیں۔ حضرت جنید ؒ ایک مرید کے بارے میں بتاتے ہیں کہ اس کو غلط فہمی ہوئی کہ وہ درجہ کمال کو پہنچ گیا ہے تو اس نے گوشہ نشینی اختیار کر لی۔ شیطان اس کو رات کے وقت مختلف اشیاء دکھانے لگا اور اعلیٰ مقام بتانے لگا۔ جس کی وجہ سے اس میں غرور ظاہر ہوا۔ حضرت جنید ؒ کو علم ہوا تو آپ وہاں گئے اور اشیاء کے ظاہر ہوتے وقت لاحول ولاقوۃ الا باللہ پڑھنے کو کہا جب اس نے پڑھا تو اس کو اپنے اردگرد کوڑے کرکٹ کے علاوہ کچھ نظر نہ آیا اس پر اس کو غلطی کا احساس ہوا اور اس نے توبہ کی(۵۸)۔
حضرت ابراہیم خواص ؒ نے ایک بزرگ کو ایک ویران جنگل میں دیکھا تو اس کو خلوت اختیار کرنے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ جب میں باقی لوگوں میں تھا تو توکل اور رضا کے اعلیٰ درجے پر فائض تھا مگر جب میں نے لوگوں اور باقی ساتھیوں کو چھوڑ کر اس ویرانے کا رخ کیا تو توکل و رضا والی صفات سے میں خالی ہو گیا اب میں اس جنگل میں اس لئے مقیم ہوں تاکہ خلوت میں بھی خود کو انہی معمولات کا عادی کرلوں جن کا عادی جلوت میں تھا(۵۹)۔
خواجہ غلام فرید ؒ فرماتے ہیں کہ طریقہ تو یہ ہے کہ ہر سال مرید چھ ماہ شیخ کی صحبت میں رہ کر تربیت حاصل کرے اور ریاضت و مجاہدہ کر کے فیوض و برکات حاصل کرے اور باقی چھ ماہ اپنے گھر گزارے لیکن میرے نزدیک بہتر یہی ہے کہ نو ماہ سالک کو چاہیے کہ وہ شیخ کی خدمت میں رہے اور تین ماہ اپنے گھر گزارے۔ اس زمانے میںمہلکات سے نجات حاصل کرنے کا یہی طریقہ ہے(۶۰)۔ اس کے علاوہ آپ فرماتے ہیں سیپ ہمہ تب گوش ہو کر بارش کا انتظارکرتی ہے اور بارش کے قطرے سے حاصل کرلینے کے بعد اپنا منہ بند کرلیتی ہے تو اس کے اندر جواہرات پیدا ہو جاتے ہیں اور وہ جواہرات کا خزانہ بن جاتی ہے۔ اس لئے سالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر وقت شیخ کی صحبت میں حاضر رہے اور شیخ کے معارف کی طرف توجہ دے اور جو حکم دے اسے بجا لائے، اسی صورت میں وہ بھی جواہرات کا خزانہ بن جائے گا۔ اور اپنی اصل منزل یعنی مقام عبدیت کو حاصل کر سکے گا۔ اگر وہ عرصہ دراز تک شیخ کی صحبت سے دور رہا تو یہ مرید ہونا بھی اس کے لئے وبال ہو گا(۶۱)۔
سید اشرف جہانگیر سمنانی ؒ فرماتے ہیں کہ مشائخ کا دیدار ایک ایسی عبادت ہے کہ اگر وہ فوت ہو جائیں تو اس عبادت کی قضا ادا کرنے کا وقت نہیں ہے۔ فرائض اور واجبات کے بعد سالکین کے لئے یہ بات بہت ضروری ہے کہ وہ اپنے شیخ کامل کی خدمت میں رہیں کیونکہ مشائخ کی صحبت سے جو فائدہ حاصل ہوتا ہے وہ چلوں ور مجاہدوں سے نہیں حاصل ہو سکتا۔ سالک کے لئے اپنے مرشد کی نگاہ لطف و کرم ایک ایسی دولت کثیر ہے جو سالک کو اعلیٰ مقام تک پہنچا دیتی ہے۔ حضرت جنید بغدادی ؒ کو بہت بلند مقام اسی وجہ سے حاصل ہے کہ انہوں نے بہت سے مشائخ کی صحبت اختیار فرمائی ہے۔ مشائخ کا دیدار صوفیاء کے فرائض میں شامل ہے کیونکہ مشائخ کے دیدار سے ایسی نعمت نصیب ہوتی ہے جو کسی دوسرے عمل سے حاصل نہیں ہو سکتی۔ شیخ الاسلام فرماتے ہیں کہ فن حدیث اور دوسرے دینی علوم میں میرے مشائخ بہت سے ہیں لیکن تصوف و حقیت میں میرے شیخ ابوالحسن خرقانی ؒ ہیں اگر میں ان کے دیدار سے مشرف نہ ہوتا اور ان کی ارادت کا شرف نہ حاصل کرتا تو حقیقت کو کسی صورت نہ جان سکتا تھا(۶۲)۔
سالک مجذوب:
سلسلہ عالیہ چشتیہ کے اولیاء کرام ؒ اکثر سالک مجذوب ہیں، اس سلسلہ میں پہلے تزکیہ نفس کروایا جاتا ہے اور جذبہ بعد میں عطاء ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ان کا سب سے پہلا ذکرنفی اثبات کا ہوتا ہے تاکہ سب سے پہلے نفس کی نفی کی جائے اور سلوک کی منازل طے کی جائیں اور سیر آفاقی کی جاتی ہے۔ اور سیر آفاقی سے سیرانفسی کی طرف سفر کیا جاتا ہے۔ مریدین کو ابتدائے سلوک میں صفائی باطن کے لئے اس قدر کوشش کی جاتی ہے کہ بزرگوں کی روحانیت کی محبت اور حضور دل میسر آجاتا ہے۔ تاکہ گناہوں سے بچا جا سکے اور تمام ظاہری و باطنی امور اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے مطابق سر انجام پائیں اور سلسلہ عالیہ چشتیہ کا اصلی مشرب عشق و انکسار اور ترک و ایثار ہے۔ ان پر حضور قلب اس قدر غالب ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کی طرف سے کی جانے والی تعریف کی طرف بالکل توجہ نہیں کرتے۔ یہ حضرات ہرحال میں اخلاص اور ترک ریا کی طرف کوشش کرتے ہیں۔ اور ہر وقت ملامت کرتے رہتے ہیں، سالک مجذوب شریعت سے حقیقت کی طرف جاتے ہیں۔
حضرت نصیر الدین محمود چراغ ؒ فرماتے ہیں سالک مجذوب وہ ہوتا ہے جو کہ علم و عمل اور ارادت کی قوت سے جو اس میں ہے سلوک کرے ، پھر آخر میں اس کو جذبہ پیدا ہو اور آپ فرماتے ہیں کہ یہ اعلیٰ مقام پر اس لئے فائز ہوتا ہے کہ وہ اپنے اعمال میں بڑی کوشش کرتا ہے۔ رنج و تعصب زیادہ برداشت کرتا ہے اور شیطان اس کو اپنی طرف راغب کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے مگر وہ اپنی کوشش سے شیطان کی مخالفت کرتا ہے(۶۳)۔ سالک مجذوب کی ایک تعریف یہ بھی کی جاتی ہے کہ سالک مجذوب اس کو کہتے ہیں کہ اثنائے سلوک میں ایسا جذبہ پیدا ہو جائے جو دفعتہ اس کو واصل بحق کر دے(۶۴)۔
سالک مجذوب وصول الی اللہ کا وہ طریقہ جس میں پہلے تصفیہ قلب حاصل کیا جاتا ہے جس میں مجاہدہ، عبادات، ریاضات اوراد، وظائف و اذکار اور مشاغل کے ذریعے تمام مراتب اور مدارج سلوک طے کئے جائیں اور سلوک کے طے ہوجانے کے بعد جذبہ عطا ہو(۶۵)۔ سالک مجذوب وہ ہوتا ہے جس نے صفات نفسانی کی تمام ہلاکت خیز مقامات کو قدم سلوک سے طے کر لیا ہو۔ اور پاکیزہ جذبات کی مدرسے اور واردات و کیفیات ربانی کی ایک خاص مدت تک جاری رہنے کے بعد سالک مدارج قلبی اور منازل روحانی کی بلندیوں کو عبور کرکے کشف و یقین کے عالم میں پہنچ جائے۔ انوار حقائق کا مشاہدہ اور اسرار حقائق کا معائنہ اس کی منزل ہو اور ان منازل کو سلوک کے ذریعے طے کرے۔ اس میں سالک ابتر اور مجذوب ابتر بھی ہوتے ہیں۔ سالک ابتر وہ ہوتا ہے کہ جو ابھی تک مجاہدہ کی تنگیوں سے نکل کر مشاہدہ کی صفائی تک نہ پہنچا ہو اور مجذوب ابتر وہ ہوتا ہے جس نے ابھی سیر و سلوک کی باریکیوں اور درجات و مقامات درویشی کی حقیقتوں اور خطرات و تدابیر سے آگاہی نہ حاصل کی ہو(۶۶)۔
مجذوب سالک:
مجذوب سالک اس کو کہتے ہیں جس کو ابتداء سے ہی جذبہ حاصل ہو جائے۔ جذبہ سے مراد وہ سلوک ہے جس میں بغیر مجاہدہ اور بغیر ریاضت غلبہ روحانیت سے منازل سلوک طے ہو جاتے ہیں(۶۷)۔ یہ سالک حقیقت سے شریعت کی طرف جاتا ہے۔ مجذوب اس کو کہتے ہیں جس پر جذبہ الٰہی ایسا طاری ہو کہ ایک آن میں اسے واصل بحق کر دے اور تمام مقامات عروج بلا کسب و مجاہدہ اس کو طے ہو جائیں اور وہ مستغرق و محوذات ہو جائے اور اس عالم سے بالکل بے خبر ہو جائے اور بحر عشق اور دریائے توحید میں مست اور بے خود ہو جائے۔ مجذوب ہر وقت حالت سکر میں رہتے ہیں اور مقام بقا بعدالفنا میں نہیں آتے اور محو بعد المحو اور جمع الجمع میں ورود نہیں کرتے اس لئے ناقص رہتے ہیں صوفیا اور محققین اس مقام کوکامل نہیں کہتے کیونکہ کمال کامل تو یہ ہے کہ بعدفنائیت کے خلق کی طرف نزول کرے اور مقام عبدیت میں آئے۔ یہ سب سے اعلیٰ مقام ہے تاکہ مخلوق کو فائدہ ہو اور جانشین و وارث انبیاء بنے(۶۸)۔ مجذوب سالک کو جب جذبہ حاصل ہو جاتا ہے تو وہ جذبہ کی مدد سے عمل کرتا ہے۔ شیطان اس سے دور بھاگتا ہے جس طرح ایک عاشق زینہ بام معشوق تک پہنچا اور قرب حاصل کیا۔ اگر اس کے اردگرد کے لوگ اس کو منع کریں تو وہ ان کی بات نہیں سنتا اسی طرح جس کو جذبہ حاصل ہو وہ شیطان کی بات کس طرح سن سکتا ہے۔ نفس اور شیطان کے جال سے نجات حاصل کر چکا ہوتا ہے۔ حضرت نصیر الدین محمود چراغ ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت خواجہ فضیل عیاض خواجہ بشر حافی اور حضرت خواجہ ابراہیم ادھم ؒ مجذوب سالک تھے(۶۹)۔
مجذوب سالک وہ ہوتا ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی مدد سے قوت اور جذبات کی مدد سے اس کے مقامات کو طے کر لیا ہو اور عالم کشف و عیان میں پہنچ گیا ہو، اس مقام پر پہنچ کر معرفت اور قربت کی ان تمام منازل اور مراحل کو سلوک سے طے کرے اور حقیقت حال کو صورت عالم میں دوبارہ پایا ہو، سالک جب سلوک کی منازل طے کرنی شروع کرتا ہے تو اگر اس کو جذبہ نصیب ہو جائے تو شیطان اس پر کسی قسم کا اختیار استعمال نہیں کر سکتا(۷۰)۔
سالک جب سلوک الی اللہ کا سفر شروع کرتا ہے تو اس کو سالک مجذوب یا مجذوب سالک میں سے کسی ایک کا دامن تھامنا پڑے گا اور اس کی پیروی دل و جان سے قولاََ، فعلاََ اور حالاََ کرے گا۔ سلوک کی منازل کے دوران اگر کسی فکر عظیم اور کسی بلند مقام سے گزرے تو اپنے شیخ سے رہنمائی حاصل کرے اور اپنے آپ کو غرور و تکبر سے بچائے۔ سالک وصول الی اللہ کی کتنی بھی منزلیں طے کر لے اور جتنے بھی اعلیٰ مقام تک پہنچ جائے وہ شیخ کی رہبری کا پھر بھی محتاج ہے۔ اور کسی صورت بھی اس کی رہنمائی کے بغیر کوئی منزل طے نہیں کرسکتا(۷۱)۔

سلوک چشتیہ کے بنیادی کلمات:
مجاہدہ:
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے،
{وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ} (۷۲)
ترجمہ: اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھائیں گے اور بے شک اللہ نیکوں کیساتھ ہے۔
نفسانی خواہشات کو مارناجسمانی عیش و عشرت اور آرام کو ترک کرنا، دل کو ماسوائے اللہ سے خالی کرنا، عبادت اور تقویٰ اختیار کرنا، زہد کہلاتا ہے۔ بدنی مشقت کو نفس کا برداشت کرنا اور ہر حال پر خواہش کی مخالفت کرنا مجاہدہ ہے اور جس کو آخرت کا ہر وقت خیال رہے ۔ راحت و لذت دنیا کی پرواہ نہ کرے اور ہر وقت عبادت الٰہی میں مصروف رہے اس کو زاہد کہتے ہیں(۷۳)۔ خواہش نفس سے علیحدہ ہو جانا، نفس کے لشکر سے جنگ کرنا ، ریاضت و واردات کی بارش اور الہایات کی کثرت کے حسن و جمال سے نفس کی اصلاح کرنا مجاہدہ کہلاتا ہے(۷۴)۔ حضرت ابراہیم بن ادھم ؒ فرماتے ہیں جب تک انسان چھ کھائیاں عبور نہ کر لے صالحین کا مرتبہ حاصل نہیں کر سکتا۔
۱۔ ناز و نعمت کا دروازہ بند کر کے سختی برداشت کرنے کا دروازہ نہ کھول دے۔
۲۔ عزت کی طلب کا دروازہ بند کر کے ذلت اپنانے کادروازہ نہ کھول دے۔
۳۔ آرام و راحت کا دروازہ بند کر کے اور لگاتار کوشش کا دروازہ نہ کھول دے۔
۴۔ نیند کا دروازہ بند کر کے بیداری کا دروازہ نہ کھول دے۔
۵۔ امیر ہونے کا دروازہ بند کر کے فقر شروع نہ کردے۔
۶۔ امیدیں لگانا بند کر کے موت کی تیاری نہ شروع کر دے(۷۵)۔
حضرت حسن قزار ؒ نے فرمایا کہ تصوف کا دارومدار تین چیزوں پر ہے؛
۱۔ جب تک فاقہ کی حالت نہ ہو نہ کھائو۔
۲۔ جب تک سونے کا غلبہ نہ ہو نہ سو۔
۳۔ ضرورت کے بغیربات نہ کرو(۷۶)۔
بنیادی طور پر زہد تین چیزوں میں ہوتا ہے، کھانے، سونے اور بولنے میں۔ روحانیت کا دروازہ کم کھانے کم بولنے اور کم سونے کو کہا جاتا ہے۔ اور سالک جب ان تین چیزوں میںزہد اختیار کرتا ہے تو سلوک کی منازل بہت جلد طے کر لیتا ہے۔ سلسلہ عالیہ چشتیہ کے مشائخ میں زہد کا رنگ واضح نظر آتا ہے۔ وہ بکثرت روزے رکھتے ہیں عوام سے بات کم کرتے ہیں اور دنیا کو بہت تھوڑی اہمیت دیتے ہیں۔
مجاہدہ نفس کا دارومدار اس پر ہے کہ سالک پسندیدہ چیزیں اپنے نفس سے دور کرے اور ہر وقت اسے اپنی خواہشات کے خلاف عمل کرے۔ نفس کو نیک کام کرنے سے دو باتیں روکتی ہیں ایک نفسانی خواہشات میں پڑ جانا اور دوسرا عبادتوں سے رک جانا۔ چنانچہ سالک کے لئے ضروری ہے کہ جب نفس شیطانی طریقے کے مطابق خواہشات پر عمل کرنا چاہے تو اس کو تقویٰ کی لگام دے اور جب دین کی پیروی پر ڈٹ جائے تو اس کی خواہشات کے خلاف چلنے پر مجبور کر دے اور جب نفس غصہ سے بھر جائے تو اس پر نظر رکھے اور اس کا غرور توڑ دے۔ نفس اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی تعریف کی جائے مگر سالک اس کو ذلت کی سزا دے۔ عام لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے اعمال پورے طور پر ادا کریں۔ مگر خواص کے لئے ضروری ہے کہ اپنے احوال درست کریں۔بھوک اور بیداری کو برداشت کرنا آسان ہے مگر اخلاق کا درست کرنا اور اخلاق ذمیمہ کو درست کرنا بہت مشکل کام ہے۔ کیونکہ نفس اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی عزت کی جائے اس کے پاس دولت وافر ہو اور حسد ، انا پرستی، تکبر کو چھوڑنا مشکل کام ہے۔(۷۷)
حضرت ذوالنون مصری ؒ فرماتے ہیں کہ مخلوق میں فساد چھ چیزوں سے پیدا ہوتا ہے؛
۱۔ آخرت کے بارے میں لوگوں کی نیت کی کمزوری سے۔
۲۔ بدن کی شہوات میں پڑنے سے۔
۳۔ موت کو قریب جاننے کے باوجود لمبی امیدیں لگانے سے۔
۴۔ اللہ تعالیٰ کی رضا پر لوگوں کی رضا کو ترجیح دینے سے۔
۵۔ خواہشات نفسانی کی پیروی کرنے اور رسول اللہ ﷺ کی سنت پر عمل نہ کرنے سے۔
۶۔ اکابر کی معمولی کوتاہیوں پر نظر رکھنے اور ان کے مناقب بھلانے سے۔ (۷۸)
مجاہدہ کے پانچ مراتب ہیں؛ مرتبہ اول عدل ہے، یعنی جو بات ظاہری شرع کے مطابق حرام ہے اس پر عمل نہ کیا جائے ورنہ اس کا شمار گنہگاروں میں ہو گا، عام مسلمان اسی پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ مرتبہ دوم نیکوکاروں کا ہے یعنی جس چیز کے بارے میںحرام ہونے کا فتوی نہیںہے مگر اس میں شبہہ ہے اس کو ترک کر دے۔ مرتبہ سوم متقی لوگوں کا ہے، یعنی جو حلال سے بھی پرہیز کرتے ہیںمثال کے طور پر حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒکے بارے میں ہے ایک مرتبہ مال غنیمت میں لایا گیا مشک ان کے سامنے لایا گیا مگر آپ نے اس کو سونگھا نہیں کہ اس پر مسلمانوں کا حق ہے۔ ایک اور شخص کے بارے میں ہے کہ وہ ایک مرتبہ کسی بیمار کے پاس بیٹھا تھا کہ وہ وفات پا گیا اہل خانہ نے چراغ روشن کیا تو وہ شخص اس چراغ سے دور چلا گیا اس لئے کہ چراغ کی روشنی پر صرف وارثوں کا حق ہے۔ مرتبہ چہارم صدیقوں کا ہے۔ جو حلال چیز سے صرف اس لئے پرہیز کرتے ہیں کہ وہ چیز کسی ناجائز طریقے سے نہ حاصل کی گئی ہو۔ جس طرح حضرت بشر حافی ؒ نے سلطان کی جاری کی ہوئی نہر کا پانی اس لئے نہیں پیا کہ معلوم نہیںکس طرح کی آمدنی سے نہر کھدوائی ہو۔
مرتبہ پنجم مقربوں اور موحدوں کے لئے ہے جو اشارہ حق کی مرضی کے بغیر کھانا پینا حرام جانتے ہیں، جن کے بارے میں بعض محققین کہتے ہیں کہ عوام کی پرہیز گاری حرام چیزوں سے دور رہنا ہے اورخواص کی پرہیزگاری مشتبہ حلال چیزوں سے بچنا ہے اور صدیقین ماسوائے اللہ سے پرہیز کرتے ہیں۔ دنیا اللہ تعالیٰ کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔
دنیا سے پرہیز کرنا بدن کو ذبح کرنا ہے، آخرت سے پرہیز کرنا قلب ذبح کرنا ہے۔
حضرت گنج شکر ؒ فرماتے ہیں زہد کی تین نشانیاں ہیں:
۱۔ دنیا کی شناخت اور اس کے معاملات سے دست برداری۔
۲۔ اپنے مولا کی خدمت اور اس میں مصروفیت۔
۳۔ آخرت کی آرزو مندی اور اس کی طلب۔ (۷۹)
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ فرماتے ہیں خدا کے ساتھ اس طرح رہو جیسے مخلوق کاوجود ہی نہیں اور مخلوق کے ساتھ اس طرح رہو جیسے تمہارا نفس ہی نہ ہو۔ چنانچہ جب تم مخلوق کے وجود کو نظر انداز کرتے ہوئے خدا کے ساتھ ہو گے تو اس کو پالو گے۔ ہر چیز سے فنائیت کا مقام حاصل کر لو گے اور جب نفس کی خواہشات کو ختم کر لو گے تو عدل اور انصاف اور حق تمہارے ساتھ ہو گا اور انجام بد سے ہر طرح محفوظ ہو جائو گے اور جب تم ہر چیز کو درخلوت پر ترک کر دو گے اور خلوت میں اکیلے ہی داخل ہو گے تو خلوت کی تنہایوں میں تمہاری چشم باطن ایسے انعامات کو دیکھے گی جو تمہاری ظاہری آنکھ نہیں دیکھ سکتیں۔ وہاں تم کو موجودات کے ماسویٰ کا نظارہ حاصل ہو جائے گا۔ نفس تم سے دور ہو جائے گا اور تم قرب الٰہی اور امر خداوندی حاصل کر لو گے ۔ اس مقام پر تمہارا جہل علم میں تبدیل ہو جائے گا اور بعد قرب بن جائے گا۔ تمہاری خاموشی ذکر کی حیثیت کر لے گی اور وحشت انس و محبت میں بدل جائے گی اور جان لو کہ عبدیت کے مقام میں خالق اور مخلوق دو ہی ہیں۔ اگر تم خالق کو اختیار کرتے ہو تو کہہ دو کہ رب دو عالم عزوجل کے علاوہ باقی تمام میرے دشمن ہیں۔(۸۰)
حضرت فرید الدین مسعود گنج شکرؒ فرماتے ہیں کہ ایک بزرگ سے پوچھا گیا، مجاہدہ کیا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ نفس کو بری حالت میں ترسا ترسا کے مارنا یعنی نفس اگر کسی چیز کی خواہش کرے تو نفس کی سخت مخالفت کی جائے جو نفس کی آرزو ہو وہ پوری نہ کی جائے اور جس طاعت پر نفس راضی نہ ہو وہی طاعت کرے۔ حضرت ذالنون مصری ؒ کو لوگوںنے کہا کہ آپ نے مجاہدہ میں کہاں تک ترقی کی ہے تو آپ نے فرمایا کہ میں دو دو تین تین سال تک نفس کو پانی نہیں دیتا، دس سال گزر گئے کبھی نفس کو پیٹ بھر کر پانی نہیں دیا اور رات کو جب تک دو مرتبہ قرآن مجید ختم نہیں کر لیتا اور کسی کام میں مشغول نہیں ہوتا۔(۸۱)
حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت شاہ سجاع کرمانی ؒ چالیس سال تک نہ سوئے چالیس سال کے بعد ایک رات خواب میں ذات باری تعالیٰ کو دیکھا اس دن کے بعد جب بھی جہاں کہیں بھی جاتے سونے کے لئے بستر ساتھ لے کرجاتے اور سو جاتے تاکہ دوبارہ خواب میں دولت دیدار نصیب ہو مگر ایک دن آواز آئی کہ وہ دولت دیدار اسی بیداری کا ہی نتیجہ تھی۔(۸۲)
حضرت سفیان ثوریؒ فرماتے ہیں کہ دنیا سے منہ موڑ لینا زہد ہے کہ انسان لمبی لمبی امیدیں نہ لگائے زہد کا یہ مفہوم نہیں کہ انسان ثقیل روزی کھاتا رہے اور عبا پہن لیا کرے۔ حضرت ابو عثمان ؒ فرماتے ہیں کہ زہد یہ ہے کہ تم مال دنیا کو چھوڑ دو تو پھر یہ پرواہ نہ کرو کہ وہ مال کس کے پاس جاتا ہے۔
حضرت جنید ؒ فرماتے ہیں جس مال دنیا سے ہاتھ خالی ہوں اس سے دل بھی خالی ہو تو اس کا نام زہد ہے۔ حضرت فضیل بن عیاضؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر شر کو ایک گھر میں رکھ دیتا ہے اور اس کی چابی دنیا کی محبت ہے یعنی دنیا کی محبت سے شر میں داخل ہو گے اور پھر ہر بھلائی ایک گھر میں رکھ کر زہد کو اس کی چابی قرار دیتا ہے۔ حضرت عبدالواحد بن زیدؒ فرماتے ہیں کہ درہم و دینار ترک کر دینا زہد کہلاتا ہے۔ حضرت ابو سلمان دارانیؒ فرماتے ہیں اللہ سے توجہ ہٹا دینے والی ہر چیز کو ترک کر دینا زہد ہے۔(۸۳)
مشاہدہ
تجلیات حق کو بلا حجاب دیکھنا مشاہدہ کہلاتا ہے۔ مشاہدہ سے سالک کے دل میں ایک حضوری پیدا ہوتی ہے جو قلب پر محیط ہو جاتی ہے اگر اس حضوری میں علم لادونی کا غلبہ ہو تو اس کا نام شاہد العلم ہے۔ اگر حالت وجد ہے تو اس کا نام شاہد الوجد ہے اور اگر تجلی انوار کا غلبہ ہو تو اس کا نام شاہد تجلی ہے(۸۴)۔ مشاہدہ کا اطلاق دلائل توحید کے ساتھ اشیاء کی رویت پر ہوتا ہے۔ اشیاء میں رویت حق کو بھی مشاہدہ کہتے ہیں اور حقیقت یقین بلا شک پر بھی اس کا اطلاق کیا جاتا ہے(۸۵)۔ ارباب تصوف مشاہدہ وصول اور رویت میں کچھ زیادہ فرق نہیںکرتے مگر محققین نے اس کی وضاحت اس طریقے سے کی ہے کہ مشاہدہ اور وصول کا تعلق اس جہان فانی سے ہے اور رویت کا تعلق دار آخرت سے ہے۔ یعنی آخرت میں جو دیدار الٰہی کا وعدہ کیا گیا ہے اس کے پورے ہونے کو رویت کہتے ہیں اور اس بات پر تمام لوگوں کا اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس دنیا میں نہیں دیکھا جاسکتا، ان ظاہری آنکھوں سے یہ نا ممکن ہے مگر جہت یقین سے اس کا دیدار ہو سکتا ہے۔ اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے ان آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کا دیدار اور دل سے مشاہدے کو روا رکھا ہے۔ فرق یہ ہے کہ عام مسلمان آخرت میں ان جسمانی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس کا دیدار کریں گے اور اس کے خاص بندے دیدہ دل سے دنیا میں اس کا دیدار کریں گے۔ اس دیدار میں چگونکی کیفیت، احساس اور ادراک نہیں ہو گا۔ مگر جو خاص الخاص لوگ اس دنیا میں چشم جاں سے اس کا دیدار کرتے ہیں یہ حالت خواب یا حالت مراقبہ میںہوتے ہیں۔ یہ دیدار ایک مختلف قسم کا ہی ہوتا ہے جس کا ظاہری آنکھوں سے کوئی تعلق نہیں جو کوئی ظاہری آنکھوں سے دیدار کا طلب گار ہے اس کو ابد تک اس کا انتظار کرنا پڑے گا۔ مگر جب یہ فانی اس باقی سے واصل ہو جائے گا اس ذات میں فنا ہو جائے گا تب اس بقا میں اس کو دیدار حاصل ہو جائے گا اور اس دیدار کو بیان کرنے کی کوئی کیفیت نہیں ہے(۸۶)۔ لفظ شاہد سے مراد وہ کیفیت ہوتی ہے جو انسان کے دل میں موجود ہوتی ہے اور اس چیز کا دل پر غلبہ ہوتا ہے گویا یار دل اسے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اگرچہ وہ اس سے اوجھل ہوتی ہے ۔ لہٰذا ہر ایسی چیز جو شاہد کے دل میں سما جاتی ہے تو وہ اس کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ چنانچہ اگر اس پر علم کا غلبہ ہے تو وہ شاہد علم ہو گا اور اگر وجد غالب ہے تو وہ شاہد وجد ہے۔ شاہد کا لغوی معنی خاطر بھی بیان کیا گیا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو تمہارے دل میں حاضر ہے وہ تمہارا مشاہدہ کر رہی ہے۔
حضرت شبلی ؒ سے مشاہدہ کے بارے میں سوال کیا گیاتو آپ نے فرمایا کہ ہم کون ہیں اللہ کا مشاہدہ کرنے والے ہمارا مشاہدہ تو وہ خود فرماتا ہے۔ اس میں شاہد حق کا اشارہ اللہ کی طرف ہے کہ دل جس کے قبضہ میں ہوتا ہے کیونکہ اسی کا ذکر غالب ہے اور وہ مسلسل اس کے دل میں موجود ہے۔ چنانچہ جس مخلوق کا تعلق دل سے ہو جاتا ہے تو اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ دل کا شاہد ہے۔ یعنی وہ اس کے دل میں حاضر ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ محبت دائمی طور پر محبوب کا ذکر چاہتی ہے اور اس پر غلبے کی شکل میں خواہاں ہوتی ہے(۸۷)۔ قدرت حق کا پیدا ہونا اور باہم قریب آنے کا نام مشاہدہ ہے۔ حضرت عمر بن عثمان مکی ؒ فرماتے ہیں مشاہدہ کا آغاز یہ ہے کہ ذوائدیقین،کواشف حضور کے ساتھ چمکتے ہیں اور وہ غیب کے ڈھانپ لینے سے مستثنیٰ نہیں ہوتے الغرض مشاہدہ دوام محاضرہ کا نام ہے جس کا دل طالب ہوتا ہے جب اس کو غیوب ڈھانپ لیتے ہیں(۸۸)۔
حضرت داتا علی ہجویری ؒ فرماتے ہیں اہل تصوف کے نزدیک مشاہدہ ذات حق کو چشم باطن سے دیکھنے کا نام ہے۔ یعنی جلوہ حق کو دل میں خلوت و جلوت میں تجزیہ کئے بغیردیکھے۔ آپ فرماتے ہیں مشاہدہ کی حققیت کے دو پہلو ہیں ایک مشاہدہ صحیح یقین سے اور دوسرا غلبہ صحبت حق یعنی غلبہ صحبت سے وہ مقام حاصل ہو جہاں طالب ہمہ تن حدیث محبوب ہو کر رہ جائے اور اس کو بجز اس کے کچھ نظر نہ آئے۔ محمد بن واسعؒ فرماتے ہیں میں نے صحیح یقین کے ساتھ ہر چیز میںجلوہ محبوب حق دیکھا،اسی طرح ایک اور بزرگ فرماتے ہیں کہ میں نے کوئی چیز نہیں دیکھی جس میں مجھے دیدار حق نہ ملا ہو۔
حضرت بایزید بسطامیؒ سے کسی نے ان کی عمر کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے اس کو چار سال یا دوسری روایت کے مطابق چالیس سال بتائی۔ لوگوں کو حیرانگی ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ میں ستر سال تک دنیوی رجحانات میں رہا ہوں ۔ صرف چار سال سے مشاہدہ حق میں مصروف ہوں، حجاب کا زمانہ زندگی میں شامل نہیں ہوتا۔ حضرت جنید بغدادیؒ فرماتے ہیں اکبر حق تعالیٰ مجھ کو ارشاد فرمائیں کہ مجھے دیکھو تو میںنہیں دیکھوں گا کیونکہ محبت میں آنکھ کی حیثیت غیر اور بیگانے کی ہے۔ اشک غیر مانع دیدار ہے، جب دنیا میں حق تعالیٰ کو چشم کے واسطہ کے بغیردیکھتارہا ہوں تو آخرت میں اس کا واسطہ کیوں تلاش کروں۔(۸۹)
ذکر روح کا مقام مشاہدہ سے ذکر روح کے غلبہ میں کثرت خدا کی یکتائی میں فنا ہو جائے۔ یہاں تک کہ سالک کے مشاہدے میں ذات مطلق کے مشاہدہ کے سوا کچھ نہ ہو ۔ یہی مرتبہ مشاہدہ ہے(۹۰)۔ ایسا شخص جو اس دنیا میں جسمانی آنکھ کا مالک ہو مگر خدا کو پہچانتا نہ ہو اور اس کی طرف مشغول نہ ہو اور دن رات دنیاوی کاموں اور فکروں میں مشغول رہتا ہے۔ قیامت کے روز و ہ نابینا ہو گا اور اس کو یقین ہو گا کہ وہ اندھاہے اور خدا کے دیدر کے قابل نہیں ہو گا۔ جس شخص کو اس دنیا میں باطنی مشاہدہ حاصل نہ ہو گا وہ کل بروز قیامت جسمانی آنکھ سے مشاہدہ کس طرح کرے گا۔ کیونکہ اس روز نورسر اور چشم کا باطن کیا ظہور ہو گا۔ اور ظاہر اور باطن پر حاوی ہو گا اس کی وجہ یہ ہے کہ عالم بقا میں چشم سر یعنی جسمانی آنکھ اور چشم سر یعنی باطنی آنکھ ایک ہی ہے۔ اسی کو رویت کہتے ہیں۔ اسی لئے آج بھی اسی چشم باطن کا اعتبار ہے کیونکہ چشم ظاہر عالم فانی کی چیز ہے۔ جس کا کوئی اعتبار نہیں اور عالم بقا کی جو چیز نظر آئے اسے مشاہدہ دکہتے ہیں۔ یہ رویت کا قائم المقام ہے(۹۱)۔ تمام اہل حق کا اس بات پر اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار اس دنیا میں ممکن نہیں ہے مگر جس کسی بزرگ کا قول اس مضمون پر وارد ہوا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جس رویت کا آخرت کے لئے وعدہ تھا اس کا اس دنیا میں چشم یقین سے مشاہدہ حاصل ہو گیااور مرتبے کے لحاظ سے رویت مشاہدہ بلند ہے جیسا کہ حضرت علی ؓ کے بارے میں ہے کہ آپ فرماتے ہیں اگر میرے سامنے پردہ بھی اٹھ جائے تو میرے یقین میں اضافہ نہیں ہو گا۔ یعنی مشاہدہ حق میںآپ کا یقین اس مقام پر پہنچ گیا اس مقام کے بزرگ کون و مکان سے گزر کر کشف حق ار مشاہدہ رب میں بلند پرواز کر جاتے ہیں اور زمان و مکان کو اپنی گرفت میں کر لیتے ہیں ۔ زمان و مکان اور دنیا کو اٹھا لیا ہے اور آخرت تک پہنچ گئے ہیں۔(۹۲)
ذکر:
ذکر کے مختلف طریقوں کی تفصیل لطائف اور ان کے مقامات کے باب میں آئے گی۔ یہاں صرف ذکر کا مفہوم اور اس کی مختلف اقسام پر بحث کی جائے گی۔
ذکر ہی وہ چیز ہے جس کے توسل سے مطلوب کی یاد ہو ۔ لہٰذا انسان کے جملہ افعال و اقوال اور حالات بشرط یاد حق کے ذکر ہیں اور غفلت کی صورت میں ذلالت اور گمراہی ہوتی ہے۔ذکر کی بہت سی اقسام ہیں۔
۱۔ ذکر لسانی : اس کو ذکر لفظی بھی کہتے ہیں۔ یعنی زبان سے الفاظ ادا کرنا اور ترتیب الفاظ کی رعایت رکھنا اور دل سے اس کے معنی کی طرف متوجہ ہونا۔ اس کی بھی دو اقسام ہیں، ایک ذکر جہر یعنی آواز کے ساتھ الفاظ ادا کرنا اور بلند آواز سے ذکر کرنا دوسرا ذکر خفی یعنی آہستہ سے الفاظ ادا کرنا تا کہ اس کی آواز دوسروں تک نہ پہنچے۔
۲۔ ذکر قلبی: مطلوب کے نام کا مطالعہ بلا رعیت ترتیب الفاظ کرنا، اور دل ہی میں ذکر کرنا۔
۳۔ ذکر روحی : اس ذکر کو مشاہدہ مطلوب کا ذکر کہتے ہیں۔
۴۔ ذکر سری : وہ حضوری مطلوب کی ہے۔ اس حالت حضوری میں ذاکر یہ تمیز رکھتا ہے کہ میں ذاکر ہوں اور میرا مطلوب حاضر ہے۔
۵۔ ذکر خفی : یہ ذکر وہ ہے کہ مطلوب کی حضوری غالب آ جائے اور ایسی محویت چھا جائے کہ اپنی خودی مٹ جائے صرف ذکر کی لذت ہی باقی رہ جائے۔
۶۔ ذکر اخفیٰ: اس ذکر میں مطلوب کی حضوری اس درجہ تک پہنچ جائے اور غالب آجائے کہ ذکر و ذاکر و مذکور میں تمیز بالکل اٹھ جائے اور لذت ذکر بھی باقی نہ رہے۔ صرف علم لذت ذکر باقی رہے۔
۷۔ ذکر اخفی الاخفیٰ: یہ وہ ذکر ہے کہ ذکر، ذاکر، مطلوب، لذت ذکر، علم لذت ذکر سب کچھ درمیان سے اٹھ جائے صرف مطلوب ہی مطلوب باقی رہ جائے۔(۹۳)
بعض صوفیاء اکرام ؒ ذکر کو چار طریقوں میں تقسیم کرتے ہیں؛
۱۔ زبان ذاکر ہو مگر دل غافل ہو۔
۲۔ زبان ذاکر ہو اور دل بھی متوجہ ہو مگر کبھی کبھی دل غافل ہو جاتا ہو مگر زبان سے ذکر برابر جاری رہتا ہے۔
۳۔ زبان اور دل دونوں سے ذکر جاری رہے مگر کبھی کبھی دونوں غافل ہو جائیں۔
۴۔ زبان اور دل ذاکر ہو، یہی انتہائے مقامات ذکر ہے۔
اس مرتبہ میں ذاکر اپنے دل کی آواز سنتا ہے ۔ بعض اکابر صوفیاء ؒ نے ذکر کی تقسیم اس طریقے سے بھی کی ہے۔ اس کو لطائف پر ذکر بھی کہا جاتا ہے۔ جس سے سلوک کی منازل طے ہوتی ہیں۔ اور اسی ذکر کی ابتداء سے ہی سلوک کی ابتدائہوتی ہے۔
۱۔ ذکر جلی: اسم ذات اللہ کا یا نفی اثبات یعنی کلمہ طیبہ کا ذکر کرنا خواہ کسی بھی طریقے یا کسی بھی صورت سے ہو یہ ذکر زبان یا سانس سے بھی ہو سکتا ہے۔
۲۔ ذکر قلبی: یہ ایک خاص شغل ہے کہ ذاکر اپنی ہستی کو معدوم جانے اور ذات حق کو اپنی صورت پر حاضر اور موجود جانے اور اس بات پر یقین رکھے کہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات موجود ہے اور جو کچھ ہے وہ صرف وہی ہے۔
۳۔ ذکر روحی: یہ مقام مشاہدہ ہے اس میں سالک ذات باری تعالیٰ، ذات کے صفات و افعال و آثار کا مشاہدہ اس طرح کرتا ہے کہ یہ سب عین ذات ہیں۔
۴۔ ذکر سری: یہ ذکر معائنہ ہے اور ذاکر کی نظر اس مقام پر پہنچ جاتی ہے کہ اعتبار اور اسم صفات و افعال و آثار درمیان سے اٹھ جاتی ہے مگر اشغال بشری اس مقام پر بعض اوقات مانع ہو جاتے ہیں۔
۵۔ ذکر خفی: یہ وہ ذکر ہے کہ معائنہ ہر وقت حاصل رہے اور اشغال بشری اس نظر کے مانع نہ ہوں اور ذاکر مرتبہ احدیت کے مقام پر پہنچ کر محو اور بے خود ہو جائے۔(۹۴)
حضرت گیسو دراز بندہ نواز رحمتہ اللہ علیہ اس ذکر کے طریقے کو اپنے انداز سے بیان کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ زبان سے ذکر کرو تو وہ لقلقہ کہلاتا ہے اور دل سے ذکر کو وسوسہ کہتے ہیں، دل کے ذکر کو ذکر خفی بھی کہتے ہیں۔ اس ذکر کے دوران سالک دل ہی دل میں ذکر کر کے دل پر ضرب لگاتے ہیں اور اس کے بھی دو طریقے ہیں۔ ایک میں ظاہر کی رعایت کرتے ہیں یعنی ذکر دل ہی دل میں ہوتا ہے مگر ظاہر میں بھی جسم کو کچھ حرکت دی جاتی ہے اور دوسرے طریقے کے دوران ظاہر کی تھوڑی سی بھی رعایت نہیں رہتی۔ یعنی ظاہری جسم حرکت نہیں کرتا صرف دل ذاکر ہوتا ہے، اس ذکر میں بہت اثر ہوتا ہے۔ اس سے اگلا ذکر جس کو ذکر روحی بھی کہتے ہیں جو مشاہدہ کا نام ہے۔ ذکر کرنے کے دوران ذاکر سمجھتا ہے کہ وہ حضوری میں ہے سامنے بیٹھ کرذکر کر رہا ہے۔ اس کوذکر روحی اس وجہ سے بھی کہا جاتا ہے کہ روح اس کو دیکھتی ہے اور ذکر کے ساتھ خود بھی ذکر کرتی ہے۔
اس سے آگے ذکر سِر ہے جس کو معائنہ کا نام دیا جاتا ہے معائنہ اور مشاہدہ میں فرق یہ ہے کہ اگر کسی چیز کو صبح منہ اندھیرے دیکھا جائے اور اسی چیز کو دوپہر کے وقت دیکھا جائے جب سورج کی روشنی میں ہر چیز ظاہر ہوتی ہے۔ مشاہدہ بعض اوقات صاف نہیں ہوتا اور اس میں تھوڑا سا حجاب ہوتا ہے اور بعض اوقات واضح مشاہدہ ہوتا ہے اور بعض اوقات آفتاب کے عکس کی طرح جو پانی یا آئینہ میں ہوتا ہے اس کو مشاہدہ کہتے ہیں۔ مگر جس طرح دوپہر کو کوئی چیز صاف نظر آتی ہے اس کو معائنہ کہا جائے گا۔ اس میں کوئی حجاب نہیں ہوتا، اس کو کشف حقیقت بھی کہتے ہیںمکاشفہ کے انوار کا خزانہ صفات ربانی کی تجلی ہے۔ اور مشاہدہ کے انوار کا قیام ظہور ذات سے ہے تجلی اور ظہور میں فرق ہے۔ جب معشوق لب بام آتا ہے اور عاشق صحن خانہ یا کہیں گلی میںہوتا ہے اور نظارہ کرتا ہے اس کو مشاہدہ کہتے ہیں مگر ایک صورت یہ ہے کہ عاشق معشوق سے ہم زانو ہوتا ہے اور ایک دوسرے سے دل کی باتیں کرتے ہیں، اس کا نام معائنہ اور ظہور ذات ہے۔(۹۵)
تجلیہ و تخلیہ:
حضرت گیسو دراز بندہ نواز رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں سالک کے لئے دو کام ضروری ہیں، ایک تخلیہ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز سے دل کو خالی کرنا، دوسرا تجلیہ یعنی انوار الٰہی سے دل کو روشن کرنا۔ اصل کار تخلیہ ہے سالک اسی کو مقدم سمجھے جب تخلیہ قائم ہو جائے گا۔ پھر تجلیہ خود ثابت ہو جاتا ہے۔ کیونکہ یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں یعنی اگر تخلیہ پیدا ہوا تجلیہ خود بخود پیدا ہو جائے گا۔ جس طرح فنا کے بعد بقا ضروری ہے اور غیبت کے بعد حضوری لازم ہے۔ سالک اگر تجلیہ کو مقدم جانے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر دونوں کویکجا کرے تو یہ سب سے بہتر ہے۔ اور سلسلہ عالیہ چشتیہ کا یہی طریقہ ہے۔(۹۶)
حق تعالیٰ کے انوار کا اس کی طرف آنے والے سالکین کے دلوں پر چمکنا تجلی کہلاتا ہے۔ ابو الحسنین نوری ؒ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے خلق کے لئے اپنے خلق کے ساتھ ظاہر ہوا اور اسی طرح ان سے پوشیدہ ہوا۔ اور آپ فرماتے ہیں انوار و احوال کی تجلی سے خوبیوں کو حسن ملتا ہے اور ان کے پوشیدہ رہنے سے خوبیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ سالک کے دل پر جب اللہ تعالیٰ کے نور کا ظہور ہوتا ہے تو اس کا تاریک دل روشن ہو جاتا ہے۔ظاہر وباطن میں موجود حق سے دوسری طرف متوجہ کرنے والے عوارض سے علیحدگی اختیار کرنا تخلیہ کہلاتا ہے۔ تخلیہ میں خلوت، عزلت اور وحدت کو اختیار کرنا ضروری ہوتا ہے۔ حضرت جنید بغدادیؒ فرماتے ہیں ؛ محفوظ قلوب کا یہ حال ہوتا ہے کہ ان کی حفاظت کرنے والا ان کا رب ان کو غیر سے بات کرنے سے کنارہ کش ہونے سے منع نہیں کرتا ۔اس لئے کہ وہ ان قلوب پر رحم کرتے ہوئے انکیں صفاء اور دیگر اوصاف سے نوازے۔ یوسف بن الحسین ؒ فرماتے ہیں تخلیہ سے مراد عزلت یعنی علیحدہ ہوجاتا ہے کیونکہ بندہ اپنے نفس پر قدرت نہیں رکھتا اور کمزور ہو جاناہے تو وہ اپنے نفس سے علیحدگی اختیار کر کے اپنے رب کی طرف رجوع کر لیتا ہے۔(۹۷)
تخلیہ کا مفہوم یہ ہے کہ خلوت کو اختیار کیا جائے اور ان کی صفات سالک ان تمام چیزوں سے خلوت اختیار کر لے جو یاد حق میں خلل ڈالیں(۹۸)۔ تجلی کے دو معنی ہیں ایک یہ کہ وہ ذات بحث کسی لباس تعین میں ظہور فرمائے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ سب سے پہلا درجہ ذات خالص کا ہے۔ اس مرتبہ میں ذات ہی ذات ہے جس کو کسی طرح بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ نہ اس کے لئے کوئی لفظ ہے۔ اس مرتبہ ذات کو لا تعین اور احدیت کہتے ہیں۔ جب ذات نے چاہا کہ اپنا ظہور فرمائے تو مرتبہ احدیت سے تنزل فرمایا اور لباس تعین پہن کر حقیقت محمدیہ کہلایا اور پہلا ظہور شروع ہوا۔ ذات کے اس مرتبہ ظہور کو تعین اول، علم ذاتی، مرتبہ وحدت مرتبہ انا اور حقیقت محمدیہ کہتے ہیں۔ چونکہ یہ مرتبہ وحدت ظہور ذات کا پہلا درجہ ہے۔ اس لئے اس کو تجلی اول کہتے ہیں اور یہی تجلی ذاتی ہے۔ پھر ذات نے اس مرتبہ وحدت سے تنزل فرمایا اور اپنے اجمال کی تفصیل فرمائی۔ ذات کے اس مرتبہ کو تفصیل صفات، نفس رحمانی، مرتبہ ثبوت، اعیان ثانیہ واحدیت حقیقت کہتے ہیں۔ اور ظہور ذات کا یہ چونکہ دوسرا مرتبہ ہے۔ اس لئے اس کو یقین ثانی اور تجلی ثانی کہتے ہیں اس کا ایک اور نام تجلی صفاتی بھی ہیں۔ پھر اس مرتبہ واحدیت سے عالم ارواح ظاہر ہوا وہ تجلی ثالث ہے اور عالم ارواح سے عالم مثال ظاہر ہو وہ تجلی رابع ہے اور عالم مثال سے عالم اجسام ظاہر ہو یہ تجلی خامس ہے۔(۹۹)
بعض صوفیاء کرام ؒ فرماتے ہیں چونکہ ذات بحث یعنی احدیث بلا اعتبار کسی لباس تعین کے خود اپنے آپ میں متجلی ہے اور اپنے وجود میں کسی اجمال و تفصیل کی محتاج نہیں ہے۔ اسی لئے تجلی اول یہی ہے جو تجلی ذاتی ہے۔ یہی غیب الغیوب ہے۔ جملہ کائنات کی حقیقتیں اس میں اس طرح موجود ہیں جس طرح بیج میں درخت کے پتے اور شاخیں اور پھل پھول ہوتے ہیں اور تجلی ثانی مرتبہ واحدیت ہے۔ تفصیل صفات اسی سے شروع ہوتی ہیں ۔ اسی لئے اس کو تجلی صفاتی کہتے ہیں۔ اب رہا احدیت اور واحدیت کا درمیانی مرتبہ یعنی درجہ وحدت چونکہ اس درجہ میں تعمیل صفات نہیں ہوتی ہیں اس کو مرتبہ ذات احدیت کا عین مانا ہے اور تجلی ذاتی کو تجلی اول ہی میں شمار کیا ہے۔ تجلی کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ انوار غیبی دل پر روشن ہوں اس تجلی کی بھی چند قسمیں ہیں چونکہ جو انوار تجلی غیب سے دلوں پر وارد ہوتے ہیں ان کے مختلف رنگ ہوتے ہیں۔ جو نور تجلی سبز رنگ یا سرخ رنگ داہنی طرف سے دل پروارد ہو۔ اپنے شیخ کا نور ہے اور جو نور سیاہ و نیلا بائیں جانب سے ظاہر ہو وہ تجلی نفس ہے۔ زرد رنگ کا نور اگر روبرو ہو تو تجلی قلبی ہے اور اگر پشت پر ہو تو یہ شیطانی ہے اور سفید نور اگر سامنے ظاہر ہو تو وہ روحی ہے۔ سفید قدرے مائل یہ سنہری اور اس میں کسی قدر خنکی پائی جائے اور اس کے دیکھنے سے دل میںسرور اور لذت حاصل ہو۔ اس کو نور محمدی ﷺ جانے۔ اور جو تجلی بے رنگ و بے جہت وارد ہو وہ تجلی ذات اور بعض مرتبہ تجلی نور محمدی ﷺ بھی بلا جہت ہوتی ہے۔
عالم شہادت یعنی عالم اجسام میں جب وہ ذات پاک سراپا نور مختلف شانوں میں اپنے مختلف ناموں کے موافق ظاہر ہوں تو اس کو تجلی شہودی کہتے ہیں۔(۱۰۰)
حضرت گیسو دراز بندہ نوازؒ سلوک کی بنیاد ہی تخلیہ و تجلیہ پر قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں تخلیہ سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے اور نفس کو طرح طرح کی عبادتوں میں مشغول رکھنے سے جلائے باطن حاصل ہوتی ہے جس کو تخلیہ و تجلیہ حاصل ہو گیا اس نے دونوں جہانوں کی نعمتیں حاصل کر لیں۔ تخلیہ سے مراد اللہ تعالیٰ کے سوا تمام اشیائے دنیا سے اعراض کرنا ہے۔ تمام عزت و جاء، جاہ و جلال، غرور کمال، مال و متاع ان تمام چیزوں سے نفرت کرنا اور بچنا، تخلیہ ایک کلی کلمہ ہے۔ جس میں تہذیب اخلاق، اعتدال غضب و غصہ، شہوت و اکل و شرب تمام چیزیں شامل ہیں شہوت کے لئے سنت کے مطابق نکاح کرے۔ کھانے پینے میں بھی مقصد عبادت ہو۔ اگر تخلیہ و تجلیہ حاصل ہو گیا تو دونون جہانوں کی نیک بختی حاصل ہو گی۔ نفس کو شریعت کی منع کردہ اشیاء سے باز رکھنا اور اللہ تعالیٰ کی یاد میں ہر وقت مصروف رکھنا یہی تزکیہ نفس اور توجہ کا نام ہے۔ جس شخص میں ان دو صفتوں میں کوئی صفت نہیں اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔(۱۰۱)
سماع:
سلسلہ عالیہ چشتیہ کے مشائخ سماع کو پسند کرتے ہیں اور سماع میں رغبت رکھتے ہیں باقی سلاسل میں بھی سماع کو حرام نہیں قرار دیا گیا مگر بعض مشائخ نے اس کو نہیں سنا۔
حضرت داتا گنج بخش ؒفرماتے ہیں کہ اصول سماع مختلف طبائع کے لئے ایک نہیں ہو سکتے، ہر انسان کی طبیعت مختلف ہوتی ہے اور ہر شخص کے لئے سماع ایک ہی اصول کے تابع فرمان نہیں ہو سکتے۔ سماع پسند کرنے والوں کی دو اقسام ہیں، ایک وہ لوگ ہیں جو معانی کی طرف توجہ کرتے ہیں اور ایک وہ لوگ ہیں جو صرف آواز ہی سنتے ہیں۔ دونوں کے اچھے اور برے پہلو ہیں، اچھی آواز کسی بھی شخص کی طبیعت میں خروش پیدا کرتی ہے۔ اگر طبیعت حق آشنا ہے تو خروش بھی حق ہو گا۔ اس کی مثال حضرت دائودؑ کی حکایت ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرما کر خوش الحانی عطا فرمائی اور گلے کو ساز بنا دیا۔ پہاڑ جھومتے تھے، جنگلی جانور اور پرندے اور کوہ و بیابان آپ کے کلام سے محسور ہو جاتے تھے۔ اڑتے پرندے گر پڑتے تھے، جس جنگل میں کلام کرتے وہاں جانور کھانا پینا چھوڑ دیتے تھے ۔ تو ابلیس نے بانسری اور طنبور کو شکل دی اور دائو دؑ کے مقابل مجلس آراستہ کر لی اور اہل سماع دو جماعتوں میں تقسیم ہو گئے۔ اہل حق حضرت دائودؑکے ساتھ تھے اوراہل شقاوت شیطان کے پیچھے تھے۔ اہل معنی کے سامنے حضرت دائود ؑ کا الحان تھا اور نہ دوسری جماعت کے مزامیر۔ وہ رویہ حق تھے الحان داودی ان کے لئے سر چشمہ ہدایت تھا اور مزامیر ابلیسی فتنہ اور شرکا مرکز تھا۔ جس کسی کو سماع اس منہاج پر میسر آئے مباح ہے۔(۱۰۲)
حضرت ذوالنون مصری ؒ فرماتے ہیں سماع فیضان حق ہے جو دلوں کو رویہ حق کرتا ہے جس نے حقیقت کو مد نظر رکھا وہ حق کی طرف گامزن ہوا جس کے سامنے ہوائے نفس رہی وہ بھٹک گیا۔ (۱۰۳)حضرت گیسو دراز بندہ نوازؒ فرماتے ہیں سماع تو وصول الی اللہ کے ذریعوں میں سے ایک ذریعہ ہے۔ جس طرح نماز روزہ اور تلاوت سے خدا تعالیٰ تک رسائی ہوتی ہے سماع سے بھی ہوتی ہے بلکہ سماع سے دلجمعی اور توجہ جو تمام عبادات کا سرمایا ہے۔ زیارہ حاصل ہوتی ہے اسی وجہ سے شیخؒ ابو علی دقاق ؒ نے فرمایا، سماع قرب الی اللہ کے لئے تمام راستوں سے قریب ترین راستہ ہے(۱۰۴)۔ حضرت گیسو دراز بندہ نوازؒ فرماتے ہیں اگر سماع کے وقت صوفیاکی مٹھی میں سرسوں ہو اور صوفی سماع سن رہا ہو اور اگر اس میں سے ایک دانہ بھی گر جائے اور اس کو علم نہ ہو سکے تو وہ صاحب حال، صاحب وقت اور صاحب ذوق نہیں ہے۔(۱۰۵)
امام قشیری ؒ سماع کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے؛
{الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُونَ أَحْسَنَہُ} (۱۰۶)
ترجمہ: میرے ان بندوں کو خوشخبری دے دو جو بات سنتے ہیں تو اچھی بات کی پیروی کرتے ہیں۔
اس آیت میں القول پر داخل لام یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس کے معنی میں عموم اور استغراق ہو اور اس پر دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان قولوں میں سے اچھے قول کی اتباع کا حکم دیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں صاف ستھرے لب و لہجے اور لذیز ساز کے ساتھ سماع کرنا جائز ہے۔ اور یہ بھی شرط ہے کہ سننے والا ممنوع شے نہ سنے۔ شریعت کی طرف غلط قرار دی جانے والی چیز کو نہ سنے۔ نفسانی خواہشات کی پیروی نہ کرے اور فضول باتوں کو نہ سنے کیونکہ رسول اکرم ﷺ کے سامنے جب اشعار پڑھے گئے تو آپ نے کوئی اعتراض نہیں فرمایا۔ اس کے علاوہ آپ نے فرمایا کہ جو چیزیں عبادت کا شوق دلائیں، گناہوں سے روکیں، دلوں پر پاکیزہ اثر چھوڑیں، دین میں اچھی شمار ہوں اورشریعت اس کو منع نہ کرے۔ تمام بزرگان دین نے اشعار کو منع نہیں فرمایا۔ امام مالک بن انسؒ نے بھی ان کو جائز قرار دیا ہے۔(۱۰۷)
حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ؒ فرماتے ہیں کہ مجھے سماع سے ایسا ذوق ہے کہ اس کے علاوہ کسی چیز میں لطف نہیں اور فرمایا کہ مصاحب طریقت اور مشتاق حقیقت لوگوں کو سماع سے اس قدر ذوق پیدا ہوتا ہے جیسا کہ بدن میں آگ لگ اٹھتی ہے۔ اگرنہ ہوتا تو لقا کہاں ہوتا اور لقا یعنی دیدار اور ملاقات کا لطف ہی کیا ہوتا۔ (۱۰۸)
حضرت خواجہ فرید الدین مسعود گنج شکرؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت تین اوقات میں نازل ہوتی ہے۔ ایک سماع کے وقت جب اہل سماع سماع سن رہے ہوتے ہیں۔ دوسرے اولیاء کرامؒ کے تذکرے کے وقت اور تیسرے جب کہ عاشق انوار تجلی کے عالم میں مستغرق ہوتے ہیں۔ حضرت امیر حسن علی سنجری ؒ فرماتے ہیں کہ عاشق انوار تجلی کے عالم میں مستغرق ہوتے ہیں۔ (۱۰۹)
حضرت امیر حسن علی سنجریؒ فرماتے ہیں میں نے خواجہ نظام الدین اولیاءؒ سے فرمایا کہ میں اپنے کام میں حیران ہوں اس وجہ سے کہ جو طاعت اور عبادت اولیاء کرام میں ہوتی ہے مجھ میں نہیں ہے مگر جب میں سماع سنتا ہوں تو تھوڑی دیر کے لئے راحت پاتا ہوں اس وقت دنیاومافیھا سے دل خالی ہوتا ہے تو آپ نے فرمایا سماع کی دو قسمیں ہیں، ایک ہاجم دوسرے غیر ہاجم، ہاجم اس کو کہتے ہیں جب سماع کے وقت کوئی آواز یا شعر سنا جائے اس سے بدن کو جنبش ہو، اس قسم کی تشریح نہیں ہو سکتی۔غیر ہاجم وہ ہے کہ جب سماع کا اثر ہو جائے تو اسے برداشت کرے خواہ حضرت حق پر یا اپنے پیر پر یا کسی اور چیز پر جس کا خیال دل میں گزرے(۱۱۰)۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ فرماتے ہیں مشائخ عظام نے سماع سنا ہے اور جو صاحب ذوق و درد ہیں انہیں قوال کا ایک ہی شعر سن کر رقت طاری ہو جاتی ہے ۔ خواہ وہ بانسری ہو یا نہ ہو لیکن جن کوذوق کی خبر نہیں ان کے روبرو خواہ کتنا گایا بجایا جائے انہیں کچھ فائدہ نہیں ہو گا۔ پس معلوم ہوا کہ یہ کام درد کے متعلق ہے نہ کہ بانسری وغیرہ کے۔(۱۱۱)
حضرت شیخ نظام الدین اولیاءؒ فرماتے ہیں سماع کی چار قسمیں ہیں؛
۱۔ اگر صاحب وجد کا دل زیادہ تر حق سبحانہ کی طرف ہے تو اس کے لئے سماع مباح ہے۔
۲۔ اگر دل مجاز کی طرف ہے تو سماع مکروہ ہے۔
۳۔ اگر بالکل حق تعالیٰ کی طرف ہے تو اس کے لئے سماع حلال ہے۔
۴۔ اگر بالکل مجاز کی طرف ہے تو اس کے لئے سماع حرام ہے۔(۱۱۲)
شیخ ابو نصر سراجؒ فرماتے ہیں کہ ابو عثمان سعید بن عثمان رازیؒ نے فرمایا ہے کہ پہلی قسم کا سماع مریدین اور مبتدیوں کیلئے ہے جس کے ذریعے وہ اعلیٰ احوال تک رسائی کی کوشش کرتے ہیں اور اس میں ان سے یہ خدشہ بھی رہتا ہے کہ کہیں وہ ریاکاری و فتنے کا شکار نہ ہو جائیں۔ دوسری قسم کا سماع صدیقین کے لئے ہے جس کے ذریعے وہ اپنے احوال میں اضافہ کرتے ہیں اور وہی کچھ سنتے ہیں جو ان کے معاملات و مقامات اور احوال کے موافق ہو۔ تیسری قسم کا سماع عارفین میں سے اہل استقامت کا ہے ان لوگوں کا حال بوقت سماع یہ ہوتاہے کہ ان پر کسی طرح کی حرکت یا سکون کی کیفیت طاری ہو وہی اس میں کوئی بات ایسی نہیں کرتے جس سے اللہ پر اعتراض یا اس کی نافرمانی کا عنصر شامل ہو۔ ابو یعقوب اسحق بن محمد ایوبؒ فرماتے ہیں اہل سماع کے تین طبقے ہیں، پہلے طبقے والے اپنی حرکت یا سکون کی حالت میں اپنے وقت کے مطابق رہتے ہیں، دوسرے طبقے والے خاموش رہتے ہیں اور تیسرے طبقے والے اپنے ذوق میں مخبوط ہو جاتے ہیں۔(۱۱۳)
مشائخ عظائم کے لئے تین شرائط ہیں، پہلی شرط مکان جہاں مجلس سماع منعقد ہو رہی ہو، ایسا ہونا چاہیے کہ وہ عام لوگ اور نا اہل لوگ کی گزر گاہ نہ ہو مکان پر سکون ہو جہاں غیر شرعی امور کا دخل نہ ہو، دوسری شرط زمان ہے۔ سماع سننے والے ایسا وقت مقرر کریں جس مین کوئی شرعی ممانعت نہ ہو ۔ مثلاََ نماز کا وقت نہ ہو۔ سلسلہ عالیہ چشتیہ کے بہت سے بزرگ ایسے گزرے ہیں کہ جب نماز کا وقت ہو جاتا تو سماع کی محفل سے اٹھ جاتے۔ سماع کے لئے ایسا وقت ہو جب ہر طرف سے سکون اور فراغت میسر ہو اور کسی قسم کی مداخلت کا امکان نہ ہو۔ تیسری شرط اخوان ہے مجلس سماع میں ایسے لوگ بلائے جائیں جو اہل ذوق ہوں۔ محرم راز ہوں اور اہل حق ہوں۔ فاسق وفاجر اور منکر سماع نہ ہوں کلام مجاز کوحقیقت پر محمول کرنے والے ہوں۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت دل میں رکھتے ہوں۔(۱۱۴)
سماع سننے کے لئے بہت سے آداب مد نظر رکھے جاتے ہیں جن میں چند ایک درج ذیل ہیں۔
۱۔ مجلس سماع میں وضو کے ساتھ رہنا چاہیے ۔
۲۔ غیر شرعی امور مثلاََ شراب نوشی، مرد اور عورتوں کا ایک ساتھ بیٹھنا، ان سے پرہیز کرنا چاہیے ، شریعت کے خلاف اور بے ہودہ کلام نہ سنایا جائے، ننگے سر نہ بیٹھیں، پائوں پھیلا کر نہ بیٹھیں، توجہ الی اللہ بہت ضروری ہے، دوران سماع سگریٹ، چائے، پان وغیرہ نہ پئیں۔
۳۔ مجلس میں چھوٹے بچے نہ ہوں۔
۴۔ مجلس میں کسی کلام کی فرمائش نہ کی جائے۔
۵۔ سماع کے دوران اگر کسی پر وجد طاری ہو جائے تو اس کے ساتھ تمام لوگوں کو کھڑا ہو جانا چاہیے ۔
۶۔ مجلس میں مغلوب الحال ہونے کی بجائے غالب الحال رہا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔ ضبط سے فیضان میں اضافہ ہوتا ہے۔(۱۱۵)

لطائف چشتیہ اور ان کے مقامات:
لطائف کا مفہوم اور ان کے مقامات:
انسان جسم اور روح کا مرکب ہے۔ روح کا تعلق عالم قدس سے ہے جبکہ جسم کا تعلق عالم ناسوت سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روح اوپر کی جانب کشش کرتی ہے اور جسم کی کشش نیچے کی طرف ہے۔ تمام عبادات و مجاہدات کا مقصد نفس کی خواہشات کو کم کرنا اور روح کو اس کی اصلی خوراک یعنی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے قوی کر کے اس کے اندر پرواز کی طاقت پیدا کرنا ہے۔(۱۱۶)
بنیادی طور پر چار عالم ہیں، عالم ناسوت،عالم ملکوت، عالم جبروت، اور عالم لاہوت، عالم ناسوت حیوانات کا عالم ہے جس کا تعلق حواس خمسہ سے ہے جس میں کھانا پینا، سونگھنا، دیکھنا اور سننا شامل ہے۔ جب سالک ریاضت و مجاہدہ اختیار کرتا ہے تو اس عالم سے گزر کر عالم ملکوت میں پہنچتا ہے جو کہ ملائکہ کا عالم ہے۔ اس میں سالک تسبیح و تہلیل، قیام رکوع اور سجود میں رہتا ہے جب سالک میں یہ صفات پیدا ہو جائیں تو سالک عالم جبروت میں چلا جاتا ہے جو کہ عالم ا رواح ہے۔ اس عالم میں سالک صفات حمیدہ مثلاََ شوق، ذوق، محبت ، اشتیاق، طلب، وجد، سکر، صحو اور محو سے گزرتا ہوا چوتھے عالم یعنی عالم لاہوت میں پہنچتا ہے جو بے نشان اور لامکان کا عالم ہے۔ اور تمام سلوک کا مقصود ہے۔ اس مقام پر پہنچنے کے لئے انسان کی روح کا اسی طرح پاک ہونا ضروری ہے جس طرح وہ دنیا میں آئی تھی۔(۱۱۷)
عالم ناسوت نفس کی صفت، عالم ملکوت دل کی صفت، عالم جیروت روح کی صفت اور عالم لاہوت، رحمان کی صفت کا نام ہے۔ نفس اس جہان کی طرف مائل ہوتا ہئے جو شیطان کا مقام ہے اور دل جنت کی طرف مائل ہوتا ہے۔ روح رحمان اور پوشیدہ اسرار کی طرف مائل ہوتی ہے۔ جو نفس کی پیروی کرتا ہے۔ اس کو دوزخ میں جانا پڑتا ہے۔ جو دل کی مانتا ہے اس کو جنت نصیب ہوتی ہے اور جو روح کی متابعت کرتا ہے اس کو قرب الٰہی نصیب ہوتا ہے جو کہ نہایت ہی اعلیٰ مقام ہے۔(۱۱۸)
لطیفہ روحانی مرکز کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم کے اندر رکھا ہے۔ انسانی جسم کے اندر چھ لطائف یا روحانی مرکز ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کے ذکر کی ضربیں لگائی جاتی ہیں تاکہ وہ زندہ ہو جائیں، زندہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ ان لطائف میں اللہ تعالیٰ کا ذکر جاری ہو جائے اور اس کے بعد انسان کے اندر کا پورا گھر روشن ہو جائے۔ لطائف کے مقامات مختلف سلاسل میں مختلف بیان کئے جاتے ہین مگر سلسلہ چشتیہ میں پہلا لطیفہ نفس ہے جس کا مقام زیر ناف ہے، دوسرا لطیفہ جس کو قلب کہتے ہیں اس کا مقام بائیں پہلو میں پستان سے دو انگشت نیچے کی طرف سے ہے تیسرا لطیفہ روح ہے جس کا مقام دائیں پستان سے دوانگشت نیچے کی طرف ہے، چوتھا لطیفہ سر ہے جس کا مقام روح اور قلب کے درمیان ہے، پانچواں لطیفہ خفی ہے، پیشانی کے درمیان میں ہے چھٹا لطیفہ اخفیٰ ہے جو سر کی چوٹی میں ہے۔ یہ لطائف روح کے مختلف پہلو یا اس کی صفات ہیں چنانچہ سلوک کی مختلف منازل ہیں، ان لطائف پر اللہ تعالیٰ کے اذکار مثلاََ نفی اثبات یا پاس انفاس کی ضربیں لگائی جاتی ہین جن سے یہ لطائف زندہ اور روشن ہو جاتے ہیں اور انسان کی روح کو منور کر دیتے ہیں جب انسان کی روح روشن اور اس میں لطافت پیدا ہو جاتی ہے تو روح ذات باری تعالیٰ میں فنا ہو جاتی ہے اور اللہ ہی اللہ باقی رہ جاتا ہے۔(۱۱۹)
لیکن ذات باری تعالیٰ میں فنا ہو کر سالک ہمیشہ کے لئے وہاں نہیں رہ جاتا اگر ہمیشہ کے لئے وہاں رہ جائے تو یہ رہبانیت ہے جس کو ہندومت، بدھ مت اور عیسائیت میں کمال سمجھا جاتا ہے مگر اسلام نے رہبانیت کی نفی کی ہے کیونکہ حالت استغراق میں رہتے ہوئے انسان ہمیشہ کے لئے کھو جاتا ہے اور کوئی دوسرا کام نہیں کرتا۔ مگر اسلام میں فنا آخری مقام نہیں ہے، بلکہ فنا کی محویت میں حق تعالیٰ کی صفات سے متصف ہو کر انسان کے پہلے مقام پر آنے کو کمال کہتے ہیں۔ جب انسان واپس اسی مقام پر واپس آتا ہے تو امامت اور خلاقت الٰہیہ کے منصب پر فائز ہو کر زندگی کے کام سر انجام دیتا ہے۔ مخلوق کی ہدایت میں مشغول ہوجاتا ہے۔ اسی مقام کانام عبدیت ہے۔(۱۲۰)
مقام فنا پر سالک پر اس قدر محویت طاری ہوتی ہے اور ایسی لذت نصیب ہوتی ہے کہ دنیا کی کوئی لذت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی تمام لذات کا احساس صرف لطیفہ نفس اور لطیفہ قلب میں ہوتا ہے جو سب سے نیچے اور کم درجہ لطائف ہیں مگر قرب اور وصل کے مقام پر پہنچ کر جو لذت حاصل ہوتی ہے اس کو لطائف روح، سر، حفی اور اخفیٰ میں ہی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ یہ لطائف قلب اورنفس کے لطائف سے بہت ہی طاقتور اور اعلیٰ ہیں یہی وجہ ہے کہ ایک عظیم بزرگ فرماتے ہیں کہ قرب حق میں پہنچ کر ہمیں اس قدر لذت محسوس ہوتی ہے کہ اگر بادشاہوں کو اس کا علم ہو جائے تو وہ تلواریں لے کر ہمارے سر پر آ جائیں ۔ اس مقام پر حسن و جمال کی جلوہ گری میں محبوب حقیقی کا قرب اور وصال حاصل ہوتا ہے۔ اور کشف و کرامات کی دولت بھی نصیب ہوتی ہے۔ قرب الٰہی کے مقام پر پہنچ کر آدمی زمان و مکان کی قید سے بھی آزاد ہو جاتا ہے اور جہاں چاہتا ہے فوراََ پہنچ جاتا ہے اور انسان موت کو تسخیر کر لیتا ہے۔ جو عام انسانوں کے لئے بہت بڑا حادثہ ہے اور سالک زندہ و جاوید ہو جاتا ہئے۔ اس کی موت صرف ظاہری پردہ ہوتا ہے مگر حقیقت میں وہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہوتا ہے۔(۱۲۱)
سلوک کی منازل طے کرتے ہوئے ان لطائف پر مختلف قسم کے اذکار کئے جاتے ہیں اور ہر لطیفہ پر سالک ایک منزل طے کرتا ہے۔ واصل اس سالک کو کہتے ہیں جس کا لطیفہ خفی طاقتور بن گیا ہو۔ جو لطیفہ روحی پر پہنچ جائے اس کو طائر کہتے ہیں جو سالک لطیفہ سر پر پہنچ جائے اور اس کا یہ لطیفہ قوی ہو جائے اس کو مرید کہتے ہیں، اور طالب وہ ہوتا ہے جس کا لطیفہ قلب مضبوط مرکز بن چکا ہو۔ یعنی ہر عالم غیب میں دس ہزار حجابات ہیں جن کو عبور کر کے ایک لطیفہ سے دوسرے لطیفہ کا سفر طے ہوتا ہے لطیفہ قلب سے لطیفہ ا خفیٰ تک ستر ہزار پردے ہیں ۔(۱۲۲)
ان لطائف پر جواذکار کئے جاتے ہیں اور جن اذکار سے یہ لطائف روشن ہوتے ہیں، اس سارے عمل کے لئے کسی مرشد کامل کی ضرورت ہوتی ہے جو مرید کے لطائف کا مقام جانتے ہوئے اس کی راہنمائی کرے اور اس کے لطائف میں ذکر الٰہی کو جاری کردے۔
لطائف چشتیہ پر اذکار کا طریقہ:
ذکرکی اقسام:
صوفیاء کی اصطلاح میں ذکر اس کو کہتے ہیں کہ انسان اپنے خدا کی یاد میں تمام غیر خدا کو بھول جائے اور حضور قلب سے خدا کی قربت اور معیت حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ذکر سے مقصود صرف مطلوب کا حاصل ہونا ہے خواہ وہ نماز ہو روزہ ہو درود شریف ہو یا دعا ئیں ہوں لیکن یہ مقصد اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک ذاکر اپنے آپ کو مٹا نہ دے۔(۱۲۳)
پہلا ذکرناسوتی ہے جس کو لا الہ الاللہ کہتے ہیں دوسرا ذکر ملکونی ہے جس کو الاللہ کہتے ہیں تیسرا ذکر جبروتی ہے جس کو اللہ کہتے ہیں اور چوتھا ذکر لاہوتی ہے جسے ہو ہو کہتے ہیں۔ سالک کو معلوم ہونا چاہیے کہ زبان کے ذکر کو ناسوتی دل کے ذکر کو ملکوتی روح کے ذکر کو جبروتی سر کے ذکر کو لا ہوتی کہتے ہیں دوسرے الفاظ میں زبان کے ذکر کو جسمی ،دل کے ذکر کو ملکوتی روح کے ذکر کو جبروتی سر کے ذکر کو لاہوتی کہتے ہیں ۔ زبان کے ذکر کو لاہوتی کہتے ہیں ۔ دل کے ذکر کو مراقبہ روح کے ذکر کو مشاہدہ اور سر کے ذکر کو معائنہ کہتے ہیں جب ذاکراس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو وہ زہد، توکل،گوشہ نشینی، قناعت، صبر، تسلیم و رضا کے مقام پر ہوتا ہے اور اس پر نور الٰہیہ کی اس قدر تجلیاں ہوتی ہیں کہ اس کے خواس خمسہ مغلوب ہو جاتے ہیں۔(۱۲۴)
ذکر کی ابتداء:
سلسلہ چشتیہ میں پیرجب ذکر کی ابتدائکرواتا ہے تو اس سے پہلے مشائخ چشت کی ارواح کے فاتحہ اور ادائے ختم کے بعد متواتر تین روزوں کا حکم دیا جاتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ ان ایام میں کلمہ طیبہ استغفار اور درود شریف کی کثرت کرو اور تیسرے دن نماز فجر یا نماز عصر کے بعد میرے پاس آئو اور جب سالک آجائے تو اس کو خلوت میں لے جائے جس میں اس کے مرید کے علاوہ کوئی دوسرا نہ ہو اور اس کو دو زانو بٹھا دے اور اس کی طرف توجہ کرے تاکہ اس کا ذہن اذکار و اشغال کو آسانی سے قبول کر سکے۔مرشد کے لئے تمام خیالات سے خالی ہونا ضروری ہے اور اپنے دل کو سالک کے دل کے مقابل کرے۔(۱۲۵)
حضرت شاہ ولی اللہ ؒ فرماتے ہیں کہ دل کے اوپر کا دروازہ ذکر جلی سے کھلتا ہے اور نیچے والا دروازہ ذکر حفی سے کھلتا ہے اور جب ذکر جلی کا ارادہ کرے تو چار زانو بیٹھ کر رگ کیماس کو پکڑے اور اپنے پائوں کے انگوٹھے اور بیچ کی انگلی کو دبائے آپ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے مرشد سے سنا ہے کہ کیماس وہ رگ ہے جو زانو کے نیچے ران کی جانب سے اتری ہے (۱۲۶)۔ اور اس کا اس طریقے سے پکڑنا برے وسواس کو ختم کرتا ہے، ہمت کو بڑھاتا ہے اور دل کو عجیب گرمی سے گرما دیتا ہے۔ حضرت خواجہ فرید الدین مسعود گنج شکرؒ فرماتے ہیں کہ مرید کو ذکر سے پہلے وہ خرقہ جو اس کو اس کے پیر کی طرف سے عطاء ہوا ہے وہ پہنے اور پھر ذکر کی ابتداء کرے اور پیر کو چاہیے کہ پہلے مرید کے سر پر ہاتھ رکھے پھر ذکر کی تلقین کرے۔(۱۲۷)
ذکر جلی سے ابتداء:
حضرت خواجہ نصیر الدین محمود چراغؒ فرماتے ہیں کہ بعض درویش ایسے ہوتے ہیں جن کی زبان سالک ہوتی ہے اور دل یاد الٰہی میں مشغول ہوتا ہے۔ چنانچہ خود کانوں سن لیتا ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ میں نے سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الحقؒ کی زبان مبارک سے سنا ہے کہ ذکرکی دو قسمیں ہیں، ذکر جلی اور ذکر خفی مگر سالک کو ذکر جلی سے ذکر کی ابتداء کرنی چاہیے اور بعد میں ذکر خفی کی طرف آنا چاہیے۔ ذکر جلی کا تعلق زبان سے ہے، زبان سے ذکر جلی کی کثرت کرنی چاہیے تاکہ اس کی کثرت سے خفی حاصل ہو جائے۔ مشائخ چشت ذکر کی ابتدائذکر جلی سے کرتے ہیں۔(۱۲۸)
سب سے پہلا ذکر نفی اثبات:
سلوک چشتیہ میں ذکر کی ابتداء لا سے کی جاتی ہے۔ حضرت گیسو دراز بندہ نوازؒ فرماتے ہیںدہانہ قلب یعنی دل کا وہ حصہ جو داہنی جانب جھکا ہوا ہے اس کے سرے سے لاالہ کہتے ہوئے باہر کی طرف لاتے ہوئے یہ تصور کرے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ ہرکسی کو دل سے باہر نکال رہا ہوں، داہنے شانے سے بطور دائرہ لے جا کر سر کو بائیں جانب گھما کر اونچا کر کے الاللہ کہتے ہوئے دل کے اوپر والے حصہ پر ضرب لگاتے ہوئے یہ تصور کرے کہ اللہ تعالیٰ کے انوار میں سے ایک نور کو اس دل میں لا رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ جو کچھ دل میں ہے اس کو دل سے نکال رہا ہوں۔ لا الہ کہہ کر دل کے مقام سے داہنے کندھے تک بطور دائرہ کے جب سر کو گھمائے تو تصور کرے کہ دنیا کو دل سے نکال دیا اور جب داہنے کندھے سے سر تک پہنچے تو تصور کرے کہ عقبیٰ کو بھی دل سے نکال دیا ہے اور داہنے کندھے سے جب دل پر ضرب لگائے تو تصور کرے کہ اللہ تعالیٰ کو دل میں بٹھا رہا ہے یعنی جگہ دے رہا ہے۔ کم از کم دس مرتبہ اور زیادہ سو سے ہزار مرتبہ تک کرے ، ہر دس مرتبہ کہنے کے بعد گیارہویں مرتبہ محمد رسول اللہ کہے۔(۱۲۹)
حضرت شاہ ولی اللہؒ فرماتے ہیں جب چار زانو قبلہ کی طرف منہ کر کے رگ کیماس کو پکڑ کر بیٹھ جائے تو حضور دل سے تمام ہمت جمع کرکے لا الہ الا اللہ کا ذکر سختی اور کشیدگی کے ساتھ کرے اور قوت کو دل کے اندر سے نکال کر اور لفظ لا کا ناف سے نکال کر کھینچتے ہوئے داہنے کندھے تک اور الٰہ کا دماغ کی جھلی سے اشارہ کرے تو دل میں تصور کرے کہ غیر خدا کی محبت کو اپنے اندر سے نکال رہا ہے اور پھر دوسرا سانس لیتے ہوئے الا للہ کو دل پر سختی اور طاقت سے ضرب لگائے۔(۱۳۰)
حضرت خواجہ نصیر الدین محمود چراغ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ذکر جلی کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے تین مرتبہ لا الہ الا اللہ کہے اور چوتھی مرتبہ محمد رسول اللہ کہے پھر پانچ مرتبہ لا الہ الا اللہ کہے اور چھٹی مرتبہ محمد رسول اللہ کہے اور پھر فرمایا ذکر کے دوران دونوں ہاتھ زانوئوں پر رکھے اور سر کو بائیں طرف حرکت دے اور دل میںتصور کرے کہ جو چیز بھی اللہ کے علاوہ ہے اس کو دور کر دیا ہے،۔ پھر بائیں طرف کو جنبش دے اور لا الہ کہے اور الا اللہ کہتے وقت تصور کرے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں پھر ذکر میں مشغول ہو جائے اور اس قدر ذکر کرے کہ اپنے کانوں سے سن لے اور ذکر خفی کا یہ طریقہ ہے جو حضرت فرید الحق ؒ فرماتے ہیں کہ دم بند کر کے ذکر کرے جب تنگ ہو جائے تو آہستہ سے ناک کے ذریعے سانس لے اور منہ پھر بھی نہ کھولے، ایسے اشغال سے دل صاف ہو جاتا ہے دم کی رکاوٹ آگ کی تنگی سے بھی زیادہ ہے جس سے دل کے اردگرد کی غلاظتیں جل کر خاک ہو جاتی ہیں، اور دل کی صفائی ہو جاتی ہے۔(۱۳۱)
حضرت خواجہ فرید الدین مسعود گنج شکر ؒ فرماتے ہیں پہلا ذکر لا الہ الا اللہ کرے دوسرا سبحان اللہ ولحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر کرے اور تیسرا ذکر یا حیّ یا قیوم کرے، پہلا ذکر کرتے ہوئے تو نو بار لا الہ الا اللہ کہے اور دسویں مرتبہ محمد رسول اللہ کہے۔ اکیس مرتبہ سبحان اللہ اور تیس مرتبہ یا حیّ یا قیوم کہے۔ یہ اذکار بلند آواز سے کرے تاکہ پاس بیٹھے ہوئے اس سے لذت اٹھائیں اور ان کا ایمان تازہ ہو۔(۱۳۲)
اس کے بعد سر کو اس قدر جھکائے کہ پیشانی بائیں گھٹنے سے بالکل قریب ہو جائے اور وہاںپہنچ کرلا الہ کہتا ہوا سر کو داہنے گھٹنے کے قریب لائے اور تین ضربیں ایک ہی سانس میں لگائے سر کو پیٹھ کی طرف یہ تصور کرتے ہوئے جھکائے کہ میں کہ اللہ کے سوا ہر چیز کو پس پشت ڈال دیا ہے اور سانس کو توڑ کر الا اللہ کی ضرب پوری طاقت سے دل پر لگائے اور خیال کرے کہ اس کا دل خدا کی محبت سے لبریز ہے اور موقع نفی میں آنکھیں کھلی اور موقع اثبات میں آنکھیں بند رکھے، اسی طرح دو سو بار کرے اور اس کو چہار ضربی کہتے ہیں۔ اور ہر دس مرتبہ کے بعد محمد رسول اللہ کہے(۱۳۳)۔ حضرت گیسو دراز بندہ نواز ؒ فرماتے ہیں کہ دل کے دہانے سے لا الہ کہتے ہوئے داہنے شانے تک گردن کو گھما کر لاتے ہوے گردن کو جھٹکا دے کر آواز کے ساتھ بلند آواز سے الا اللہ کی ضرب دل پر لگائے تاکہ وہ نور ذکر دل میں جم جائے۔ لا الہ کہتے ہوئے آنکھیں بندنہ کرے بلکہ آنکھیں کھلی رکھے تاکہ تصور کرے کہ جو کچھ نظر آرہا ہے کچھ بھی نہیں اور الا اللہ کہتے ہوئے آنکھیں بند کرے ۔ حضرت امام غزالیؒ کے فرمان کے مطابق روح ِحیوان کے تعلق کے قطع ہونے کا نام موت ہے۔ ذکر کے دوران جو ربط و ضرب سے واسطہ پڑتا ہے وہ اسی مقام پر واقعہ ہے اور الا اللہ جب اثر کرتا ہے تو دل میں چربی کا گاڑھا پن جل جاتا ہے اور یہ چیزیں جن کے ہونے سے دل بند رہتا ہے جب یہ پگھل جاتی ہیں تو دل ذاکر ہو جاتا ہے۔(۱۳۴)
جب ذکر کرنے والا ذکر کرنے میں اس قدر کمال حاصل کر لیتا ہے کہ اس کے دل کی حرکت کا احساس دل کی زبان سے ہو سکے تو یہ حرکت قلبی تمام جسم میں پھیل جاتی ہے اس کی ابتداء اس طریقے سے ہوتی ہے کہ سب سے پہلے جسم کا کو عضو ایسی حرکت کرنے لگتا ہے جو صرف دل کے لئے مخصوص ہے اور بعد میں ہاتھ یا پائوں اور بعض دفعہ سر تحریک کے بغیر ہی حرکت کرنے لگتے ہیں یہاں تک کہ اس کو دنیا متحرک نظر آتی ہے۔ ذکر کا نور جب متحرک ہوتا ہے تو یہ نور سارے جسم میں پھیل جاتا ہے اور کچھ مدت کے بعد یہ نور جسم میں اپنا گھربنا لیتا ہے اور اس ذکر کے نور کی برکت سے اس ذاکر پر مختلف انکشافات ہوتے ہیں اور عجیب واقعات رونما ہوتے ہیں سالک کبھی ہستا اور کبھی روتا اور بعض دفعہ حیران و پریشان ہو جاتا ہے۔ سالک کو چاہیے کہ ایسی حالت میں کشف و کرامات کی طرف توجہ نہ دے بلکہ اپنے ذکر کو جاری رکھے۔ خداکی مدد سے اس کا پورا جسم ذاکر ہو جائے گا اور جسم کے تمام اعضاء قلب کی طرح ذکر کریں گے۔(۱۳۵)
نفی اثبات کے ذکر کے مراتب:
چونکہ دل کو سات لطیف چیزوں سے مناسبت ہے اسی وجہ سے نفی اثبات کے ذکر کے سات مراتب ہیں پس زبانی ذکر جس کا تعلق اجسام سے ہے۔ سالک کو اس ذکر میں اس طریقے سے مشغول ہونا چاہیے اس کی کوئی سانس بھی ذکر کے بغیر نہ نکلے جب سالک اس مقام پر ہوتا ہے تو وہ عالم مادیت سے مرتبہ لطیف پر پہنچ جاتا ہے سالک کو چاہیے کہ لا الہ کے ذکر میں اس قدر گم ہو جائے کہ اس کے سامنے الا اللہ کے سوا کچھ باقی نہ رہے اگر یہ مقام حاصل ہو جائے تو سالک لطیفہ نفس سے لطیفہ قلب پر پہنچ جاتا ہے اور چونکہ دل کا ذکر الا اللہ ہے اس لئے الا اللہ کا ذکر دل کو حاضر کر کے کرنا چاہیے اور اپنی ذات کو اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے ساتھ اس طریقے سے مربوط کر دے ، کلمہ الا اللہ سے ولایت خدا ہی میں فنا ہو جائے اپنی بقا کو خدا کی بقا اور اپنے ظہور کو خدا کے ظہور سے حاصل کرے تاکہ غیر خداکی نفی ہو جائے جب سالک اس مقام پر فائز ہوتا ہے تو وہ لطیفہ دل سے لطیفہ روح پر پہنچ جاتا ہے اور چونکہ روح کا ذکر اسم کا ہے اس لئے سالک کے لئے ضروری ہے کہ اسم ذات کا ذکر ایسی توجہ سے کرے کہ الف لام جو اللہ پر داخل ہے باقی نہ رہے اور صرف لفظ ہو رہ جائے اس مقام پر سالک سراپا ذکر ہو جاتا ہے اوروہ لطیفہ روح سے لطیفہ سر پر ترقی پا جاتا ہے۔ اور اس کے بعد اس کو ذکر ھو ھو میں اس قدر مگن ہو جانا چاہیے کہ وہ خود مذکور بن جائے۔ اور فنا در فنا کا یہی مطلب ہے۔ ایسی حالت میں سا لک سراپا نور ہو جاتا ہے اور مقام عبدیت پر پہنچ جاتا ہے۔ اس کے بعد سالک کو عبادت میں مکمل طور پر مشغول ہو جانا چاہیے۔ اور حفظ مراتب اور شریعت کے احکام کی مکمل طور پر پیروی کرنی چاہیے اور مسند ارشاد پر فائز ہو کر طالبان حق یا سالکین کے لئے راہنما بن جائے۔ جب یہ مقام حاصل ہو جائے گا تو وہ ولایت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو گا اور عالم ملک اور عالم ملکوت میں خدا کے حکم سے تصرف کرے گا اور مقام عبدیت پر فائز ہو گا۔(۱۳۶)
پاس انفاس کا طریقہ:
پاس انفاس کے بہت سے طریقے ہیں بعض لوگ ہر سانس میں اللہ بعض لوگ ھو االظاہر ھو الباطن بعض لوگ یا حی یا قیوم بعض حق حق بعض یا ہو اور بعض لوگ ہو ہو کہتے ہیں مگر وصول الی اللہ ان تمام سے حاصل ہو جاتا ہے۔ صوفیاء کی اصطلاح میں پاس انفاس اس کو کہتے ہیں کہ سانس لیتے اور سانس باہر کرتے وقت آہستہ سے یا بلند آواز سے ذکر کرے سانس لیتے وقت الا اللہ کہے اور سانس باہر کرتے وقت صرف سانس سے لا الہ کہے جب ذکر سری کرے تو زبان کو حرکت نہ دیتے ہوئے بند منہ کے ساتھ ناف کی طرف دیکھے اور اس کام میں اس قدر پابندی کرے کہ سانس بغیر ارادہ کے ذکر شروع کر دے۔(۱۳۷)
حضرت شاہ ولی اللہ ؒ پاس انفاس کے بارے میں فرماتے ہیں جب تم بیدار ہو جاؤاور اپنی سانسوں سے واقف ہو جائے تو پھر پاس انفاس کا ذکر کرے ۔ سانس کو باہر نکالتے وقت لا الہ کہتے ہوئے تصور کرے کہ میں اللہ کے سوا ہر کسی کو اپنے باطن سے نکالتا ہوں اور جب سانس کو اندر لے کر جائے تو الا اللہ کہے اور تصور کرے کہ اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت کو داخل کر رہا ہے(۱۳۸)۔ حضرت گیسو دراز بندہ نوازؒ فرماتے ہیں کہ سالک کو پاس انفاس کا ذکر اس طرح کرنا چاہیے کہ سانس کو آہستہ آہستہ باہر نکالے۔ ذکر کو کثرت سے کرنے سے ہی دل کا دہانہ کھلتا ہے۔ ذکر جو زبان سے کیا جاتا ہے اس کے بعد اگر پاس انفاس کا ذکر کیا جائے تو مراد کو بہت جلد پہنچ جاتا ہے۔(۱۳۹)
پاس انفاس کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ سانس باہر نکالتے وقت اللہ کو سانس میں لائے اور سانس لیتے وقت ھو کو اندر لائے اور یہ ذکر بھی اس قدر کثرت سے کرے کہ سانس ذکر کا عادی ہو جائے۔ (۱۴۰)
اسم ذات کے ذکر کا طریقہ:
اس کے بعد اسم ذات کا ذکر اس طریقے سے کرے کہ پہلے لفظ اللہ کی (ہ) کو پیش اور اس کے بعد میں دونوں آنکھیں بند کر کے سر کو داہنے شانے کی طرف لے جا کر اسمائے صفات کا یقین کرے اور پہلے لفظ اللہ کی ضرب دل پر لگائے اس ذکر کو اسم ذات دو ضربی بھی کہتے ہیں چھ سو بار کہے مگر نو دفعہ اللہ اللہ اور دسویں مرتبہ اللہ ـحاضری اللہ ناظری اللہ معی میں سے کوئی کہے۔ مگر اس طرح پہلے دن کے بعد اللہ حاضری اور دوسرے دن کے بعد اللہ ناظری اور تیسرے دن کے بعد اللہ معی اور پھر ہر دس کے بعد یہ مکمل پڑھے مگر ان ذکر کے مفہوم کو دل میں محسوس کرے۔(۱۴۱)
اسم ذات کا ایک ضربی، دو ضربی، سہہ ضربی اور چہار ضربی کا طریقہ:
اسم ذات کی مختلف صورتیں یک ضربی میں اس کا طریقہ یہ ہے کہ آنکھیں بند کر کے سر کو داہنے شانے کی طرف لے جا کر دل پر لفظ اللہ کی ضرب لگائے دو ضربی کا طریقہ یہ ہے کہ پہلی ضرب روح پر دوسری دل پر اور سہہ ضربی کا طریقہ یہ ہے کہ پہلی ضرب داہنے گھٹنے پر دوسری بائیں گھٹنے پر اور تیسری ضرب دل پر لگائیء، چہار ضربی کا طریقہ یہ ہے کہ پہلی ضرب داہنے گھٹنے پر دوسری بائیں گھٹنے پر، تیسری روح پرا ور چوتھی دل پر لگائے۔ اس کے علاوہ ہفت ضربی تک کا طریقہ بھی ہے جس میں یک ضربی اور دو ضربی کا یہی طریقہ ہے اور سہہ ضربی میں پہلی ضرب بائیں دوسری داہنے اور تیسری دل پر لگائے چہار ضربی میں پہلی داہنے دوسری بائیں، تیسری سامنے اور چوتھی ضرب دل پر لگائے۔ پنج ضربی میں داہنے بائیں آگے پیچھے اور دل پر ضرب لگائے، شش ضربی میں داہنے بائیں آگے پیچھے اور اوپر آسمان کی طرف اور دل پر ترتیب کے ساتھ ضرب لگائے۔(۱۴۲)
اسم ذات قلندری کا طریقہ:
سالک اگر مقام ہویت تک رسائی چاہتا ہے تو وہ گوشہ نشینی میں چار زانو بیٹھ کر اللہ کی ضرب لگائے اور سر کو بلند کرے اور مضبوطی سے گھٹنوں کو تھامے رکھے اور دل پر ہو کی ضرب لگائے اور اگر ایسے ہی طریقے سے مسلسل ذکر میں مشغول رہے گا تو خدا کے اعلیٰ اوصاف اس میں بھی پیدا ہو جائیں گے۔اس میں ذات قلندری کا ذکر بہت سے مشائخ چشت کا معمول رہا ہے۔(۱۴۳)
ذکر فنا و بقا کے مختلف طریقے:
حضرت گیسو دراز بندہ نواز ؒ نے ذکر فنا و بقا کے بہت سے طریقے بیان کئے ہیں جن میں کچھ درج ذیل ہیں؛
۱۔ داہنا زانو کھڑا رکھ کر سینہ کو قلب کی طرف بڑھا کر پہلی ضرب دل پر لگائے۔
۲۔ کھڑے ہو کر داہنا قدم آگے کو بڑھاتے ہوئے بلند آواز سے پہلی ضرب اور پھر قدم کو پیچھے کرتے ہوئے دوسری ضرب دل پر لگائے۔
۳۔ قرآن مجید کو کھول کرپہلی ضرب قرآن مجید پر اور دوسری دل پر لگائے اس طریقے سے خدا تعالیٰ کی تجلی ہوتی ہے۔
۴۔ چت لیٹ کر پہلی ضرب بائیں دوسری دائیں لگائی جائے۔
۵۔ فنا و بقا کے ذکر کا ایک طریقہ التحیات کی صورت میں بیٹھ کر ربط کے ساتھ پہلی ضرب دائیں دوسری بائیں اور تیسری ضرب دل پر لگائے اس کو سہہ رکنی کہتے ہیں۔
۶۔ اس طریقے میں پہلی ضرب دا ہنی جانب دوسری بائیں تیسری دل پر اور چوتھی سامنے لگائی جائے اس کو چار رکنی کہتے ہیں۔
۷۔ پہلی ضرب داہنی طرف، دوسری بائیں طرف ، تیسری سر کے اوپر، چوتھی دل پر اور پانچویں ضرب سر کو جھکاتے ہوئے سامنے لگائے اس کو پنج رکنی کہتے ہیں۔
۸۔ انگیٹھی میں آگ کو روشن کر کے پہلی ضرب آگ پر دوسری دل پر لگائے اس طریقہ سے ذکر کرنے والے کے دل کے سرے پر انوار کے ظہور ہوتے ہیں۔(۱۴۴)
نفی اثبات کے حبس کا طریقہ:
اس ذکر کا نام شغل نفی اثبات بھی ہے، آنکھیں بند کر کے زبان کو تالو سے لگا کر سانس کو ناف سے کھینچے اور دل پر ٹھہرا دے اور کلمہ لاالہ کو بائیں زانو سے داہنے شانے تک دورہ کو ختم کرے الا اللہ کی پوری طاقت سے دل پر ضرب لگائے پہلے دن دس سانسیں کھینچے اور ہر سانس میں تین مرتبہ کرے اس کے بعد ہر روز ایک سانس کا اضافہ کرے اور طاق عدد کو ذہن میں رکھے جب دم کشی کی عادت ہو گی تو دل پر محویت طاری ہو گی اور عشق حقیقی کی آگ دل میں روشن ہو جائے گی۔ اس ذکر کے لئے بھوکا رہنا ضرور ی ہے۔ اس ذکر کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ چار زانو بیٹھ کر آنکھ بند کرے اور داہنے پائوںکے انگوٹھے اور اس کے ساتھ والی انگلی سے رگ کیماس کو مضبوطی سے پکڑے اور ہاتھوں کو زانوئوں پر رکھتے ہوئے سانس کو ناف سے کھینچ کر ام الدماغ میں ٹھہرائے اور زبان کو حرکت دئیے بغیر لفظ لا کو ناف سے کھینچ کر روح کی طرف کر کے الہ کو دماغ تک پہنچائے اور دوبارہ لاتے ہوئے دل پر الا اللہ کی ضرب لگائے اس طرح ہر سانس میں پانچ یا سات مرتبہ کرے اور سانس کو باہر کرتے وقت محمد رسول اللہ کا تصور کرے(۱۴۵)۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سے اذکار اور اشغال ہیں جس میں اثبات مجرو کا طریقہ، ذکر جاروب کا طریقہ، شغل سُلْطَاناََ نَصَرََاکا طریقہ شغل سلطاناً محموداََ کا طریقہ، شغل سلطان الاذکار کا طریقہ، شغل سرمدی کا طریقہ شغل بساط کا طریقہ اور فنا کے مراتب شامل ہیں۔(۱۴۶)
حضرت گیسو دراز بندہ نواز ؒ نے بھی بہت سے اذکار کا ذکر کیا ہے جس میں ذکر ابدال ذکر ھو ھو ، ذکر ھو، ذکر یا ھو، یا ذکر لا ھو الا ھو، ذکر کشف قبور، ذکر یا روح، ذکر النور، ذکر الـحق، حقائق کے کشف کا ذکر اور ذکر کشف ملکوت شامل ہے۔(۱۴۷)
سلسلہ عالیہ چشتیہ کے مراقبات:
مراقبہ کامفہوم:
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے
{وَکَانَ اللَّہُ عَلَی کُلِِّ شَیْْء ٍ رَّقِیْباً} (۱۴۸)
ترجمہ:اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے۔
مراقبہ کا مفہوم سمجھنے کے لئے اس آیت مبارکہ کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔ مراقبہ کا لفظ رقیب سے ہے، جس کا مطلب نگہبان اورمحافظ کے ہیں۔،یعنی اللہ تعالیٰ کی یاد اور غیر حق سے اپنے دل کو محفوظ رکھنا(۱۴۹)۔حضرت گیسو دراز بندہ نوازؒ مراقبہ کی تعریف یوں فرماتے ہیں کہ لغت میں مراقبہ کے معنی اونٹ کی گردن پر سوار ہو کر دوست کی طرف جانا مگر سلوک میں اس کامطلب دوست کے حضور گردن جھکا لینا یعنی اپنے مطلوب کے سامنے جھک جانا اور دوست کو آنکھوں میں رکھنا۔ سلوک کی منازل میں سب سے پہلے مجاہدہ، اس کے بعد مراقبہ پھر مشاہدہ اور آخر میں مکاشفہ حاصل ہوتا ہے(۱۵۰)۔ حضرت شاہ ولی اللہ ؒ نے بھی مراقبہ کو رقیب سے مشتق فرمایا ہے جس کا مطلب محافظ اور نگہبان ہے اور یہ دل کو ذکر خدا سے منور ہو جانے کے بعد تلقین کیا جاتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ اس کا نام مراقبہ اس وجہ سے ہے کہ جب سالک مراقبات کرتا ہے تو وہ اپنے دل کی محافظت اور نگہبانی کرتا ہے یا کچھ مراقبات میں وہ اللہ تعالیٰ کا مراقب ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کرتا ہے مراقبہ کے دوران وہ مراقبہ کے الفاظ اپنی زبان سے کہے اور اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جانے اور قرآن مجید کی آیت مبارکہ :
{وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ مُّحِیطًا} (۱۵۱)
ترجمہ: اور خبردار اللہ تعالیٰ ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔
کو ذہن میں رکھتے ہوئے مراقبہ کرے(۱۵۲)۔ حضرت جنید بغدادیؒ فرماتے ہین مراقبہ اس شخص کو کرنا چاہیے جس کی نظروں میں کوئی چیزغائب نہ ہو(۱۵۳)۔ بندے کو اپنے رب کے نظر رکھنے کا علم ہو جانے کا نام مراقبہ ہے۔ مراقبہ ہر نیکی کی اصل ہے اور اس مقام پر انسان اس وقت پہنچتا ہے جب محاسبہ کے عمل کو مکمل کر لے اور تمام اعمال میں نفس کا محاسبہ کرے۔ جب انسان اس مقام پر پہنچے تو اس وقت وہ اپنی حالت کو درست کرتا، راہ خدا پر پختگی سے چلتا ، اپنے اور اپنے خدا کے درمیان دل پر توجہ دیتا، اپنی ہر سانس کو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق لیتا اور ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کو سامنے رکھتا ہے۔ تو اس کو یقین ہو جاتا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی اس کا نگہبان ہے۔ اس کے دل کے ہر حال سے واقف اور قریب اور اس کے قول و فعل سے آشنا ہے حضرت جریری ؒ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے اپنے اور اللہ کے درمیان تقوی اور مراقبہ کی بنیاد پکی نہیں کی وہ کشف و مشاہدہ تک رسائی نہیں حاصل کر سکتا(۱۵۴)۔ مراقبہ دل کی نگہبانی کا نام ہے یعنی رقیب کو دل میں نہ آنے دیا جائے رقیب سے مراد نفسانی و شیطانی اور جسمانی خطرات اور حرص و ہوا ہیں اگر یہ چیزیںدل میں جگہ لیں تو سلوک میں رکاوٹ ہیں۔ یعنی دل میں ذات باری تعالیٰ کے علاوہ کسی بھی چیزکا خیال پریشانی کا باعث ہے۔مراقبہ تو وہ ہے جو حق تعالیٰ تک پہنچائے۔ مشاہدہ نصیب ہو اور محو کر دے خطرات کی نفی ہو خدا تعالیٰ کی محبت اور مجلس محمدیﷺ حاصل ہو۔ ہدایت کا نور اور ذات حق کی تجلیات ظاہر ہوں(۱۵۵)۔ مراقبہ غیر اللہ کے خطرہ سے دل کی حفاظت کرنے کو کہتے ہیں۔ مراقبہ کیلئے اطمینان دل اور خلوت باطن ضروری ہے جب تک دل دنیا کی ہر چیز سے فراغت حاصل کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع نہ کرے مراقبہ کرنا بے فائدہ ہو گا۔ چونکہ ابتداء میں مرید کا دل حجابات میں ہوتا ہے۔ اس لئے بیک وقت رب العزت کی طرف رجوع کرنا مشکل ہوتاہے اور مرشد چونکہ عالم شہادت سے تعلق رکھتا ہے اس لئے سالک کو ابتداء میں اپنا دل مرشد کی طرف راغب کرنا چاہیے تاکہ پیر کے دل سے مرید کے دل کو اطمینان حاصل ہو اور آہستہ آہستہ خدا کی طرف رجوع شروع ہو جائے۔(۱۵۶)
حضرت ذوالنون مصریؒ فرماتے ہیں مراقبہ کی علامت یہ ہوتی ہے کہ آدمی وہی چیز پسند کرے جسے اللہ پسند کرے، اسی چیز کو عظمت دے جسے اللہ نے عظمت دے رکھی ہو اور اسی چیز کو حقیر جانے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر جانا ہو۔ حضرت نصیر آبادیؒ فرماتے ہیں رجاء یعنی امید ہی تمہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے تیار کرتی ہے جبکہ خوف گناہ سے دور کر دیتا ہے اور مراقبہ حقائق کی رہنمائی کرتا ہے۔ حضرت جعفر بن نصیر ؒ سے مراقبہ کی حقیقت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا انسان حق تعالیٰ کے دیکھنے کا خیال رکھے۔ حضرت مرتعش ؒ فرماتے ہیں کہ ہر لحظہ اور ہر لفظ کے ساتھ غیب کو پیش نظر رکھ کر باطن کا خیال رکھنا مراقبہ ہے۔ (۱۵۷)
حضرت ابراہیم خواصؒ فرماتے ہیں کہ احکام خداوندی کو نگاہ میں رکھنے کے ذریعے مراقبہ شروع ہوتا ہے اور مراقبہ سے ظاہر و باطن میں اللہ تعالیٰ کے لئے خلوص کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ سالک جب جہری و سری انوار سے منور ہو جاتا ہے اور اس کی ہر رگ اور ہر سانس میں ذکر سرایت کر جاتاہے اور محویت وبے خودی کی ایک خاص حالت پیدا ہو جاتی ہے تو اس مقام پر اس کو مراقبات کی تعلیم دی جاتی ہے تاکہ وہ سلوک کی منازل کو طے کرتے ہوئے منزل مقصود تک پہنچ جائے۔(۱۵۸)
مراقبہ کا طریقہ:
مراقبہ کا طریقہ یہ ہے کہ سالک کسی ایسی جگہ ایسے ماحول ہو کہ کوئی چیز اس کے لئے خلل کا باعث نہ ہو ۔ وہاں دو زانو بیٹھ کر دل کو غیر اللہ سے بالکل خالی کر کے شیطان سے پناہ مانگتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جانتے ہوئے اس خیال میں گم ہو جائے کہ میں خدا کی نظر میں ہوں اور ہر طرح کے خیالات کو دل سے دور رکھے(۱۵۹)۔ خلوت میں بیٹھ کر لفظ اللہ دل میں اس طرح بٹھائیں جس طرح خطرہ اور وسوسہ دل میں قائم رہتا ہے۔ اللہ ہی دل میں آئے اور اللہ ہی دل سے نکلے اللہ کے سوا کوئی خطرہ دل میں نہ ہو۔ مراقبہ میں ایسی حالت نہیں ہونی چاہیے کہ زبان سے تو اللہ کا نام پکارے مگر دل میں دنیا کا خیال ہو۔ ایک کونے میں آنکھیں بند کر کے دل کی طرف توجہ کر کے بیٹھ جاناچاہیے، اگر یہ کام ہو جائے تو تمام کام ہو جاتے ہیں۔ سالک کے لئے رات کا اندھیرا جنگل کی تنہائی اور موذی جانوروں کے نقصان کی طرف توجہ نہیں دینی چاہیے۔ اپنے آپ کو خدا کے سپرد کر کے اس کی طلب میں مشغول ہو جائے اور اپنے دماغ میں خدا کی ذات کے علاوہ کوئی خیال بھی نہ آئے۔ ایک سالک کے لئے بھوک پیاس، تنہائی اور شب بیداری جیسی عادات کا ہونا ضروری ے۔ اس کی حالت خلوت اور جلوت میں ایک جیسی ہونی چاہیے۔ وہ جن بھی الفاظ یا وظائف کا مراقبہ کر رہا ہے۔ اس میں ملامت ہونی چاہیے۔(۱۶۰)
مراقبہ کی منزلیں:
مراقبہ کی پانچ منزلیں ہیں:
۱۔ مراقبہ کی پہلی منزل شریعت، طاعت، عبادت اور مشاہدہ ناسوت ہے اس مقام پر سالک جو کچھ دیکھتا ہے وہ مقام ناسوت سے ہوتا ہے۔
۲۔ دوسرا مراقبہ ملکوت ہے اس مقام پر سالک صاحب ورد و وظائف اور طہارت ہوتا ہے اور فرشتوں کی طرح صفت ملکوتی رکھتا ہے جو کچھ دیکھتا ہے مقام ملکوت سے ہوتا ہے۔
۳۔ تیسرا مراقبہ جبروت ہے اس مقام پر سالک ذکر اللہ تعالیٰ کرتا ہے اور اہل اللہ ہوتاہے اور جو کچھ دیکھتا ہے مقام جبروت سے ہوتا ہے۔
۴۔ چوتھا مراقبہ لاہوت ہے اس مراقبہ میں سالک مقام معرفت پر ہوتا ہے اور جو کچھ مشاہدہ کرتا ہے وہ مقام لاہوت سے ہوتا ہے۔
۵۔ پانچواں مراقبہ حضور غرق فنا فی اللہ ہے جو مقام ربویت میں حاصل ہوتا ہے اس مقام پر سالک جو کچھ دیکھتا ہے وہ مقام ربوبیت کامشاہدہ کرتا ہے اور اس میں سوائے تو حید کے کچھ نظر نہیں آتا۔(۱۶۱)
سلوک چشتیہ کے مراقبات:
مراقبہ حضوریت:
سالک اپنے آپ کو ہمیشہ اس حال میں رکھے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات حاضر و ناظر ہے اور اس کو اپنے سامنے سمجھے اور اس خیال کو اس حد تک اپنے دل میںراغب کرے کہ اس ذات کے سوا باقی تمام خیالات ختم ہو جائیں
اور اللہ تعالیٰ کی ذات کو قرآن مجید کی اس آیت مبارکہ
{اَلَمْ یَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰہَ یَرٰی} (۱۶۲)
ترجمہ: کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات دیکھ رہی ہے ۔
مراقبہ موجودیت:
سالک کے لئے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات مبارکہ کہ ہمیشہ اور ہر وقت اپنے دل میں خیال کرے ۔ اپنے دل کو آسمان اور زمین کو جسم تصور کرے اور یہ سوچے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل میں ہے اور دل جسم میں ہے، اسی کا نام موجودیت ہے۔
مراقبہ قربیت:
اس مراقبہ میں سالک ذات باری تعالیٰ کو ہمیشہ اپنے قریب جانے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو اپنے انتہائی قریب جانیں۔
مراقبہ معیت:
اس مراقبہ میں سالک اللہ تعالیٰ کو ہر وقت اپنے ساتھ جانے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات ہر جگہ اس کے ساتھ ہے۔(۱۶۳)
مراقبہ احاطت:
اس مراقبہ میں سالک اللہ تعالیٰ کی ذات کو اپنی ذات اور تمام عالم پر محیط سمجھتا ہے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات ہر شے کو احاطہ کئے ہوئے ہے۔
مراقبہ افعال:
اس مراقبہ میں سالک یہ خیال کرے کہ ہر چیز اور اس کی حرکت کو پیدا کرنے والی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ مخلوق یعنی جو کچھ پیدا کیا گیاہے اس کی طرف توجہ نہ کرے بلکہ خالق کی طرف توجہ کرے اسی ذات کو ظاہر تصور کرے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم کو بھی پیدا کیا اور تمہارے عمل(فعل) کو بھی اسی نے پیدا کیا۔ ہر کام میں اس کو کھلے طور پر جانیں اور ظاہر جانیں تاکہ ہر حرکت کے پیچھے خدا ہی کا راز دکھائی دے۔
مراقبہ صفات:
سالک ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی بزرگی میں مستغرق رہے کہ وہ کریم ہے ہر شے کو نعمت پہنچاتا ہے اورر حمت سے سرفراز کرتا ہے۔ یعنی اس کی رحمت کا اس کے علم تک پہنچنا ہی ہے کہ رات دن اپنے خیال اور اپنی سمجھ کو اللہ تعالیٰ کی صفات واوصاف میںرکھے۔(۱۶۴)
مراقبہ فنا:
اس مراقبہ میں سالک اپنے آپ کو مقام فنا میں تصور کرتا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے؛
{کُلُّ مَنْ عَلَیْْہَا فَانٍ وَیَبْقَی وَجْہُ رَبِّکَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ} (۱۶۵)
ترجمہ: دنیا کی تمام چیزیں فانی ہیںاور باقی رہنے والا تمہارا رب ہے عظمت اور بزرگی والا۔
اپنے دل میں خیال کرے کہ تمام چیزیں فناہونے والی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات جو بے عیب ہے ہمیشہ باقی رہے گی اور دل کی آنکھ سے دیکھے، اس خیال میںمحو ہو جائے تاکہ اس آیت کا مفہوم بھی اس پر منکشف ہو جائے۔(۱۶۶)
مراقبہ وحدت:
اس مراقبہ میں سالک تصور کرے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی اول و آخر ہے، اس بات کا زبان سے اقرار کرے اور اپنے آپ کو اس خیال میں مستغرق رکھے،جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے؛
{ہُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ}(۱۶۷)
ترجمہ؛ وہی اول ہے اور وہی آخر ہے۔
مراقبہ ذات:
اس مراقبہ میں سالک اپنی ذات کو خود میںمحو کر کے یگانگی میں آنے کی کوشش کرتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہی سب کچھ سمجھا جائے۔ اس خدا کے علاوہ باقی ہر چیز کو گم وسعت جانے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ؛
{ قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ} (۱۶۸)
ترجمہ؛ اے محمد ﷺ کہہ دو کہ ۔خدا ایک ہے
اس آیت میں تو حید ذاتی کا سب سے اعلیٰ درس دیا گیا ہے کہ صرف ایک ذات کو ہی تمام عالمین میں یکتا جانا جائے۔ (۱۶۹)
مراقبہ شہود:
اس مراقبہ میں سالک اللہ تعالیٰ کی ذات کو حاضر جانتا ہے کہ وہ ذات ہر دم اس کے سامنے ہے موجود ہے اور اس کی الوہیت کا سارا عالم گواہ ہے کہ وہی شاہد و مشہود ہے اس کی ذات میں ہی کھوجائیں اور اسی دھن میں لگ جائیں۔
مراقبہ وجود:
سالک اس بات کو ذہن نشین رکھتا ہے کہ وہ ذات ہر جگہ موجود ہے۔ سالک یہ جانے کہ وہ جہاں کہیں بھی جائے وہاں اللہ تعالیٰ کی ذات موجود ہے اور اس کے سلوک کا مقصد اسی ذات میں مستغرق ہونا ہے۔(۱۷۰)
مراقبہ امانت:
سالک اپنے آپ کو امین یعنی امانت رکھنے والا اورجو کچھ سامنے ہو اس کو امانت تصور کرے اور اس کو مقام تسلیم تصور کرے۔ یعنی آدمی نے اس امانت کا بار اٹھا لیا حالانکہ وہ نادان ہے اس امانت کے نتائج سے بے خبر ہو گیا۔ اس امانت کو قبول کرتے وقت اس امانت کے حق کو ادا کرنے کے لوازمات کی طرف نہ دیکھا اور لا پرواہی اختیار کی لیکن اس مین اعلیٰ مقام یہ ہے کہ امانت کو نہیں دیکھا بلکہ امانت کے سپرد کرنے والے پر نظر رکھی جو کچھ اس نے عطا کیا اس کو قبول کر لیا۔(۱۷۱)
سلسلہ عالیہ چشتیہ کی سیر اور اس کی اقسام:
سیر کا مفہوم:
مقامات قرب حق اور مراتب ذات کے ادنی مقام سے اعلیٰ مقام کی طرف ترقی کرنا سالک کا سفر اور سالک کی سیر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف دل کی توجہ کا نام سیر ہے(۱۷۲)۔ سالک جب سلوک کی منازل طے کرتا ہے تو وہ مختلف مراحل سے گزرتا ہے جس کوسیر کانام دیاجاتا ہے۔ سیر ایک خاص مقام سے شروع کرتا ہے اور ایک حاصل طریقے سے یہ سیر مکمل کرتا ہے ۔ طالبان حق راہ طریقت کے سالکین کے لئے اس بات کو جاننا بہت ضروری ہے کہ بعض سالکین صرف کچھ اذکار اور وظائف پر اکتفا کر لیتے ہیں اور جب دل میں معرفت الٰہی پیدا ہوتی ہے اور دماغ میں وصل کا خمار پیدا ہوتا ہے تو اس کو آخری منزل جان کر آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کرتے حالانکہ قرب الٰہی کی منازل نہ ختم ہونے والی ہیں۔ سالک جس قدر سلوک کی منازل طے کرتا ہے اس کو اس کے آگے اور منزل نظر آتی ہے اور جب اس مقام پر پہنچتا ہے تو اوپر ایک اور منزل دکھائی دیتی ہے اور سالک تمام عمر قرب الٰہی کی منازل طے کرتا ہے۔ سالک سلو ک کی منازل طے کرتے ہوئے مقام عبدیت پر تو فائز ہو جاتا ہے اور لوگوں کی ہدایت کا سبب بنتا ہے مگر قرب الٰہی کی منازل ختم نہیں ہوتی، اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ذات باری تعالیٰ لا انتہا اور بے پایاں ہے اور اس بحر بے کراں کا دوسر اکنارہ ہی نہیں ہے تو سالک کی قرب الٰہی کی منازل کس طرح مکمل ہو سکتی ہیں۔ (۱۷۳)
سیر الی اللہ:
سیر الی اللہ کو سیر من الخلق الی الحق بھی کہتے ہیں۔ منازل نفس سے حجابات کثرت اٹھا کر افق مبین جو کہ انتہائی مقام قلب و مبداء تخلیات اسمائیہ کا ہے تک پہنچنا۔ یعنی سالک منازل نفس سے افق مبین کی طرف سفر کرتا ہے یہ دل کا مقام نہایت ہے اور سیر الی اللہ کے سالک کو مبتدی کہتے ہیں(۱۷۴)۔ عبادات یعنی فرائض ، سنن، نوافل، وظائف، اذکار، مشاغل، مراقبات کے ذریعے سالک کو تزکیہ نفس، تصفیہ قلب اور تخلیہ روح نصیب ہوتاہے اور سالک کی نفسانی خواہشات میں کمی واقعہ ہوتی ہے۔ اور سالک کی روحانیت میں قوت پیدا ہو جاتی ہے۔ اسی روحانی طاقت کی بنیاد پر سالک اپنی سیر کی ابتداکرتا ہے اور یہ سیر عروجی کی ابتداء ہوتی ہے(۱۷۵)۔ اس مقام پرسالک نماز، روزہ اور طہارت و لطافت میں مصروف ہو جاتا ہے۔ اور قرب الٰہی کا متلاشی رہتا ہے۔ اسی کا نام جذبہ خفی ہے جو کہ اصل میںسلوک کا افتتاح ہے۔ اور اس حاصل قسم کے جذبہ کے بغیر اس راستہ میں سفر ممکن نہیں ہے۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے اگر محبت رکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بھی ان لوگوں سے محبت رکھتا ہے اور ان کو اپنا محبوب بنا کر واصل باللہ کر لیتا ہے جو کہ اطاعت رسول ﷺ کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ سالک اس مقام پر فرشتوں کا مشاہدہ کرتا ہے اور صفات الٰہی کا مشاہدہ کرتا ہے(۱۷۶)۔ اصل میں یہ مقام فنا ہے، جس کے بارے میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ فرماتے ہیں اور مخلوق سے فنا ہونے کی علامت یہ ہے کہ تو ان سے قطع تعلق کر لے ان کے پاس آنا جانا چھوڑ دے اور جو کچھ ان کے پاس ہو اس سے مایوس ہو جا کبھی کسی چیز کا ارادہ نہ کرے۔ تیری کوئی غرض و غایت اور ضرورت و طلب نہ رہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کے ہوتے ہوئے تو اور کسی چیز کا ارادہ کر ہی نہیں سکتا۔ بلکہ فعل خداوندی تم سے جاری و ساری ہو تو خود عین اللہ تعالیٰ کا ارادہ اور اس کا فعل ہے۔ تیرے اعضاء ساکن ، دل مطمئن ، سینہ کشادہ،چہرہ منور، باطن آباد اور تو اپنے خالق کی محبت میں اس طرح سرشار ہے کہ ہر چیز سے غنی رہے۔ اللہ کے دست قدرت کے تو سپرد ہے۔ تجھے وہ حرکت دے رہا ہے۔ لسان ازل تجھے بلاتی ہے، تیرا رب تم کو سکھاتا ہے، تجھے اپنے نور ماھن اور اجلال کا لباس اور عزت کی قبائیں پہناتا ہے۔ تو تیرا شمار سلف صالحین میں ہو جائے گا جو کہ علم کے مینار تھے کرامات تیرے ہاتھ پر صادر ہوں گی۔(۱۷۷)
فنا کے پانچ مراتب میں پہلا مرتبہ زبانی ذکر کا غلبہ جس کو ذکرِ جسمی بھی کہتے ہیں۔ اس مرتبہ فنا کی بدولت نفس امارہ کی صفات اخلاق حمیدہ میں فنا ہو جاتی ہیں۔ دوسرا مرتبہ ذکر فکر جس کو ذکر نفسی کہتے ہیں۔ نفسانی خواہشات جو نفس لوامہ کے متعلق ہیں۔ وہ امکانی خواہشات میں فنا ہو جاتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں سالک شریعت کے احکام پر پابندی سے عمل کرتا ہے اور مکاشفہ اور الہام کا طریقہ جو نفس لوامہ کا مقام ہے۔ ظاہر ہوتے ہیں۔ تیسرے مرتبہ میں ذکر قلبی کے غلبہ کی بدولت موجودات کے اوصاف و افعال یعنی اللہ تعالیٰ کے اوصاف میں فنا ہوں تاکہ ہر چیز میں افعال حق کا جلوہ نظر آئے اور اطمینان قلبی جس کو نفس مطمئنہ بھی کہتے ہیں حاصل ہو ۔ چوتھا مقام فنا مشاہدہ ہے ذکر روح کے غلبہ کی بدولت خدا کی یکتائی میں فنا ہو جائے یہاں تک کہ سالک کے مشاہدہ میں ذات باری تعالیٰ کے مشاہدہ کے علاوہ کچھ باقی نہ رہے۔ پانچواں ذکر سری کی کثرت ہے جس مقام پر سالک خلق سے نفرت کرتا ہے اور سالک ذات باری تعالیٰ میں فنا ہو جاتاہے۔(۱۷۸)
سیر فی اللہ:
صفات حق تعالیٰ سے متصف ہونا اور اسماء حق تعالیٰ کے ساتھ متحقق ہونا اور انتہاء اس سیر کی افق اعلیٰ ہے جو انتہائی مقام واحدت ہے اور یہ مقام روح ہے(۱۷۹)۔ احدیت ذات پاک کے اس مرتبہ کو کہتے ہیں جس میں کسی وہم و خیال کسی لفظ کی گنجائش نہیں جس کی تعبیر سے زبان قاصر ہے جس کے ادراک سے عقل عاجز ہے(۱۸۰)۔ سیر فی اللہ کے سالک کو متوسط کہتے ہیں روح کو اسی لئے مخلوق کہتے ہیں کہ قدرت حق تعالیٰ سے اس کا ظہور عالم امر سے عالم خلق میں ہوتا ہے اور سزا اور جزا کی مستحق ہوتی ہے ورنہ عالم قدس میں وہ عالم کون و مکان سے بلند و برتر تھی۔ سیر الی اللہ کا اختتام اس وقت ہوتا ہے کہ سالک باوجود صدق کے قدموں سے یکبارگی طے کرے اور سیر فی اللہ اس وقت متحقق ہو گی کہ اللہ تعالیٰ بندہ کو وجودی اور ذاتی فنا مطلق کے بعد تمام آلائش حدوث سے پاک فرمادے تاکہ سالک اس عالم میں اوصاف الٰہی اور اخلاق لامتناہی ہو کر ترقی کرے ۔
شیخ ابو علی جرجانیؒ فرماتے ہیں ولی وہ ہے جو فانی ہو اپنے حال سے اور مشاہدہ حق میں اس طرح باقی ہو کہ اس کو نہ اپنے نفس کی خبر ہو اور نہ غیر اللہ کے ساتھ اس کو قرار ملے۔(۱۸۱)
اس مقام پر سالک کو فنا فی اللہ حاصل ہونا شروع ہو جاتی ہے اور ذات باری تعالیٰ کے اندر پرواز کرتا جاتاہے۔ کیونکہ ذات باری تعالیٰ کی کوئی انتہا نہیں اس لئے سالک کی پرواز کی بھی کوئی انتہا نہیں۔ سالک اگر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بھی پرواز جاری رکھے تب بھی سفر ختم نہیں ہوتا چونکہ اس مقام فنا میں صرف استغراق، محویت اور مستی کے سوا کچھ بھی نہیں اس لئے اسلام میں ہمیشہ کے لئے اس مقام پر مقیم ہونا مطلوب نہیں ہے(۱۸۲)۔ اس مقام پر سالک اس قدر لذت حاصل کرتا ہے کہ دنیا کی تمام لذات اس کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی اور سالک صفات الہٰیہ سے متصف ہو جاتا ہے جیسا کہ حدیث قدسی ہے؛
((عَنْ اَبِّی ھریرۃ ؓ قا ل قال رسول اللہ ﷺ اِنَّ اللّٰہَ قَالَ مَنْ عَادَی بِی وَلِیًّا فَقَدْ آذَنْتُہُ بِالْحَرْبِ وَمَا تَقَرَّبَ اِلَیَّ عَبْدِی بِشَیْئٍ اَحَبَّ اِلَیَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَیْہِ وَمَا یَزَالُ عَبْدِی یَتَقَرَّبُ اِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّی اُحِبَّہُ فَاِذَا اَحْبَبْتُہُ کُنْتُ سَمْعَہُ الَّذِی یَسْمَعُ بِہِ وَ بَصَرَھُ الَّذِی یُبْصِرُ بِہِ وَ یَدَ ھُ الَّتِی یَبْطُشُ بِھَا وَرِجلَہُ الَّتِی یَمْشِی بِھَا وَاِنْ سَاَلْنِی لَاُعْطِیَنَّہُ وَلَئِنْ اسْتَعَاذَنِی لَاُ عِیْذَنَّہُ وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَیْ ئٍ اَنَا فِاعِلُہُ تَرَدَّدِیِ عَنْ نَفْسِ الْمُوْمِنِ یَکْرُھُ الْمَوْتَ وَاَنَا اَکْرَھُ مَسَائَ تَہ))(۱۸۳)
’’ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ۔اللہ تعالیٰ جل جلالہ ارشاد فرماتے ہیں جو شخص میرے کسی ولی سے دشمنی رکھتا ہے میں اس کو خبردار کرتا ہوں کہ میں اس سے لڑوں گا اور میرا بندہ جن جن عبادتوں سے میرا قرب حاصل کرتا ہے ان میں سے کوئی عبادت مجھ کو اس سے زیادہ پسند نہیں ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے۔ اور میرا بندہ فرض ادا کرنے کے بعد نفل عبادتیں کر کے میرے اس قدر قریب ہو جاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں پھر یہ حال ہو جاتا ہے کہ میں اسے محبت کرنے لگتا ہوں کہ میں ہی اس کا کان ہوتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اور اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کیا پائوں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔اور اگر وہ مجھ سے کچھ مانگتا ہے تو میں اس کو دیتا ہوں اگر وہ کسی سے میری پناہ چاہتا ہے تو اس کو محفوظ رکھتا ہوں۔اور مجھ کو کسی کام میں جس کو میں کرنا چاہتا ہوں اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا اپنے مسلمان بندے کی جان نکالنے میں ہوتا ہے۔ وہ تو موت کو اچھا نہیں سمجھتا اور مجھ کو بھی اس کو تکلیف دینا برا لگتا ہے۔ ‘‘
سیر با اللہ:
سالک کا عین جمع و حضرت احدیث تک ترقی کرنا جب تک اس میں اثنیت یعنی غیریت اعتباری باقی ہے یہ مقام قاب قوسین کہلاتا ہے اور جب دور ہو جائے تو اس کو مقام ادنیٰ کہتے ہیں اور یہ انتہائی مقام ولایت ہے(۱۸۴)۔ یہ مقام سیر فی اللہ اور آخری سیر یعنی سیر من اللہ الی اللہ کا درمیانی مقام ہے۔ جہاں پر سالک سے انا الحق جسے کلمات غلبہ حال کی وجہ سے سرزد ہوتے ہیں۔ اگر اس حالت میں اس کو قتل کر دیا جائے تو شہید ہوتا ہے۔ لیکن درمیانی مقام ہونے کی وجہ سے ایسے لوگوں کا شمار مستہلک اولیاء میں ہوتا ہے مگر جب عالم محویت یعنی مقام سکر سے نکل کر عالم محو میںیعنی ہوشیاری میں آتا ہے تو سالک استغفار ضرور کہے۔جب سالک مقام صفات سے ترقی کر کے جمال دوست تک سفر کرتا ہے تو اس مقام کو قرب فرائض یا تجلی ذات بھی کہتے ہیں۔(۱۸۵)
سالک جب ذات احدیت یعنی مقام سیر فی اللہ میں زیادہ ترقی کرتا ہے اور مکمل طور پر محو اور فانی ہو جاتا ہے تو اس پر اس قدر سکر کی کیفیت ہوتی ہے کہ وہ فنا کو بھی بھول جاتا ہے اور مقام فنا الفنا میں سفر کرتا ہے۔
سیر با اللہ عن اللہ:
اس سیر کو سیر من الحق الی الخلق بھی کہتے ہیں۔ اس مقام پر سالک وحدت میں کثرت اور کثرت میں عین وحدت کو دیکھتاہے اور یہ مقام بقا بعد الفنا ہے۔ اس سیر میں سالک کامل ہو کر طالبان حق کی تعلیم و تلقین میںمشغول ہو جاتا ہے اور ان کی تکمیل کرتا ہے(۱۸۶)۔ سلوک الی اللہ کی یہ آخری منزل ہے۔ یہ خاص بات رسول اکرم ﷺ کے ساتھ خاص ہے۔یعنی یہ بات کمال نہیں ہے کہ سالک فنا فی اللہ کی سرمستی اور مدہوشی اور محویت پر غالب آکر حق عبودیت ادا کرے اور شرب وصل کے دریا نوش کرنے کے باوجود بھی مستغرق نہ ہو بلکہ تمام اولیاء کرام ؒ کے نزدیک آخری اور بلند ترین مقام جامعیت یعنی عبدیت یا عبودیت ہے۔ اس مقام پر سالک ایک ہی وقت میں فنا اور وصل کی لذت سے بھی مسرور ہوتا ہے۔ اور درد ہجر و فراق کی لذت بھی حاصل ہوتی ہے۔ اس مقام کو مقام عبودیت، عبدیت، دوئی، کثرت فرق بعد الجمع، مقام صحو، مقام تمکین اور جمع الجمع کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے(۱۸۷)۔ اس مقام پر سالک کا نفس نفس عمارہ سے نفس مطمئنہ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ سفر سلوک کی ابتدائسے پہلے وہ ناقص تھا کامل بن گیا ہے۔ اس کی باطنی آنکھ نابینا تھی اور اب وہ اللہ تعالیٰ کی نصرت سے دیکھ سکتا ہے اور سالک حق تعالیٰ کی صفات سے متصف ہوکر منصب خلافت الٰہیہ کو انجام دینے کے لئے جملہ اختیارات لے کر آیا ہے۔ سالک لوگوں کو رشد و ہدایت کے راستے پر مامور کرتا ہے۔ اور سنت رسول ﷺ کے مطابق زندگی گزارتا ہے۔ اور دوسرے فرائض زندگی سر انجام دیتاہے۔ اور سالک اللہ تعالیٰ کے نائب کی حیثیت سے منصب خلافت کے فرائض سر انجام دیتا ہے۔ (۱۸۸)
سالک کی یہ سیر نزولی ہوتی ہے اس مقام پر سالک جس طرح سلوک کے ابتداء میں عبادات و مجاہدات اور ہوشیاری و بیداری میں ہوتا ہے اور عروج کے ذریعے فنا فی اللہ کے مقام پر پہنچ جاتا ہے اور بقا باللہ کے ساتھ نزول کرتا ہے۔ اس وجہ سے جب سالک عروج کو چھوڑ کر دوبارہ نزول اور عبدیت کی طرف رجوع کرتا ہے تو اولیاء کرام ؒ نے نہایت کار یعنی آخری مقام کانام بدایت یعنی ابتداء کی طرف لوٹنارکھا ہے۔ اس کانام آخری مقام اس وجہ سے ہے کہ اس مقام پر پہنچے بغیر سالک کی تکمیل نہیں ہوتی ہے۔ جوگیوں اور عیسائی راہبوں کی طرح ہمیشہ کے لئے مقام فنا میں محو ہو جانا اور دنیا کو ترک کر دینا شریعت محمدی کے خلاف ہے۔(۱۸۹)
مقام تلویں اور مقام تمکین:
تلویں کا لفظ لون سے ہے جس کے معنی رنگ کے ہیں۔ سالک جب سلوک کی منازل طے کرتا ہے تو ابتدا ء میں مختلف قسم کی کیفیات حاصل کر کے مست اور بے خود ہو جاتا ہے اور کئی قسم کے رنگ اترتے اور چڑھتے ہیں۔ سالک ایک حال سے دوسرے حال سفر میںکرتا ہے اور ایک صفت سے دوسری صفت میںمنتقل ہوتا ہے۔ تلوین مبتدیوں اور کمزور لوگوں کا خاصہ ہے جن کو کبھی اسرار و رموز سے آگاہ کیا جاتا ہے اور کبھی پردہ ڈال دیاجاتا ہے۔ سالک کو مراقبہ کے دوران استغراق کی حالت پیدا ہوتی ہے اور سلوک الی اللہ کے دوران استغراق ترقی کا باعث ہوتا ہے جس کے ذریعے جسم میں اللہ تعالیٰ کی محبت کی آگ بھڑکتی ہے اور سالک کو اعلیٰ مقام کی طرف گامزن کرتی ہے ۔ تلوین سالکین متوسط کا نام ہے۔ جو ہر وقت غلبہ حال میں رہتے ہیں اور ان کو ابن الحال یا مغلوب الحال کہتے ہین۔ لیکن جب آہستہ آہستہ حال میں پختگی آ جاتی ہے تو سالک ان کیفیات سے مغلوب اور مست نہیں ہوتا اور نہ ہی بے خود ہوتا ہے بلکہ انوار تجلیات کو برداشت کرتا ہے۔ اور سالک سکر و محویت سے نکل کر عالم ہوشیاری میں آجاتا ہے۔ سالکین کی اس حالت کو تمکین کہتے ہیں جو مقام بقا با اللہ عبدیت کہلاتا ہے۔ حالت تمکین میں دائمی مشاہدہ الٰہی نصیب ہوتا ہے۔ عقل اور حواس برقرار رہتے ہیں اور پابندی شریعت برقرار رہتی ہے۔ اس مقام ِسالکین کو اَبُ الحال یاغالب الحال کہتے ہیں۔(۱۹۰)
سلسلہ چشتیہ کے ولایت کے دائر:
حضرات صوفیاء کرام ؒ کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی ذات سے مراد ایک خاص دائرہ ہے جس کا نصف دائرہ واحدیت ہے جو اس وجوب کا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات کا وصف خاص ہے۔ اسم الہ کا اطلاق حضرت واحدیت پر ہوتا ہے بلکہ واحدیت کے نصف دائرے پر کہ تمام اسمائے الٰہی اسی دائرہ میں مندرج ہیں اور وجوب صرف اسی کا وصف خاص ہے۔ یعنی وہ واجب الوجود ہے۔ پس سالک کے دل میںشوق وصول اور ذوق حصول اسی طرح جاگزین ہے کہ مرتبہ وہیت تک پہنچ جاتا ہے اس کو حقیر معلوم ہوتا ہے جس سے مراد ہے کہ آرزوئے جدائی بھی اس کو ایک معمو لی سی بات معلوم ہوتی ہے۔ اور دوسرا نصف دائرہ اسماء کونیہ کا ہے کہ امکان اس کے لوازم سے ہے ۔ پس اسماء الٰہیہ جو اٹھائیس اسم کلی ہیںاس قوس وجوب میں رکھے گئے ہیں اور اٹھائیس اسماء کونیہ جو قوس امکان یا قوس کونیہ میں ہیں جب سالک اپنے عین ثانیہ تک پہنچ جاتا ہے اور اس جمعیت کے اعتبار سے جو اس کی عین ثانیہ کو حاصل ہے وہ اس سے مطلع ہوتا ہے تو اس وقت وہ تمام اسمائے الٰہیہ اور اسمائے کونیہ کو اپنے اجزاء پاتا ہے۔ جب اس کا نام اپنے عین کے ساتھ اس کمال اور اسمائے الٰہیہ اور اسماء کونیہ کے ساتھ ہوتا ہے تو ہر آئینہ انا الحق پکار اٹھتا ہے۔(۱۹۱)
احدیت ذات پاک کے اس مرتبہ کو کہتے ہیں جس میں کسی وہم و خیال کسی لفظ کی گنجائش نہ ہو۔ جس کی تعبیر سے زبان قاصر ہو اور جس کے ادراک سے عقل عاجز ہو۔ اسی لئے اس مرتبہ کے لئے جو نام مقرر کئے گئے ہیں ان میںمرتبہ لا تعین ذات بحث وجود المطلق اور بیچون و بے چگون شامل ہیں۔(۱۹۲)
سلسلہ عالیہ چشتیہ میں توحید وجودی اور شہودی:
انسانوں کے لیے صحیح معرفت الٰہی کا ذریعہ صرف انبیاء کرام علیھم السلام کی تعلیمات ہی ہیں ورنہ ہر دور میں انسان اپنے معبود حقیقی کوتلاش کرنے میں غلطی ہی کرتا رہا ہے۔ صرف انبیاء کرام علیھم السلام نے ہی توحید الٰہی کا راستہ بتایا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیتے ہوئے تمام قسم کے مظاہر اور اشیاء کائنات کو سجدہ کرنے کو کفر اور نافرمانی قرار دیتے ہوئے سختی سے منع فرمایا ہے اور اس کو شرک کہا ہے۔ اسی وجہ سے اشیاء کائنات میں خدا کا حلول ہونا اور اللہ تعالیٰ کی صفات اور اختیارات کا دنیاوی اشیاء میں موجود ہونا محال ہے۔ انسان اپنی ناقص عقل کے ذریعے اس بات کا اندازہ لگاتا رہا ہے کہ جب ـخالق کائنات نے اس کائنات اور تمام اشیاء کی تخلیق کی تو مادہ اول کہاں سے لیا اور بعض کے خیال کے مطابق یہ مادہ خدا نے اپنے وجود سے ہی نکالا اور اس سے یہ کائنات وجود میں آئی اس طرح کائنات کی ہر چیزمیں خدا کا وجود سرایت کر گیا ہے۔
حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح ارشاد فرمایا ہے؛
{إِنَّمَا أَمْرُہُ إِذَا أَرَادَ شَیْْئاً أَنْ یَقُولَ لَہُ کُنْ فَیَکُونُ} (۱۹۳)
توحید وجود کے حق میںآیات قرآنیہ اور احادیث:
نظرہ وحدۃ الوجود کے حق میں درج ذیل آیات پیش کی جاتی ہیں۔
۱۔ {وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَیْْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْد}ِ (۱۹۴)
۲۔ {وَإِذَا سَأَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَإِنِّیْ قَرِیْبٌ } (۱۹۵)
۳۔ {وَہُوَ اللّہُ فِیْ السَّمَاوَاتِ وَفِیْ الأَرْضِ} (۱۹۶)
۴۔ {وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَیْْہِ مِنکُمْ وَلَکِن لَّا تُبْصِرُونَ} (۱۹۷)
۵۔ {وَلِلّہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَیْْنَمَا تُوَلُّواْ فَثَمَّ وَجْہُ اللّہِ} (۱۹۸)
۶۔ {ہُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِنُ وَہُوَ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْمٌ} (۱۹۹)
۷۔ {مَا یَکُونُ مِن نَّجْوَی ثَلَاثَۃٍ إِلَّا ہُوَ رَابِعُہُمْ وَلَا خَمْسَۃٍ إِلَّا ہُوَ سَادِسُہُمْ وَلَا أَدْنَی مِن ذَلِکَ وَلَا أَکْثَرَ إِلَّا ہُوَ مَعَہُمْ أَیْْنَ مَا کَانُوا} (۲۰۰)
۸۔ {اللَّہُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ} (۲۰۱)
ان آیات مبارکہ سے اس بات کا استدلال کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ اور ہر چیز میں موجود ہے۔
((عَنْ اَبِّی ھریرۃ ؓ قا ل قال رسول اللہ ﷺ اِنَّ اللّٰہَ قَالَ مَنْ عَادَی بِی وَلِیًّا فَقَدْ آذَنْتُہُ بِالْحَرْبِ وَمَا تَقَرَّبَ اِلَیَّ عَبْدِی بِشَیْئٍ اَحَبَّ اِلَیَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَیْہِ وَمَا یَزَالُ عَبْدِی یَتَقَرَّبُ اِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّی اُحِبَّہُ فَاِذَا اَحْبَبْتُہُ کُنْتُ سَمْعَہُ الَّذِی یَسْمَعُ بِہِ وَ بَصَرَھُ الَّذِی یُبْصِرُ بِہِ وَ یَدَ ھُ الَّتِی یَبْطُشُ بِھَا وَرِجلَہُ الَّتِی یَمْشِی بِھَا وَاِنْ سَاَلْنِی لَاُعْطِیَنَّہُ وَلَئِنْ اسْتَعَاذَنِی لَاُ عِیْذَنَّہُ وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَیْ ئٍ اَنَا فِاعِلُہُ تَرَدَّدِیِ عَنْ نَفْسِ الْمُوْمِنِ یَکْرُھُ الْمَوْتَ وَاَنَا اَکْرَھُ مَسَائَ تَہ))(۲۰۲)
’’ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ۔اللہ تعالیٰ جل جلالہ ارشاد فرماتے ہیں جو شخص میرے کسی ولی سے دشمنی رکھتا ہے میں اس کو خبردار کرتا ہوں کہ میں اس سے لڑوں گا اور میرا بندہ جن عبادتوں سے میرا قرب حاصل کرتا ہے ان میں سے کوئی عبادت مجھ کو اس سے زیادہ پسند نہیں ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے۔ اور میرا بندہ فرض ادا کرنے کے بعد نفل عبادتیں کر کے میرے اس قدر قریب ہو جاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں پھر یہ حال ہو جاتا ہے کہ میں اسے محبت کرنے لگتا ہوں کہ میں ہی اس کا کان ہوتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اور اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کیا پائوں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔اور اگر وہ مجھ سے کچھ مانگتا ہے تو میں اس کو دیتا ہوں اگر وہ کسی سے میری پناہ چاہتا ہے تو اس کو محفوظ رکھتا ہوں۔اور مجھ کو کسی کام میں جس کو میں کرنا چاہتا ہوں اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا اپنے مسلمان بندے کی جان نکالنے میں ہوتا ہے۔ وہ تو موت کو اچھا نہیں سمجھتا اور مجھ کو بھی اس کو تکلیف دینا برا لگتا ہے۔ ‘‘
ایک اور حدیث مبارکہ ہے:
رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔
((اَنَا عِندَ ظَنِّ عَبْدِی بِی وَ اَنَا مَعَہُ اِذَ ذَکَرَ نِیْ فَاِنْ ذَکَرنِی فیِ نَفْسِہِ ذَکَرْتُہُ فیِ نَفْسِی وَاِن ذَکَرَنِی فِی مَلأذَکَرْتُہُ فِی مَلأ خَیرٍ مِنھُم)) (۲۰۳)
’’میں بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق سلوک کرتا ہوں اور جب وہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں پس جب وہ میرا ذکردل میںکرتا ہے تو میں بھی اس کا خفیہ ذکر کرتا ہوں اور جب وہ میرا ذکر کسی مجلس میں کرتا ہے یعنی برملہ کرتا ہے تو میں اس سے بہتر مجلس میں اس کا ذکر کرتا ہوں۔‘‘
((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُولُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: یَا ابْنَ آدَمَ مَرِ ضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِی قَالَ:یَا رَبِّ کَیْفَ اَعُودُکَ ؟وَ اَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِینَ، قَالَ:اَمَا عَلِمْتَ اَنَّ عَبْدِی فُلاَ نًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْہُ اَمَاعَلِمْتَ اَنَّکَ لَوْ عُدْتَہُ لَوَجَدْ تَنِی عِنْدَ ہُ؟ یَا ابْنَ آدَمَ اسْتَطْعَمْتُکَ فَلَمْ تُطْعِمْنِی قَالَ: یَا رَبِّ وَ کَیْفَ اُطعِمُکَ؟ وَ اَنتَ رَبُّ العَالَمِینَ قَالَ: اَمَا عَلِمْتَ اَنَّہُ اسْتَطْعَمَکَ عَبْدِی فُلاَن، فَلَمْ تُطْعِمْہُ؟ اَمَاعَلَمتَ اَنَّکَ لَوْ اَ طْعَمْتَہُ لَوَجَدْتَ ذَلِکَ عِنْدِی، یَا ابْنَ آدَمَ اسْتَسْقَیْتُکَ، فَلَمْ تَسْقِنِی، قَالَ: یَا رَبِّ کَیْفَ اَسْقِیکَ ؟وَاَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِین قَالَ: اسْتَسْقَاکَ عَبْدِی فُلاَنٌ فَلَمْ تَسْقِہِ ،اَمَا اِنَّکَ لَوْ سَقَیْتَہُ وَ جَدْتَ ذَلِکَ عِنْدِی۔)) (۲۰۴)
’’حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ عزوجل فرمائے گا اے ابن آدم ! میں بیمار ہوا تو تو نے میری عیادت نہ کی، وہ آدمی کہے گا اے اللہ میں تیری کیسے عیادت کرتا حالانکہ تو رب العالمین ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا تو تو نے عیادت نہیں کی۔ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا۔ اے ابن آدم میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو نے مجھے کھانا نہ کھلایا۔ وہ آدمی کہے گا اے میرے رب میں تجھے کھانا کیسے کھلاتا حالانکہ تو رب العالمین ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا تو تُو نے اس کو نہیں کھلایا، اگر تو اس کو کھانا کھلا دیتا تو تُو اس کو میرے پاس پاتا۔ اے ابن آدم میں نے تجھ سے پانی مانگا تھا تو نے مجھے پانی نہیں پلایا، وہ آدمی کہے گا اے میرے رب میں تجھ کو کیسے پانی پلاتا حالانکہ تو رب العالمین ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا تو تُو نے اس کو پانی نہیں پلایا، اگر تو اس کو پانی پلا دیتا تو اُس کو میرے پاس پاتا‘‘۔
مندرجہ بالا احادیث سے عقیدہ وحدۃ الوجود کو ظاہر کیاجاتا ہے۔ نظریہ وحدۃ الوجودحضرت شیخ محی الدین ابن عربیؒ المعروف شیخ اکبر نے پیش کیا مگر تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نظریہ ان سے پہلے صوفیاء کرام رحمتہ اللہ علیھم میں موجود تھا اسلام میں تصوف کا آغاز دوسری صدی ہجری اور تیسری صدی ہجری میں پروان چڑھا۔ اس دور کے تقریباََ تمام صوفیاء کرام اس نظریہ کے قائل تھے۔منصور بن خلاجؒ نے اسی غلبہ کی وجہ سے ہی اناالحق کا نعرہ بلند کیا تھا۔ شیخ اکبرؒ نے جب نظریہ وحدۃ الوجود پیش کیا تو تمام علماء اور اولیاء کرام نے خا موشی میں ہی عافیت جانی مگر مجدد الف ثانی ؒ نے اپنے کشف و الہام کے ذریعے اس نظریے کی وضاحت کی اور نظریہ وحدۃ الشہود پیش کیا۔
حضرت بندہ نواز گیسو دراز ؒ کا نظریہ:
حضرت گیسو دراز بندہ نوازؒ فرماتے ہیں کہ حضرت مولانا محی الدین ابن عربی ؒ اور ان کی پیروی کرنے والے جن میںعبدالرزاقؒ اور بہت سے صوفیاء کرامؒ جنہوں نے توحید و تحقیق کا نعرہ لگایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ھو سبحانہ تعالیٰ عین الاشیاء یعنی اللہ تعالیٰ سب چیزوں کی عین یعنی حقیقت ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ان موجودات کے سوا کوئی موجود نہیں وہی ہے جو تمام صور و اشکال میں ظاہر ہوا ہے۔ وہی ظاہر و باطن یعنی وہی حاضر وہی کھلا وہی غائب وہی چھپا ہوا ہے۔ اس شعور کے آجانے کے بعد عارف کا سلوک مکمل ہو جاتا ہے۔ اور ذات باری تعالیٰ جولامتناہی ہے اس کے ایسے ہونے سے نظارہ وقت میںوقتا فوقتا ایک سیر سے دوسری سیر میں آجاتا ہے اور کبھی سیر سے خالی نہیں رہتا جو ایسے ہوتے ہیں ان میں یکتائی دوئی باقی ہے جب وہ لامتناہی ہے تو ٹھہر جانا یا آرام پانا کیسے ممکن ہے۔ اور یہ ہو سکتا ہے کہ بے وقوفی حماقت اور ملامت ہاتھ آسکتی ہے اور اس کے پیروکار یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کو اس طرح اس شکل کے سوا بیان کرنا نتیجہ خیز نہیں ، شکل، حد، وسط، اصغر، اکبر، صغریٰ، کبریٰ، رابطہ، نسبت کے نتیجہ کی یہاں کوئی گنجائش نہیں اور یہ بات درست ہے کہ دریا کا پانی دریا میں مل گیا۔ اور ایک ہو گیا وہ دریا کاپانی جو مختلف صورتیں لئے تھا اپنے ساتھ اپنا نام لے گیا یعنی اس کا نام ہی اس کی دوئی ہے۔ حلقہ مستوی الاطراف یعنی دائرہ کو اگر خط اور نقطہ وہمی سے دو حصوں میںیا اس خط کو درمیان سے اگر تقسیم کر دیں تو وہ حلقہ ویسا نہیں رہتا پہلی شکل نہیں رہتا مگر اس کا اثر ضرور باقی رہتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا قاب قوسین اور ادنیٰ اسی کی طرف اشارہ ہے۔ یہ ایک درست دائرہ تھا اس دائرہ احدی کو خط احمدی آدھا آدھا کر کے لوٹ گیا۔ اصل دائرہ یہی ہو گیا اور دائرہ ویسا نہ رہاجیسا کہ تصور خط و نقطہ کے پہلے تھا۔ اصل اصل کے ساتھ نہ ملے تو جزمن الکل جیسا تو ہو جاتا ہے۔ لیکن کسی صورت جز کل کا محیط نہیں ہو سکتا۔ قطرہ کو دریا کی کیا خبر ہو سکتی ہے یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ اس جز کو اس کل نے ایک ہمت ضرور بخشی ہے اسی لئے یہ چاہتا ہے کہ کل کے ساتھ کل ہو جائے۔ اس کے لئے ممکن نہیں اس لئے یہ مٹ کر کل کے ساتھ ایک ہو کر عین بعین ہونے سے یعنی ایک ہو جانے سے ھو ھو کا تصور پیدا کر لیتا ہے۔(۲۰۵)
اور یہ جان لو کہ حضرت محی الدین ابن عربی ؒ اور دوسرے محققین نے جو وجود کو ایک کہا ہے اور جو کہا ہے وہ اتنے وجودات سے متمثل ہے اس جہاںا ور اس جہاں کی ساری نعمتیں جنت کی تمام آرام دہ چیزیں دوزخ کی تمام کی تمام تکلیف دینے والی چیزیں ثواب، عذاب ، عرش جو سب سے اونچا مقام اور تحت الثریٰ جو سب سے نچلا مقام ہے تمام چھوٹے بڑے عزیر و ذلیل بزرگ اور حقیر ایک ہی وجود ہیں اس کے سوا کوئی وجود نہیں مگر محمد حسینی ؒ جو کہ نور مرتضوی سے روشن اور جلایا ہوا ہے اور ضیاء مصطفائی سے چمک دمک رہا ہے وہ یہ کہتا ہے کہ ان تمام وجودات کے ساتھ کہ جن کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کا فیض ہے جو سارے صور و اشکال میں متصور اور متشکل ہے یعنی تمام صورتوں میں اور تمام مشکلوں میں اس کا فیض اس کی صورت و شکل سے لیا گیا ہے۔ اور وہ ان موجودات سے سوا ایک وجود ہے۔ یہ اس کا فیض اپنے سب صورو اشکال کے باوجود اس کے سامنے حساب کے لحاظ سے اس ذات سے ایک لاکھ مرتبہ اس طرح کم تر ہے جیسے دریائے محیط یاسات سمندروں کے مقابل ایک قطرہ ہو۔(۲۰۶)
اس کے علاوہ حضرت گیسو دراز بندہ نوازؒ کتاب جوامع الکلم میں لکھتے ہیں؛ مسلہ وحدۃ الووجود درست ہے یعنی وہی ہے جس نے صورت بہشت اپنی صفت رحمت سے پیدا فرمائی اور ظاہر کی اور وہی ہے جس نے صورت دوزخ اپنی صفت قہر سے پیدا فرمائی ۔ ہر نیکی پیدا فرمائی اور بدی پیدا فرمائی پھر بدی کو قہر سے لیا کیونکہ نسبت رکھتی تھی اور نیکی کو کرم سے نوازہ کیونکہ ہر چیز اپنی جنس سے میل رکھتی ہے۔ اب اللہ کی رضا نیکی سے حاصل ہے کیونکہ اس کا منبع رحمت اور لطف ہے اور اس کا غصہ اور غضب اور قہر بدی کی وجہ سے ہوا کیونکہ وہ اس کا لازمی نتیجہ ہے۔پس مرد احمق نادان اور ہوس کا پیروکار تو اتنا تو سوچ کہ تجھ سے کیا فعل ظاہر ہوتا ہے ۔ نیکی یا بدی کیونکہ جو کچھ تو ہے وہی تجھ سے ظاہر ہو گا اور اس کے مطابق تیرا خاتمہ ہو گا،۔ جو شخص جس کام کے لئے پیدا کیا جاتا ہے وہ کام اس کے لئے آسان ہو جاتا ہے عذاب دوزخ برے کاموں کا نتیجہ ہے اور جنت نیکی کے کاموں کا انجام ہے۔ تم اپنے تمام علم و دانش کے باوجود ان دو صورتوں کے سوا کوئی تیسری صورت خیال میں نہیں لا سکتے یہ نا ممکن ہے۔ نیکی اتباع شریعت کا دووسرا نام ہے۔ اور بدی شریعت کی خلاف ورزی کا نام ہے۔ اس لئے جنت نیکی کے سوا حاصل نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ لطافت کو لطافت لازم ہے۔ اس لئے بہت سے اصحاب علم و دانش میں سے بھی دوزخ میں ہوں گے اور عذاب دوزخ برداشت کریں گے۔ اور گریہ زاری کریں گے اب یہ ہمہ اوست نہیں ہے جو ان پر عذاب کر رہا ہے بلکہ حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ہی تم کو عذاب نازل کر رہا ہوں جس طرح کسی نے کام کئے اسی مطابق اس کا حشر ہوا لیکن وہی ہمہ اوست اور وہی دوزخ ہے اور چلا رہا ہے جو ہمہ اوست کی آڑ میں شریعت کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ آتش دوزخ سے نجات سوائے اتباع رسول ﷺ کے ممکن نہیں ۔ ان مسائل سے ظاہر ہے کہ مسائل شریعت و امور اخروی ، حقائق و معارف طریقت سے علیحدہ نہیں ہیں بلکہ اس کے عین مطابق ہیں اور کوئی اشکال باقی نہیں رہتا۔(۲۰۷)
اس کی شرح میں واحد بخش سیال فرماتے ہیں کہ حضرت گیسو دراز بندہ نواز ؒ کے بیان کا خلاصہ و مدعا و مقصد یہ ہے کہ یہ جو لوگ جن میںصوفیاء اور عالم لوگ بھی شامل ہیں کہ جب وحدت الوجود حق ہے تو پھر کون سا خدا او رکون مسجود اور کہاں کا عذاب اور کہاں کا ثواب وہ لوگ یہ نہیں جانتے کہ بے شک وجود باری تعالیٰ کے سوا کسی اور چیز کا وجود نہیں لیکن باری تعالیٰ بھی مختلف صفات سے متصف ہے۔ وہ رحمن بھی ہے اور قہار بھی ہے۔ چنانچہ اس نے اپنی صفت رحمت سے بہشت کو پیدا کیا اور اس کے حصول کا ذریعہ نیک اعمال کو بنایا جو پابندی شریعت کا دوسر انام ہے۔ اس طرح اس نے اپنی صفت قہار سے دوزخ کو پیدا کیا اور اعمال بد کو دوزخ میں جانے کا ذریعہ بنایا۔اگرچہ مسئلہ ہمہ اوست حق ہے لیکن رحمت اور قہاری بھی اس کی صفات ہیں ۔ حق تعالیٰ کی کوئی صفت معطل نہیں رہتی بلکہ ہر وقت اور ہر آن مصروف بکا ر ہتی ہے۔ لہٰذا وحدت الوجود کے قائل کو ذات حق کی صفت رحمت اور قہر کا بھی قائل ہونا پڑے گا۔ اور اس کے ساتھ جنت و دوزخ کو بھی ماننا پڑے گا۔ اب چونکہ ہر چیز اپنی اصل کی طرف رجوع کرتی ہے ۔ انسان کے اعمال صالحہ جو رحمت حق کی پیداوار ہیں بہشت کے حق دار اور اعمال بد جو اس کی صفت قہر کا نتیجہ ہیں دوزخ کے سزا اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نظریہ وحدت الوجود کے باجوود پابندی شریعت ضروری ہے۔ حقائق و معارف طریقت کے لحاظ سے بھی پابندی شریعت ضروری ہے۔ اس لئے جو صوفی وحدت الوجود کی آڑ میںخلاف شرح جرم کرتے ہیں، اپنے اعمال کی سزا پائیں گے۔ لہٰذا پابندی شریعت اصحاب طریقت کے لئے ضروری ہے ۔ اور جو علمائے ظاہر کا خیال ہے کہ عقیدہ وحدت الوجود سے شریعت منہدم ہو جاتی ہے بالکل غلط ہیں بلکہ عقیدت وحدۃ الوجود پر ایمان نہ رکھنے سے شریعت کی خلاف ورزی لازم آتی ہے۔ کیونکہ شریعت اسلامیہ کی رو سے حق تعالیٰ اپنی ذات اور صفات میںلا محدود ہے اور اگر کائنات یا اشیاء کائنات کا ذات حق کے سوا علیحدہ وجود تسلیم کر لیا جائے جیسا کہ علماء ظاہر کا عقیدہ ہے تو اللہ تعالیٰ محدود ہو جاتا ہے۔ یعنی کائنات میں نہیں ہے باقی ہر جگہ موجود ہے۔ اور جب کائنات اس سے خالی ہے تو پھر لازمی محدود ہو جاتا ہے۔ امام ابن تیمیہ ؒ نے ان عقائدا کو الجھا دیا جن کا عقیدہ تھا کہ حق تعالیٰ کائنات میں موجود ہی نہیں بلکہ وہ اوپرعرش پر بیٹھا اہو اہے اور کائنات کو دیکھ رہا ہے۔ آپ کے اس عقیدہ کی وجہ سے ان پر کفر کے فتوے بھی لگائے گئے۔حالانکہ ذات باری تعالیٰ جسم سے پاک ہے۔اور انہوں نے استوا علی العرش کو اس نقطہ کا مرکز بنایا۔ اور کہا کہ خدا عرش پر بیٹھ کرکائنات کا نظام چلا رہا ہے۔ اور عرش کے متعلق دوسری آیات پر غور نہیں کیا۔ یعنی ذات حق کے سوا کسی شے کا وجود نہیں ہے۔ بلکہ ہر چیز کا وجود ظلی عارضی اور اعتباری ہے حقیقی نہیں ہے۔ وحدۃ الوجود کا یہ مطلب نہیں کہ سب چیز خدا ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ خدا سے کوئی چیز جدا نہیں مثلاََ زید کاہاتھ زید نہیں ہے لیکن زید سے جدا بھی نہیں ہے۔ مولانا جامی ؒ فرماتے ہیں مخلوق کا خلق کے ساتھ تعلق اس نوعیت کا نہیں ہے جیسا کہ جزو کامل کے ساتھ یا ظرف کا مظروف کے ساتھ بلکہ یہ تعلق صفت اور موصوف کا ہے اور لازم وملزوم کا جس طرح ایک کتاب اپنے مصنف کی صفت علم کا نتیجہ ہے اسی طرح یہ کائنات یا کل مخلوق بھی صفت تخلیق کا نتیجہ ہے۔ اب چونکہ صفت موصوف سے جدا نہیں ہے اس لئے کائنات کا وجود خالق کائنات سے علیحدہ نہیں ہے۔ جسے ایک کتاب مجازی طور پر مصنف سے الگ اور حقیقی طور پر مصنف میں شامل ہے۔ اسی طرح کائنات بھی مجازی طور پر اللہ تعالیٰ سے علیحدہ ہے لیکن حقیقی طور پر مصنف میں شامل ہے۔ اسی طرح کائنات بھی مجازی طور پر ـحق تعالیٰ سے علیحدہ ہے لیکن حقیقی طور پر ذات حق میں شامل ہے۔ اگر علیحدہ قرار دیا جائے تو ذات حق محدود ہو جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کو محدود جاننا کفر ہے۔(۲۰۸)
حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی کا نظریہ وحدت الوجود:
حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی ؒ فرماتے ہیں مسلۂ وحدۃ الوجود کے اصل بنیاد شیخ محی االدین ابن عربی ؒ ہیں مولانا جلال الدین رومیؒ نے بھی اس مسئلہ کو تقویت بخشنے کے لئے مثنوی میں پر جوش انداز بیان کے ساتھ ایک بھرپور کوشش کی ہے اور فرمایا مسلۂ وحدت الوجود کی بنیاد محی الدین ابن عربیؒ نے رکھی اور اس کی تکمیل مولانا جامی کے ہاتھوں ہوئی۔ مثنوی کے ایک شعر کی تشریح میں آپ فرماتے ہیں دریائے وحدت میں تمام اشیاء ازل کے وقت واجب الوجود تھیں اور غربیت کا شائبہ تک نہ تھا۔ اس کے بعد اچانک دریائے وحدت میں جنبش آئی اور تمام اشیائے موہوم نے اپنے آپ کو دیکھا اس کے بعد ممکن واجب الوجود تھیں اور غربیت کا شائبہ تک نہ تھا۔ اس کے بعد اچانک دریائے وحدت میں جنبش آئی اور تمام اشائے موہوم نے اپنے آپ کو دیکھا اس کے بعد ممکن واجب سے جدا ہو گیا ور دوئی کا آئین جاری ہو ااس کے بعد دریائے بیکراری سے ایک موج اٹھی اور ساحل پر آکر ٹوٹ پڑی اسی طرح کئی بار تقرار ہوا اور دنیا میں اجسام ظہور پذیر ہوئے اور اپنی اصل سے بہت دور جا پڑے پس وطن کی محبت گریبان گیر ہوئی اور ہر طرف آہ و نالہ کی صدائیں بلند ہوئیں اور فرمایا جس طرح فاعل کے بغیر فعل ممکن نہیں اسی طرح فانی فی للہ باقی با للہ عارف ربانی کی حرکات و سکنات مثلاََ دیکھنا، سننا، کہنا، جاننا وغیرہ بغیر اس واجب الوجود کے پر تو کے ظہور پذیر نہیں ہوتیں اور عارف کے وجود کی جدائی کے مراحل یہ ہیں۔ پہلے وہ مرتبہ احدیت میں تھا پھر مرتبہ نزولی یعنی وحدت پھر مرتبہ وحدت سے واحدیت اور واحدیت سے عالم ارواح اور وہاں سے عالم مثال وہاں سے عالم نباتات پھر عالم جمادات و حیوانات اور اس کے بعد عالم اجسام میں متشکل ہو اوراپنی اصل سے جدا ہونے کی شکایت کرنے لگا۔(۲۰۹)
آپ سے سید اکرام شاہ نے پوچھا مسئلہ وحدت الوجود سے علماء ظاہر سے انکار کی کیا وجہ ہے تو آپ نے جواب دیا اکثر اہل علم تو بے خبری کی وجہ سے انکار کرتے ہیں اندھے کو بینائی کا لطف کیسے محسوس ہو، ورنہ در حقیقت اس مسئلے کی صداقت میں کسی شک و ابہام کی کوئی گنجائش نہیں۔
آپ نے فرمایا کہ مسئلہ وحدۃ الوجود کے بارے میں سالک کو چاہیے کہ وہ اس سلسلہ کو پوشیدہ رکھے اور فرمایا توحید شریعت سے مراد اللہ تعالیٰ کی یگانگت اوررسول خدا کی رسالت پر ایمان لاناہے او ر توحید طریقت سے مراد تمام ماسوا الہ کی نفی کر دینا اور فنا حاصل کرنا یعنی ذات حق کے سوا کسی کو موجود نہ جاننا۔
آپ سے کسی نے مسئلہ توحید کے بارے میں پوچھا تو آپ نے تختی پر فارسی عبارت لکھ کر اسے دی کہ لا الہ الا اللہ یعنی اللہ کی ذات کے سوا کوئی موجود نہیں لہذا یہ دنیا اور آخرت ذات کے تعینات ہونے کے علاوہ کچھ بھی نہیں چنانچہ زید، عمر، بکر وغیرہ تعینات اور خواص میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور اصل میں تمام انسان ہیں اسی طرح ذات مطلق تعینات اور خواص میں متنوع اور متعدد نظر آتی ہیں اور حقیقت میں ایک ہی ہیں جب پردے اٹھتے ہیں تو حقیقت ایک ہی نظر آتی ہے اور لا موجود الا اللہ کے یہی معنی ہیں سالک کو سلوک کی منازل طے کرنے کے دوران اس کو مد نظر رکھنا ضروری ہے(۲۱۰)۔
جب سالک اپنی بشری صفات کو صفات الٰہیہ میںفنا کرتا ہے اور صفات ربانی کا ظہور اس پر غلبہ پاتا ہے یہ قرب نوافل ہے اور سالک اپنی ہستی کو فنا کر دے حتی کہ وہ تمام موجودات کے شعور سے بے خبر ہو جائے چنانچہ اس کی نظر میں ذات باری تعالیٰ کے علاوہ کچھ نہ رہے یہ قرب فرائض ہے۔(۲۱۱)
حضرت عبدالقدوس گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کا نظریہ وحدت الوجود:
حضرت عبدالقدوس گنگوہی مکتوبات قدوسیہ میں فرماتے ہیں کوئی چیز خدا سے جدا نہیں مگر حقیقت کو دیکھنے والی نظر ہو تو ان میںکوئی تضاد نہیں کیونکہ کائنات حق تعالیٰ کی صفت تخلیق کا مظہر ہے پس اگر صفت کو موصوف کا غیر تصور کیا جائے تو کائنات غیر نہیں عین ہے صرف نقطہ نظر کا فرق ہے۔ ایک نقطہ نظر سے عین ہے اور ایک سے غیر ہے۔ عین فراق کی حالت میں وصال ہے اور عین وصال کی حالت میں فراق ہے۔ فوق کے یہ معنی ہیں کہ ذات باری تعالیٰ کی کوئی انتہا نہیں اس لئے واصل سالک منزلوں پر منزل طے کرتا ہوا جہاں پہنچتا ہے اس سے اوپر ایک اور منزل نظر آتی ہے۔ اسی طرح یہ سلسلہ جاری رہتا ہے نہ پرواز کی حد ہے نہ ذات کی کوئی حد ہے۔ شیخ سعدی ؒ نے اسی لئے فرمایا ہے نہ اس کے حسن کی حد ہے اور نہ سعدی تعریف کرنے سے باز آتا ہے۔ حتی کہ مرض استسقاء کے مریض کی طرح دریا پر بیٹھے پانی پی پی کرمر جاتا ہے اور دریا اسی طرح چلتا رہتا ہے۔(۲۱۲)
مردان خدا اللہ تعالیٰ کے وجود کے سوا کسی کے وجود کے قائل نہیں ہیں ان کے نزدیک وجود حقیقی وہی ایک وجود ہے۔ وہ واجد الوجود اور واجب الوجود ہے۔ اگرچہ حقیقت کے اعتبار سے وجود وہی ایک وجود ہے۔ اوریہ ایک راز ہے اور یہ راز اللہ اور بندے کے درمیان ہے۔ اور یہ راز خلاصہ کائنات یعنی حضرت انسان کا راز ہے جو اس کے سینے میں ہے اور یہ راز سوائے حق تعالیٰ کے کچھ نہیں۔ عارف جنت میں خدا کے لئے ہوتا ہے۔ جنت کے لئے نہیں ہوتا بلکہ جنت عرش، فرش اور اٹھارہ ہزار عالم، حورو قصور اور خوردونوش سب خدا کے لئے ہیں اگرچہ ظاہری طور پر یہ دنیاوی معاملات ہیں مگر ان کا بطون وہی حق تعالیٰ ہے مگر حس و عقل کے اعتبار سے وجود کی دو اقسام ہیں وجود واجب اور وجود ممکن واجب کو قدیم اور ممکن کو حارث کہتے ہیں جو دونوں طرفوں یعنی طرف عدم اور طرف وجود سے برابر فاصلے پر ہے۔ طرف وجود حق تعالیٰ کی طرف سے ہے اور طرف عدم امتناع کی طرف سے ہے۔ لہْذا ممکن عدم کے سوا کچھ نہیں اور ممکن کا وجود عارضی ہے وجود صرف اللہ تعالیٰ کا ہی ہے ممکن کو ممکن اس لئے کہتے ہیں کہ واجب اور امتناع دونوں کا اس کے اندر امکان ہے۔ اور وجوب و حدوث کے ذریعے میدان میں آیا اور جائز ہوا ورنہ تحقیق کی رو سے وجود وہی حق تعالیٰ کا وجود ہے۔ باقی سب نا موجود ہے۔(۲۱۳)
حضرت شاہ سید محمد ذوقی ؒ فرماتے ہیں نور کی خاصیت یہ ہے کہ خود بھی ظاہر ہوتا ہے اور دوسری چیزوں کو بھی روشن کرتا ہے۔اگر روشنی نہ ہو تو آنکھیں کچھ نہیں دیکھ سکتیں، اسی لئے زمین و آسمان کا نور ہے اس لئے ہم کہتے ہیں جو کچھ دیکھتے ہیں اللہ سے دیکھتے ہیں۔آنکھیں اور نور دو دیکھنے کی چیزیں ہیں اگر آنکھیں ہیں لیکن نور نہیں ہے تو کچھ نظر نہیں آئے گا ۔ اگر نور ہے اورآنکھیں نہیں ہیں تب بھی ہمیں کچھ نظر نہیں آئے گا(۲۱۴)۔ اس سے ظاہر ہے کہ دیکھنے کے لئے ہم دونوں چیزوں کے محتاج ہیں۔ نور اور آنکھوں کا اب نور اللہ کا ہے اور آنکھوں میں بھی اللہ کا نور ہے اور آنکھیں اللہ نے دی ہیں۔ اس لئے نور اور آنکھوں سے دیکھنا گویا اللہ سے دیکھنا ہے اور دیکھتے کس کو ہیں اللہ کو دیکھتے ہیں۔ غیر کا وجود ہی نہیں ہے، اللہ کو اللہ سے دیکھتے ہیں اب چونکہ ہماری آنکھیں اسی کا نور ہیں اس لئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ اپنے آپ کو دیکھتا ہے، تمام اذکار اور مشاغل کی عرض و غایت یہی ہے۔ ہمارا وجود ہی نہیں سوال یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر وہ ہر چیز میں موجود ہے اور سب کچھ وہی ہے تو نظر کیوں نہیں آتا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ دن رات کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے اگر دنیا میں کوئی بدصورت نہ ہو تو خوبصورت کو خوبصورت کوئی نہیں کہے گا۔ اب چونکہ اللہ تعالیٰ کی ضد نہیں ہے۔ اس لئے اس کا نظر آنا مشکل ہے۔ اسی وجہ سے اذکار اور مشاغل سے مدد لی جاتی ہے۔(۲۱۵)
عقیدہ وحدت الوجود نہایت ہی مشکل مسئلہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا تعلق ذات باری تعالیٰ سے ہے۔ انسانی عقل محدود اور ذات باری تعالیٰ لا محدود ہے۔ اس لئے اس تک رسائی ممکن نہیں ہے۔ وحدہ الوجود کی حقیقت صرف ان حضرات پر ظاہر ہوتی ہے۔ جو تزکیہ نفس کی منازل طے کرتے ہیں اور عالم اجسام سے اعلیٰ مقام میں پہنچتے ہوئے عالم ارواح، عالم جبروت اور عالم لاہوت کی منازل کی سیر کرتے ہیں اسی وجہ سے اہل ظاہر کثرت وجود کے قائل ہیں کیونکہ وہ اس کائنات میں بہت سی چیزوں کو دیکھتے ہیں اور اہل باطن وحدت الوجود کے قائل ہیں کیونکہ ان ان کے نزدیک وجود صرف ایک ہے اور ایک وجود ذات باری تعالیٰ کا ہے کیونکہ وہ ذات لا محدود ہے اگر اس کو محدود مانا جائے تو یہ کفر ہے۔ نظریہ وحدۃ الوجود کا اصل مفہوم بھی یہ ہے کہ ہر چیز کا وجود وجود باری تعالیٰ کے قائم رکھنے کی وجہ سے ہے۔

۲۷۔ محمد سعید احمد،مجددی،شرح مکتوبات ، جلد اول ص ۱۶۱۔
۲۸۔ ایضاً، جلد چہارم، ص۲،۵۔
۲۹۔ ایضاً، جلددوم، ص ۳۵۰
۳۰۔ مسعود الرحمن ، نقشبندی،منہاج السلوک، ص۹
۳۱۔ محمد سعید احمد،مجددی،شرح مکتوبات ، جلد اول، ص ۱۶۲
۳۲۔ ایضاً، ص ۱۶۰
۳۳۔ ایضاً، ص ۲۵۸
۳۴۔ ایضاً، ص ۱۶۲
۳۵۔ ایضاً، ص ۱۶۲
۳۶۔ جامی،عبدالرحمن ،(مترجم اردو:سید احمد علی چشتی) ، نفخات الانس، ص ۳۸۶۔
۳۷۔ “سورۃ التوبہ ۹:۱۱۹”
۳۸۔ ایضاً، ص ۳۷۰
۳۹۔ مجدد الف ثانی، احمدبن عبد الاحد، سرہندی،مکتوبات امام ربانی،(مترجم اردو: قاضی عالم دین نقشبندی )،جلد اول، ص ۲۱۲۔
۴۰۔ ـ”سورۃ القلم ۶۸: ۴”
۴۱۔ قطب الدین ،دمشقی،امداد سلوک، ص ۴۸۔
۴۲۔ ضیاء اللہ، نقشبندی، مقاصد السالکین،ص۴۵
۴۳۔ مجدد الف ثانی، احمدبن عبد الاحد، سرہندی،مکتوبات امام ربانی،(مترجم اردو: قاضی عالم دین نقشبندی )، دفتر اول مکتوب نمبر ۱۶۱۔
۴۴۔ نظام الدین اولیاءؒ ،محمد بن احمد،راحت المحبین،مرتب :حضرت خوا جہ امیر خسرو ؒ(مشمول: ہشت بہشت ، علامہ شکیل مصطفٰی اعوان، ص ۷
۴۵۔ چراغ دہلی، نصیر الدین محمود ،مفتاح العاشقین،مرتب :حضرت خوا جہ محب اللہ ؒ(مشمول: ہشت بہشت ، علامہ شکیل مصطفٰی اعوان، ص ۶
۴۶۔ ایضاً، ص ۱۲
۴۷۔ “سورۃالمائدہ ۵:۳۵”
۴۸۔ قطب الدین ،دمشقی،امداد سلوک، ص ۱۳۶۔
۴۹۔ محمد اختر، حکیم ،منازل سلوک ،کتب خانہ مظہری کراچی، ص ۱۱۔
۵۰۔ سہروردی ،شہاب الدین، (مترجم اردو: مولانا ابو الحسن ) ،عوارف المعارف، ص ۵۰۵۔
۵۱۔ معین الدین ،چشتی ،اجمیری ،دلیل العارفین،مرتب :حضرت شیخ قطب الدین بختیار کاکی ؒ(مشمول: ہشت بہشت ، علامہ شکیل مصطفٰی اعوان ، ص ۴۶۔
۵۲۔ چراغ دہلی، نصیر الدین محمود ،مفتاح العاشقین،مرتب :حضرت خوا جہ محب اللہ ؒ(مشمول: ہشت بہشت ، علامہ شکیل مصطفٰی اعوان، ص ۶۳۵
۵۳۔ شاہ ولی اللہ،قطب الدین ، القول الجمیل،(مترجم اردو: حاجی محمد زکی)،ص ۶۸
۵۴۔ غلام سرور ،لاہوری،خزینتہ الاصفیاء، جلد دوم، ص ۶۴
۵۵۔ گیسو دراز،محمدبندا نوازؒ، فوائد حضرت بندہ نواز گیسو دراز ؒ، ص ۵۹
۵۶۔ گنگوہی ،عبدالقدوس ،مکتوبات قدوسیہ، ص ۴۳۹
۵۷۔ ایضاً، ص ۳۱۱
۵۸۔ ہجویری ،علی بن عثمان ،داتا گنج بخشؒ، کشف المحجوب،(مترجم اردو: علامہ فضل الدین گوہر) ، ص ۴۴۲۔
۵۹۔ ابو نصرسراج ، عبداللہ بن محمد بن یحییٰ، کتاب المع ،(مترجم اردو: سیداسرار بخاری)، ص ۳۳۸۔
۶۰۔ غلام فرید ،ملفوظات بنام مقابیس المجالس (جمع و ترتیب مولانا رکن الدین) الفیصل ناشران و تاجران کتب ،لاہور، س۔ن، ص ۲۷۲۔

۶۱۔ غلام فرید ،ملفوظات بنام مقابیس المجالس (جمع و ترتیب مولانا رکن الدین)، ص ۶۸۶۔
۶۲۔ سمنانی ،اشرف جہانگیر ، لطائف اشرفی، جلد اول، ص ۶۷۴۔
۶۳۔ چراغ دہلی ، نصیرالدین محمود ، خیرالمجالس ،(مترجم اردو: احمد علی )، ص ۹۲۔
۶۴۔ محمد عبدالصمد ،چشتی،اصطلاحات صوفیہ ، دلی پرنٹنگ ورکس، دہلی ،جنوری ۱۹۲۹ٔٔء، ص ۷۴
۶۵۔ غلام فرید ،ملفوظات بنام مقابیس المجالس (جمع و ترتیب مولانا رکن الدین)، ص ۵۱۵
۶۶۔ سمنانی ، اشرف جہانگیر ، لطائف اشرفی، جلد اول، ص ۱۸۸
۶۷۔ غلام فرید ؒ ،مقابیس المجالس، ص ۵۱۴
۶۸۔ محمد عبدالصمد ،چشتی،اصطلاحات صوفیہ ، ، ص ۱۳۳
۶۹۔ چراغ دہلی ، نصیرالدین محمود ، خیرالمجالس، ص ۴۰
۷۰۔ سمنانی ، اشرف جہانگیر ، لطائف اشرفی، جلداول، ص ۱۸۸
۷۱۔ ایضاً، ص ۱۹۰
۷۲۔ “سورۃ العنکبوت۲۹:۶۹”
۷۳۔ محمد عبدالصمد ،چشتی، اصطلاحات صوفیاء، ص ۷۱۔
۷۴۔ سمنانی ، سید اشرف جہانگیر ، لطائف اشرفی جلد دوم، ص ۳۸۱۔
۷۵۔ القشیری، عبدالکریم بن ہوازن ، ابو قاسم ،رسالہ قشیریہ، (مترجم اردو: شاہ محمد چشتی )ادارہ احکام القراان، لاہور، ۲۰۰۷ء ص ۱۵۶۔
۷۶۔ ایضاً ، ص ۱۵۶
۷۷۔ ایضاً ، ص ۱۵۷
۷۸۔ ایضاً، ص ۱۵۹
۷۹۔ سمنانی ، اشرف جہانگیر ، لطائف اشرفی ، جلد دوم، ص۳۶۵
۸۰۔ جیلانی ، عبدالقادر ،(مترجم اردو: راجہ رشید محمود ) ،فتوح الغیب، ص ۱۴۶
۸۱۔ گنج شکر،فرید الدین،اسرارالاولیاء،مرتب : حضرت خوا جہ بدر الدین عینی ؒ (مشمول: ہشت بہشت ، علامہ شکیل مصطفٰی اعوان،ص ۲۸۳
۸۲۔ نظام الدین اولیاء ؒ ،محمد بن احمد،فوائد الفواد،مرتب : امیر حسن علی سنجری ؒ(مشمول: ہشت بہشت ، علامہ شکیل مصطفٰی اعوان، ص ۳۲۷۔
۸۳۔ القشیری، عبدالکریم بن ہوازن ، ابو قاسم ،رسالہ قشیریہ، (مترجم اردو: شاہ محمد چشتی )، ص ۱۷۵۔
۸۴۔ محمد عبدالصمد ،چشتی، اصطلاحات صوفیاء، ص ۸۱۔
۸۵۔ سمنانی ، اشرف جہانگیر ، لطائف اشرفی، جلد اول، ص ۳۳۲۔
۸۶۔ ایضاً، ص ۴۷۴
۸۷۔ القشیری، عبدالکریم بن ہوازن ، ابو قاسم ،رسالہ قشیریہ، (مترجم اردو: شاہ محمد چشتی )، ص ۱۴۵۔
۸۸۔ ابو نصر سراج ، عبداللہ بن محمد ،(مترجم اردو: سیداسرار بخاری)،کتاب اللمع، ص ۵۴۷۔
۸۹۔ ہجویری ، علی بن عثمان داتا گنج بخشؒ،(مترجم اردو: علامہ فضل الدین گوہر) ،کشف المحجوب، ص ۴۳۲۔
۹۰۔ المہاجرالمکی ،امداد اللہ ؒ،کلیات امدادیہ، ۳۴۔
۹۱۔ گنگوہی ، عبدالقدوس ،مکتوبات قدوسیہ، ص ۴۹۵۔
۹۲۔ ایضاً، ص ۴۸۳۔
۹۳۔ محمد عبدالصمد ،چشتی،اصطلاحات صوفیاء، ص ۶۴۔
۹۴۔ ایضاً، ص۶۵۔
۹۵۔ گیسو دراز،محمدحسینی،بندہ نواز، فوائد حضرت گیسو درازمحمدبندہ نوازؒ،(مترجم اردو: محمد معشوق حسین جان) ،سیرت فاؤنڈیشن ، لاہور ، ۲۰۰۳ء ص ۳۷۔
۹۶۔ گیسو دراز، محمدحسینی،بندہ نواز،خاتمہ ترجمہ آداب المریدین، (مترجم اردو: سید یٰسین علی نظامی )،پروگریسو بکس ،لاہور، ۲۰۰۰ئص۱۱۶
۹۷۔ ابو نصر سراج ، عبداللہ بن محمد ،(مترجم اردو: سیداسرار بخاری)،کتاب اللمع، ص ۶۰۲
۹۸۔ سمنانی ، اشرف جہانگیر ، لطائف اشرفی، ص ۳۱۵
۹۹۔ محمد عبدالصمد ،چشتی، اصطلاحات صوفیاء، ص ۲۵
۱۰۰۔ ایضاً، ص ۲۶
۱۰۱۔ گیسو دراز،محمدحسینی،بندہ نواز، فوائد حضرت گیسو درازمحمدبندہ نوازؒ،(مترجم اردو: محمد معشوق حسین جانؒ) ، ص ۷۵
۱۰۲۔ ہجویری ، علی بن عثمان داتا گنج بخشؒ،کشف المحجوب، ص ۵۲۷
۱۰۳۔ ایضاً ، ص ۵۲۷

۱۰۴۔ گیسو دراز،محمد،بندہ نواز، شرح جوامع الکلم، (مترجم اردو: کپتان واحد بخش سیال) ،ص ۲۶۶۔
۱۰۵۔ ایضاً،ص ۵۷۸۔
۰۶ا۔ “سورۃ الزمر ۳۹:۱۸”
۱۰۷۔ القشیری،ا عبدالکریم بن ہوازن، (مترجم اردو: شاہ محمد چشتی ) ،رسالہ قشیریہ، ص ۳۹۰۔
۱۰۸۔ بختیار کاکی، قطب الدین ،فوائد السالکین،مرتب :حضرت شیخ فرید الدین گنج شکر ؒ (مشمول: ہشت بہشت ، علامہ شکیل مصطفٰی اعوان ،ص ۱۰۳۔
۱۰۹۔ گنج شکر ،فرید الدین، راحت القلوب، مرتب :حضرت خوا جہ نظام الدین اولیاء ؒ(مشمول: ہشت بہشت ، علامہ شکیل مصطفٰی اعوان، ص ۱۳۰
۱۱۰۔ گنج شکر،فرید الدین،اسرارالاولیاء،مرتب : حضرت خوا جہ بدر الدین عینی ؒ (مشمول: ہشت بہشت ، علامہ شکیل مصطفٰی اعوان،ص ۳۸۰
۱۱۱۔ ایضاً،ص ۳۰۸
۱۱۲۔ شبیر حسن ، نظامی ،سیرت حضرت گیسو دراز بندہ نوازؒ، ص ۷۰
۱۱۳۔ ابو نصر سراج ، عبداللہ بن محمد ،(مترجم اردو: سیداسرار بخاری)،کتاب اللمع، ص ۴۶۱
۱۱۴۔ واحدبخش ،کپتان ،تربیت العشاق ، محفل ذوقیہ کراچی ،۱۹۵۸ء، ص ۸۱۰۔
۱۱۵۔ غلام فرید ؒ ،مقابس المجالس، ص ۱۹۵۔
۱۱۶۔ عبدالرحمن ،چشتی،مرآۃ الاسرار، ص ۳۷
۱۱۷۔ چراغ دہلی، نصیر الدین محمود ،مفتاح العاشقین،مرتب :حضرت خوا جہ محب اللہ ؒ(مشمول: ہشت بہشت ، علامہ شکیل مصطفٰی اعوان، ۶۳۹
۱۱۸۔ ایضاً،ص ۶۴۰۔
۱۱۹۔ عبدالرحمن ،چشتی،مرآۃ الاسرار، ص ۳۸
۱۲۰۔ ایضاً، ص ۳۸
۱۲۱۔ ایضاً، ص ۳۹

۱۲۲۔ عبدالرحمن ،چشتی،مرآۃ الاسرار، ص ۵۰
۱۲۳۔ مہاجر مکی،امداد اللہ ؒ،کلیات امدادیہ، ص ۱۴
۱۲۴۔ ایضاً، ص ۱۴۔
۱۲۵۔ ایضاً، ص ۱۲۔
۱۲۶۔ شاہ ولی اللہ،قطب الدین ، القول الجمیل،(مترجم اردو: حاجی محمد زکی)، ص ۶۶۔
۱۲۷۔ گنج شکر،فرید الدین،اسرارالاولیاء،مرتب : حضرت خوا جہ بدر الدین عینی ؒ (مشمول: ہشت بہشت ، علامہ شکیل مصطفٰی اعوان، ص ۲۳۸۔
۱۲۸۔ چراغ دہلی، نصیر الدین محمود ،مفتاح العاشقین،مرتب :حضرت خوا جہ محب اللہ ؒ(مشمول: ہشت بہشت ، علامہ شکیل مصطفٰی اعوان،ص ۶۴۱۔
۱۲۹۔ گیسو دراز،محمد،بندہ نواز، یازدہ رسائل ،(مترجم اردو: قاضی احمد عبدالصمد چشتی)، ص ۲۰۲۔
۱۳۰۔ شاہ ولی اللہ،قطب الدین ، القول الجمیل،(مترجم اردو: حاجی محمد زکی)، ص ۶۷۔
۱۳۱۔ چراغ دہلی، نصیر الدین محمود ،مفتاح العاشقین،مرتب :حضرت خوا جہ محب اللہ ؒ(مشمول: ہشت بہشت ، علامہ شکیل مصطفٰی اعوان،ص ۶۳۹۔
۱۳۲۔ گنج شکر،فرید الدین،اسرارالاولیاء،مرتب : حضرت خوا جہ بدر الدین عینی ؒ (مشمول: ہشت بہشت ، علامہ شکیل مصطفٰی اعوان ص ۲۳۸
۱۳۳۔ مہاجر مکی،امداد اللہ ؒ،کلیات امدادیہ، ص ۱۵
۱۳۴۔ گیسو دراز،محمد،بندہ نواز، یازدہ رسائل ،(مترجم اردو: قاضی احمد عبدالصمد چشتی)، ص ۲۰۵
۱۳۵۔ مہاجر مکی،امداد اللہ ؒ،کلیات امدادیہ، ص ۱۳
۱۳۶۔ ایضاً، ص ۱۸
۱۳۷۔ ایضاً، ص ۱۹
۱۳۸۔ شاہ ولی اللہ،قطب الدین ، القول الجمیل،(مترجم اردو: حاجی محمد زکی)، ص ۶۸
۱۳۹۔ گیسو دراز،محمد،بندہ نواز، یازدہ رسائل ،(مترجم اردو: قاضی احمد عبدالصمد چشتی)، ص ۲۰۵
۱۴۰۔ مہاجر مکی،،امداد اللہ ؒ،کلیات امدادیہ، ص ۱۹
۱۴۱۔ ایضاً، ص ۱۷
۱۴۲۔ مہاجر مکی،امداد اللہ ؒ،کلیات امدادیہ، ص ۲۰
۱۴۳۔ ایضاً، ص ۲۱
۱۴۴۔ گیسو دراز،محمد،بندہ نواز، یازدہ رسائل ،(مترجم اردو: قاضی احمد عبدالصمد چشتی)، سیرت فاؤنڈیشن ، لاہور ،۲۰۰۳ء ص ۲۰۵، ۲۰۶، ۲۰۷۔
۱۴۵۔ مہاجر مکی،امداد اللہ ؒ،کلیات امدادیہ، ص ۲۵۔
۱۴۶۔ ایضاً، ص ۲۸۔
۱۴۷۔ گیسو دراز،محمد،بندہ نواز، یازدہ رسائل ،(مترجم اردو: قاضی احمد عبدالصمد چشتی)، ص ۲۱۰۔
۱۴۸۔ “سورۃ الاحزاب:۳۳:۵۱”
۱۴۹۔ مہاجر مکیؒ، امداد اللہ کلیات امدادیہ، ۴۲۔
۱۵۰۔ گیسو دراز،محمد،بندہ نواز، یازدہ رسائل ،(مترجم اردو: قاضی احمد عبدالصمد چشتی)، ۲۱۷۔
۱۵۱۔ “سورۃ النساء ۴:۱۲۶”
۱۵۲۔ شاہ ولی اللہ،قطب الدین ، القول الجمیل،(مترجم اردو: حاجی محمد زکی)، ص ۷۰
۳ ۱۵۔ ملفوظات خواجہ نظام الدین اولیاء ؒ، ہشت بہشت، ص ۵۴۲
۱۵۴۔ القشیری، عبدالکریم بن ہوازن ، رسالہ قشیریہ، ادارہ احکام القراان، لاہور، ۲۰۰۷ء، ص ۲۴۴
۱۵۵۔ سلطان باہوؒ، سلوک صوفیاء، فقر فخر محمدی ﷺ، مرتب الطاف حسین ، شبیر برادرز لاہور، ۲۰۰۳ء، ص ۲۶۴
۱۵۶۔ شبیر حسن ، چشتی ،سیرت پاک حضرت خواجہ سید محمد گیسو دراز بندہ نوازؒ، عظیم اینڈ سنز پبلشرز لاہور، ۲۰۰۲ء، ص ۱۳۵
۱۵۷۔ القشیری، عبدالکریم بن ہوازن ،رسالہ قشیریہ، ص ۲۴۶
۱۵۸۔ مہاجر مکی ،امداد اللہ ؒ،کلیات امدادیہ، ص ۲۹
۱۵۹۔ ایضاً،ص ۳۰
۱۶۰۔ شبیر حسن،نظامی ، سیرت حضرت گیسو دراز بندہ نوازؒ، ص ۱۳۵
۱۶۱۔ سلطان باہوؒ، سلوک صوفیاء و فقر فخر محمدی ﷺ، مرتب الطاف حسین ، شبیر برادرز، لاہور، ۲۰۰۳ء، ص ۲۶۷
۱۶۲۔ “سورۃ العلق ۹۶:۱۴‘‘
۱۶۳۔ گیسو دراز،محمد،بندہ نواز، یازدہ رسائل ،(مترجم اردو: قاضی احمد عبدالصمد چشتی)، ص ۲۱۸
۱۶۴۔ ایضاً، ص ۲۱۹
۱۶۵۔ “سورہ رحمن ۵۵:۲۵تا۲۶ـ”
۱۶۶۔ مہاجر مکی ،امداد اللہ ؒ،کلیات امدادیہ، ص ۳۱۔
۱۶۷۔ “سورۃ الحدید ۵۷:۳”
۱۶۸۔ ـ”سورۃ اخلاص۱۱۲:۱ـ”
۱۶۹۔ گیسو دراز،محمد،بندہ نواز، یازدہ رسائل ،(مترجم اردو: قاضی احمد عبدالصمد چشتی)، ص ۲۲۰
۱۷۰۔ ایضاً، ص ۲۲۲
۱۷۱۔ ایضاً، ص ۲۲۳
۱۷۲۔ محمد عبدالصمد ، چشتی،اصطلاحات صوفیاء ، دلی پرنٹنگ ورکس، دہلی جنوری ۱۹۲۹ء، ص ۷۳
۱۷۳۔ عبدالقدوس ؒ،گنگوہی ، مکتوبات قدرسہ کپتان واحد بخش سیال، الفیصل ناشران و تاجران کتب لاہور، ۲۰۱۰ء، ص ۹۳
۱۷۴۔ محمد عبدالصمد ،چشتی، اصطلاحات صوفیاء، ۷۳
۱۷۵۔ غلام فرید ؒ بنام مقابیس المجالس جمع و ترتیب مولانا رکن الدین الفیصل ناشران و تاجران کتب لاہور، ص ۱۰۱
۱۷۶۔ قطب الدین ،دمشقی،امداد سلوک، ۷۶
۱۷۷۔ جیلا نی ،عبدالقادر ، آداب السلوک ،(مترجم اردو:ظفر اقبال کلیار)زاویہ، لاہور، ۲۰۰۰ء ،ص ۳۶
۱۷۸۔ المہاجرالمکی ،امداد اللہ ؒ،کلیات امدادیہ، ص ۳۴
۱۷۹۔ محمد عبدالصمد ، چشتی،اصطلاـحات صوفیاء، ص ۷۳
۱۸۰۔ ایضاً، ص ۱۱
۱۸۱۔ سمنانی ، اشرف جہانگیر ، لطائف اشرفی، ص ۵۷
۱۸۲۔ واحدبخش ,کپتان مقام گنج شکر، ص ۱۴۶
۱۸۳۔ صحیح بخاری، کتاب الرقاق، باب التواضع ، رقم الحدیث ۶۵۰۲
۱۸۴۔ محمد عبدالصمد ، چشتی،اصطلاحات صوفیاء، ص ۷۴
۱۸۵۔ عبدالقدوس ،گنگوہی ،مکتوبات قدوسیہ، ص ۳۳۷
۱۸۶۔ محمد عبدالصمد ، چشتی، ،اصطلاحات صوفیاء، ص ۷۴
۱۸۷۔ عبدالقدوس ،گنگوہی ،مکتوبات قدوسیہ، ص ۹۴
۱۸۸۔ غلام فرید ؒ ،مقابیس المجالس، ص ۱۰۲
۱۸۹۔ عبدالرحمن ،چشتی،مراۃ الاسرار، ص ۲۵۸
۱۹۰۔ عبدالقدوس ،گنگوہی ، مکتوبات قدوسیہ، ص ۳۰۳
۱۹۱۔ سمنانی ، سید اشرف جہانگیر ، لطائف اشرفی، جلد اول، ص ۶۷۱
۱۹۲۔ چشتی، حضرت خواجہ شاہ محمد عبدالصمد ،اصطلاحات صوفیاء، ص ۱۱
۱۹۳۔ “سورۃ یٰسین، ۳۶:۸۲”
۱۹۴۔ “سورۃ ق، ۵۰:۱۶”
۱۹۵۔ “سورۃ البقرہ، ۲:۱۸۶”
۱۹۶۔ “سورۃ انعام، ۶:۳”
۱۹۷۔ “سورۃ الواقعہ، ۵۶:۸۵”
۱۹۸۔ “سورۃ البقرہ، ۲:۱۱۵”
۱۹۹۔ “سورۃ الحدید، ۵۷:۳”
۲۰۰۔ “سورۃ المجادلہ، ۵۸:۷”
۲۰۱۔ “سورۃ النور، ۲۴:۳۵”
۲۰۲۔ بخاری، محمدبن اسماعیل ، ابو عبداللہ، صحیح بخاری،کتاب الرقاق، باب التواضع، حدیث ۶۵۰۲۔
۲۰۳۔ بخاری، محمدبن اسماعیل ، ابو عبداللہ، صحیح بخاری،کتاب توحید، باب قول تعالیٰ ،رقم الحدیث:۷۴۰۵
۲۰۴۔ صحیح مسلم ، کتاب ابرو الصلۃ والادب، باب فضل عیادت المریض رقم الحدیث۶۴۳۳۔
۲۰۵۔ گیسو دراز،محمد،بندہ نواز، یازدہ رسائل ،(مترجم اردو: قاضی احمد عبدالصمد چشتی)،ص ۸۸
۲۰۶۔ ایضاً،ص ۹۲۔
۲۰۷۔ گیسو دراز،محمد،بندہ نواز، شرح جوامع الکلم، (مترجم اردو: کپتان واحد بخش سیال) ،ص ۵۲۲
۲۰۸۔ ایضاً ،ص ۵۲۳
۲۰۹۔ ایضاً،ص ۵۲۵
۲۱۰۔ شمس الدین ؒ، سیالوی ،مرآۃ العاشقین، ؒ تصوف فائونڈیشن لاہور، ۱۹۹۸ء، ص ۲۷۵
۲۱۱۔ ایضاً، ص ۲۷۸
۲۱۲۔ ایضاً، ص ۲۸۴۲۱۳۔

عبدالقدوس ،گنگوہی ، مکتوبات قدوسیہ، ص ۱۳۷
۲۱۴۔ ایضاً، ص ۴۵۳۔
۲۱۵۔ واحدبخش ،کپتان ،تربیت العشاق ،ص ۶۵۰۔


	

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں