کائنات کی رگِ جاں 35

کائنات کی رگِ جاں

کائنات کی رگِ جاں

تحریر: عبدالوحید نظامی العظیمی

” غیب وشہود کی فراست اور معنویت کائنات کی رگِ جاں ہے ”
(حضور بابا تاج الدین ناگپوریؒ)

یہ روحانی فرمان ابدال حق، حسن اخری، حضور قلندر بابا اولیاء کے نانا شہنشاہ ہفت اقلیم بابا تاج الدین ناگپوری کا ہے یہ جملہ یا فرمان اپنے اندر تفکر کا ایک لامتناہی سمندر موجزن لیے ہوئے ہے ۔ یہ قرآن و حدیث اور روحانی علوم کا مکمل نچوڑ ہے اس کے اوپر تفکر الہامی کتب ، انبیاء کرام کی تعلیمات اور روحانی علوم کی تکمیل کر دیتا ہے ۔
اس فرمان میں صرف دو لفظ ہیں غیب و شہود ، لہٰذا غیب و شہود کو سمجھنا ضروری ہے ۔ پوری کائنات غیب و شہود کی وجہ سے زندہ ہے اور کام کر رہی ہے ۔ اگر کسی بھی ذی روح کی رگِ جاں کاٹ دی جائے یا ختم ہو جائے تو اس کا وجود بھی ختم ہو جاتا ہے ۔ اگر کائنات کے اندر سے غیب اور شہود نکال دیا جائے تو کائنات کا وجود زیر بحث نہیں رہتا ہے ۔ نانا تاج الدین ؒ کے فرمان میں غیب و شہود ہے کیا اس کو قرآن و حدیث اور سائنس کے تناظر میں دیکھتے ہیں قرآن کہتا ہے ۔یومنون بالغیب ،یعنی غیب پر ایمان لاؤ۔ غیب کے لغوی معنی جس کو نہ دیکھا جا سکتا ہو، پوشیدہ یا چھپی ہوئی ہو ظاہر نہ ہو یا باطن میں ہو ۔
شہود کے لغوی معنی جس کو دیکھا جا سکتا ہو جو سامنے ہو ، ظاہر ہو ہر وہ چیزجو ہماری حواس میں آکر معنی و مفہوم پیدا کرے شہود ہے ۔ مثلاً سورج ، چاند ، ستارے ، جمادات ، نباتات ، حیوانات ، ٹھوس ، مائع ، گیس ، روشنی یہ سب شہود ہیں ۔ گرائمر میں شاہد دیکھنے والے کو کہتے ہیں ۔ مشاہدہ دیکھنے کی صلاحیت ہے اور مشہود کا مطلب جس کو دیکھا جائے ۔ شاہد، مشہود اور مشاہدہ کی یکجائی کا نام شہود ہے ۔ گویا شہود کے اندر مادے کی تمام حالتیں آجاتی ہیں ۔ یعنی کائنات کا تمام مٹریل اور اس کے اجزاء شہود کے خواص کے حامل ہیں ۔ غیب دو مادی چیزوں کے درمیان فاصلہ ، خلاء ، اسپیس ، ٹائم ، زمان ،عصر یا دہر کا نام ہے ۔ گویا پوری کائنات صرف انہی دو اجزاء پر مشتمل ہے جن کو غیب و شہود کہا جائے گا اگر یہ دونوں اجزاء نہ ہوں تو کائنات کا وجود باقی نہیں رہتا ہے ۔ فاصلہ ، خلاء ، زمانہ ، اسپیس ، عصر، ٹائم ، دہر یا غیب پر ایمان روحانی علوم کا اصل جزو ہے ۔ایمان کا مطلب ہے غیب مشاہدہ بن جائے ۔ غیب و شہود کی چند اصطلاحیں درج ہیں ۔
غیب کُن ہے………………………………..شہود فیکون ہے
غیب زمان ہے………………………………شہود مکان ہے
غیب وقت ہے……………………………..شہود مادہ ہے
غیب لاشعور ہے…………………………..شہود شعور ہے
غیب نسمۂ مفرد ہے……………………..شہود نسمۂ مرکب ہے
غیب منفیت ہے…………………………..شہود مثبیت ہے
غیب صفت حی ہے……………………..شہود صفت قیوم ہے
غیب لا علمی ہے…………………………شہود علم ہے
غیب صفت باطن ہے…………………..شہود صفت ظاہر ہے
غیب لا ہے………………………………….شہود اِلاّ ہے
غیب نور مفرد ہے……………………….شہود نور مرکب ہے
غیب قلم ہے………………………………شہود لوح ہے
غیب موت کی کیفیت ہے………….شہود زندگی کی حالت ہے
غیب دائرہ ہے…………………………..شہودمثلثہے
غیب صفت اول ہے…………………..شہود صفت آخر ہے
غیب ربوبیت ہے……………………..شہود عبودیت ہے
غیب اندھیرا ہے………………………شہود روشنی ہے
غیب ایمان ہے…………………………شہود اقرار ہے
غیب وحدت ہے………………………شہود کثرت ہے
غرض آپ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات اور سائنس کی تمام اصطلاحات ان دو خواص پر لاگو کر کے یعنی اس کی معنویت اور فراست کو حاصل کر کے سمجھیں تو ہم کائنات کی حقیقت سے واقف ہو سکتے ہیں ۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وہ موت سے زندگی نکالتا ہے اور زندگی کو موت سے ۔ وہ دن کو رات سے نکالتا ہے اور رات کو دن سے ظاہر کرتا ہے ۔
آپ کائنات کا مشاہدہ کریں تو آپ کو حرکت صرف مادی اشیاء میں نظر آئیں گی ۔ سورج ، چاند ، ستارے ، جمادات ، حیوانات ، نباتات ، روشنی ، گیس ، مائع ، ٹھوس اشیاء غرض پوری کائنات کا مٹریل حرکت میں ہے ۔ اور اس حرکت کے لیے اگر فاصلہ ، خلاء ، اسپیس ، ٹائم نہ ہو تو کوئی چیز نہ تو حرکت کر سکتی ہے اور نہ آگے بڑھ سکتی ہے ۔ قیام یا ساکن حاکت ، فاصلہ یا خلاء یا ٹائم کی ہے یعنی جب ہم چلتے ہیں تو ہمارا ایک پاؤں مادہ یعنی زمین پر ہوتا ہے اور دوسرا پاؤں خلاء ، زمان یا غیب میں ہوتا ہے۔ دوسرا پاؤں جب مادے یعنی زمین سے ملتا ہے تو پہلا پاؤں زماں ، خلاء یا غیب میں داخل ہو جاتا ہے اور ہم آگے بڑھتے ہیں ۔ اسی طرح مادہ اور غیب کائنات کی بنیادیا رگِ جاں بنتے ہیں ۔
جب آدمی لکھتا ہے تو قلم مادہ یعنی کاغذ سے ٹکراتا ہے تو وہ ایک لفظ لکھتا ہے ۔ دوسرا لفظ لکھنے کے لیے قلم کو غیب ، خلاء یا اسپیس میں لے جانا پڑتا ہے ۔ اگر قلم خلاء یا غیب میں داخل نہ ہو تو دوسرا لفظ وجود میں نہیں آ سکتا ۔ جب انسان بولتا ہے تو زبان مادہ یعنی دانتوں اور تالو سے ٹکراتی ہے تو وہ ایک لفظ بولتا ہے دوسرا لفظ بولنے کے لیے اسے زبان کو خلاء یا غیب میں لے جانا پڑتا ہے اور گفتگو کا سلسلہ چلتا ہے ۔
اگر ہم غیب و شہود کی معنویت اور فراست کو کوئی نام دیں تو اس کو حرکت اور قیام یعنی حی و قیوم بھی کہہ سکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی صفت کا مطلب زندگی دینے والا زندگی حرکت کا نام اور حرکت ہمیشہ مادے کے اندر ہو گی ۔ قیوم کا مطلب قائم رکھنے والا ، کسی بھی نظام کو قائم کرنے والا ہے ۔ جب کسی قائم کسی نظام کو قائم رکھا جاتا ہے تو وہ اصل حالت میں قیام ہوتا ہے ۔ قیام کا مطلب ٹھہرنا ،رکنا ، یا ساکن ہونا ، حالت سکون میں رہنے والی چیز ہی قائم رہتی ہے ۔ قیامت کا مطلب بھی ٹھہرنا یا سکون میں آنا ہے ۔ قرآن میں آیۃ الکرسی میں اللہ فرماتے ہیں کہ وہ ہی حی القیوم ہے یعنی حرکت اور قیام میں اسکی صفات کام کر رہی ہے ۔ حرکت ظاہر ہے اور قیوم باطن ہے ۔ ان صفات کا اصطلاحی نام بابا تاج الدین ناگپوریؒ نے غیب و شہود رکھا ہے۔ غیب و شہود روحانی اور سائنسی فارمولوں کا نام ہے ۔ چونکہ غیب سے ہی شہود وجود میں آتا ہے لہٰذا ہر شہود کا ایک غیب ہے۔ مثلا ً اگر ٹھوس اشیاء شہود ہیں تو اس کا غیب مائع ہے ۔
مائع کا غیب گیسز (Gases) ہے گیسوں کا غیب روشنی ہے ۔ روشنی کا غیب نور ہے نور کا غیب تجلی ہے اور تجلی کا غیب صفات ہیں اور صفات کا غیب فیکون ہے ۔ فیکون کا غیب کُن ہے ۔ کُن کا غیب ارادہ ہے ارادہ کا غیب امر ہے امر کا غیب ذات کا حصہ ہے ۔ اس کا مطلب واضح ہو جاتا ہے کہ غیب و شہود اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کا نام ہے اور یہی کائنات کی رگِ جان ہے ۔ یہ مسلسل تفکر اللہ تک لے جاتا ہے ۔ نانا تاج الدین ؒ فرماتے ہیں ۔
انبیاء اور روحانی طاقت رکھنے والے انسانوں کے کتنے ہی واقعات اس کے شاہد ہیں کہ ساری کائنات کے اندر ایک ہی لاشعور کار فرما ہے اس کے ذریعے غیب و شہود کی ہر لہر دوسری لہر کے معنی سمجھتی ہے ۔ چاہے یہ دونوں لہریں کائنات کے دو کناروں پر واقع ہیں ۔ غیب و شہود کی فراست اور معنویت کائنات کی رگِ جاں ہے ہم اس رگِ جاں میں جوخود ہماری اپنی رگِ جاں بھی ہے تفکر اور توجہ کر کے اپنے سیارے اور دوسرے سیاروں کے آثار و احوال کا انکشاف کر سکتے ہیں ۔ انسانوں اور حیوانوں کے تصورات ، جنات اور فرشتوں کی حرکات و سکنات ، نباتات و جمادات کی اندرونی تحریکات معلوم کر سکتے ہیں ۔
مسلسل توجہ دینے سے ذہن کائناتی لاشعور میں تحلیل ہو جاتا ہے اور ہمارے سراپا کا معین پرت انا کی گرفت سے آزاد ہو کر ضرورت کے مطابق ہر چیز دیکھتا ، سمجھتا اور شعور میں محفوظ کر دیتا ہے ۔
مندرجہ بالا تحریر کے اندر جس چیز پر زور دیا گیا ہے وہ تفکر اور توجہ ہے ۔ تفکر اور توجہ کو ہم معنویت اور فراست بھی کہہ سکتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں اگر ہم غیب و شہود کے اندر تفکر اور توجہ مرکوز کر دیں تو ہمارا ذہن کائنات کے لاشعور یعنی اللہ کے شعور سے ہم آہنگ ہو کر روح کے ذریعے کائنات کی ہر چیز کو بمہ اس کی صفات میں ادراک کر لے گا ۔
اب ہمیں غور کرنا پڑے گا کہ تفکر اور توجہ کیا ہے یا دوسرے لفظوں میں فراست کیا ہے اور معنویت کیا ہے ۔ اس بات کا جواب بھی حضور بابا تاج الدین ناگپوری ؒ ان الفاظ میں دیتے ہیں ۔
’’ میں کہہ چکا ہوں کہ تفکر ، انا اور شخص ایک ہی چیز ہے ۔ الفاظ کی وجہ سے ان میں معانی کافرق نہیں کر سکتے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر انا ، تفکر اور شخص ہیں کیا؟ یہ وہ ہستی ہیں جو لاشمار کیفیات کی شکلوں اور سراپا سے بنی ہیں مثلاً بصارت ، سماعت ، تکلم ، محبت ، رحم ، ایثار ، رفتار ، پرواز وغیرہ ۔ ان میں ہر ایک کیفیت ایک شکل اور سراپا رکھتی ہے ۔ قدرت نے ایسے بے حساب سراپا لے کر ایک جگہ اس طرح جمع کر دیئے ہیں کہ الگ الگ پرت ہونے کے باوجود ایک جان ہو گئے ہیں ۔ (تذکرہ باب تاج الدین ، صفحہ ۲۱۰،۲۱۱)
نانا تاج الدین ناگپوری ؒ نے اس فرمان میں روحانیت کے سالکین کے لیے ایک مکمل فارمولا بیان فرما دیا ہے جو کسی بھی انسان کو غیب و شہود یعنی کائنات کے اندر داخل کر دیتا ہے ۔ جب ہمارے حواس ، دیکھنا ، سننا ، چکھنا ، سونگھنا ، محسوس کرنا اور اس سے پیدا ہونے والی تمام کیفیات جب یک جان یعنی ایک نقطہ پر مرکوز ہو جائیں توجہ کا یہ عمل بندے کے غیب کو شہود میں بدل دیتا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

کائنات کی رگِ جاں” ایک تبصرہ

  1. Need To Order Cialis [url=https://oscialipop.com]Cialis[/url] Bdtniz Our calculations show that the forces exerted on the joint and by the muscle are large. Cialis Buy Strong Viagra Uk 64 https://oscialipop.com – Cialis There were a few exceptionsin Dorotea Bocchi succeeded her father to begin a year stint as Professor of RUSSIA HAD MORE WOMEN DOCTORS IN THAN ALL OF WESTERN EUROPE COMBINED Medicine and Philosophy at the University of Bolognabut by the th century the bar was in place at most European universities.

اپنا تبصرہ بھیجیں